سب سے پہلے آپ یہ حقیقت ذہن نشین کر لیجیے کہ زندگی پھولوں کی سیج نہیں ہے۔ اس میں ہمیشہ خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اور دکھوں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔یاد رکھیے کہ زندگی دکھ سکھ کا متزاج ہے۔ تلخی اور شیرینی کا ا?میزہ ہے۔ اتار چڑھاﺅ کا نام ہے بلندی اور پستی کا نام ہے۔ یہ پھولوں کی سیج بھی ہے اور کانٹوں کا بستر بھی۔ خوشیاں اور غم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ زندگی ایک سچائی ہے خواب نہیں۔۔۔! اس میں مشکلات بھی ہیں آسانیاں بھی۔ زندگی نشیب و فراز سے عبارت ہے ! دوسری بات جو میں آپ کے ذہن نشین کرانا چاہتا ہوں، وہ یہ ہے کہ دنیا مسائل اور مصائب کا گھر ہے۔ دنیا میں کوئی کسی نہ کسی مسئلے میں الجھا ہوا ہے۔ ہر کسی کو کوئی نہ کوئی مشکل درپیش ہے۔ مسائل میں فرق ہو سکتا ہے اعداد و شمار میں نہیں۔۔۔ مسائل اور مشکلات کے کئی روپ ہیں۔ مثلاً۔:کوئی جائیداد کے تنازعے میں الجھا ہوا ہے اور کوئی ہمسائے سے دست و گریباں ہے۔ کسی کو معاشی فکر لا حق ہے اور کوئی سیاسی مسائل میں گھیرا ہوا ہے۔۔۔ کوئی گھر دکھ سے خالی نہیں۔ راقم الحروف نے نوجوانی کے دنوں میں ایک کتاب میں پڑھا تھا۔۔۔:”زندگی ایک صداقت ہے ایک حقیقت ہے۔ یہ جابر و ظالم نہیں ہے لیکن ہم اس کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔ بہت سے مسائل کو ہم خود دعوت دیتے ہیں۔ جان بوجھ کر اپنی گردن مسائل کے پھندے میں پھنساتے ہیں۔ رائی کا پہاڑ بنا لیتے ہیں۔ غیر ضروری مصروفیات میں وقت ضائع کرتے ہیں۔ محنت سے جی چراتے ہیں۔جب یہ تسلیم کیا جا چکا ہے کہ زندگی میں مسائل اور مصائب کا سامنا سبھی کو کرنا پڑتا ہے تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم ان کا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں۔ ؟ میرا آزمودہ کلیہ ہے کہ اگر ہم اپنے مسائل اور الجھنوں کا سبب جان لیں تو ہم بڑی آسانی سے ان پر قابو پا سکتے ہیں ان پر غالب آ سکتے ہیں۔ انہیں خوش اسلوبی سے سلجھا سکتے ہیں۔ مشکلات کا شمار نہ تو انعامات میں کیا جاتا ہے اور نہ جرم و سزا میں یہ ہمارے افعال کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کا سامنا کرنا چاہیے۔ دنیا میں کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کا حل نہ ہو کوئی مشکل نہیں جو آسان نہیں ہو سکتی ضرورت صرف قوت ارادی، خود اعتمادی اور سوجھ بوجھ کی ہے صبر و تحمل اور برداشت کی ہے۔ مشکلات ہماری دشمن نہیں ہماری دوست ہیں ہمارا حوصلہ بڑھاتی ہیں ہماری خود اعتمادی اور قوت ارادی میں اضافہ کرتی ہیں ہمیں مقابلے کی دعوت دیتی ہیں۔ ان سے خوف مت کھائیے بلکہ ان کا استقبال کیجیے۔آپ دولت مند بننے کے خواہش مند ہیں یا لیڈر بننے کے آرزو مند ہیں۔۔۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔۔۔ مشکلات ہر راہ میں ہیں۔۔۔ ہر شعبہ حیات میں ہیں۔۔۔ان سے بچنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔۔۔ پر سکون رہیے ہر مشکل میں پر سکون رہیے۔! (ایم- آر- کوپ میئر کی تصنیف ”آپ چاہیں ،تو امیر بن سکتے ہیں“ سے مقتبس)
ہر مشکل میں پر سکون رہیے…!
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پانچ سو ڈالر
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات



















































