جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

قاتلوں کی قاتل مشین ’’گلوٹین‘‘ ماضی کے اوراق کا ایک لرزہ خیز باب

datetime 15  اپریل‬‮  2015 |

’’گلوٹین سے1933 ء سے 1944ء تک قریباً 13,405 افراد کو قتل کیاگیا‘1943ء سے 1945ء میں یہ تعداد بڑھ کر7000ہو گئی ‘ 1945ء کے آغاز میں 800لوگ اس کا نشانہ بنے جن میں 400 جرمن شہری شامل تھے‘ یہ قاتل مشین آج بھی موجود ہے لیکن ہزاروں انسانوں کے خون سے رنگین گلوٹین مشین کو سزا دینے والا کوئی نہیں‘‘
گلوٹین مسکرایا اور اچھلتا کودتا دوستوں کے پاس جاپہنچا ۔دوستوں نے اچھلتے او رچہکتے گلوٹین کو دیکھا تو پوچھا’’یہ خوشی کیسی ‘ آج بہت خوش لگ رہے ہو‘‘گلوٹین نے فخریہ انداز میں اپنے کالر کو جھٹکا دیا اورپرجوش لہجے میں بولا’’ آج میں نے آسان موت کا طریقہ ایجاد کر لیا‘‘ دوستوں نے پوچھا ’’ و ہ کیسے؟‘‘ گلوٹین ایک بار پھر مسکرایا اور بولا ’’میں نے ایک ایسی مشین ایجاد کی ہے جس میں سر رکھتے ہی موت یقینی ہو جاتی ہے‘‘۔ شاید یہی وہ الفاظ تھے جنہوں نے اس قاتل مشین کو موجد کے نام پر ’’گلوٹین ‘‘کا نام دے دیا او ریہ آج بھی گلوٹین کے نام سے جانی جاتی ہے۔
گلوٹین مشین کی تاریخ فرانسیسی انقلاب سے بہت پہلے کی ہے مگر اس بات سے کوئی آشنا نہیں کہ یہ مشین کون سے سال اور کس تاریخ کو بنائی گئی البتہ اس بات پر تمام تاریخ دان متفق ہیں کہ اس کے موجد کا نام گلوٹین ہی تھا۔ گلوٹین جیسی ہی ایک مشین تیرھویں صدی عیسوی میں برطانیہ جرمنی اور اٹلی میں بھی موجود تھی وہ مشین کلہاڑے کے مشابہ تھی مگر گلوٹین جیسی ہی تھی ۔گلوٹین مشین سے قتل کرنے کا طریقہ کچھ یوں ہے کہ اس بنچ نما مشین پر مجرم کو لٹایا جاتا ہے‘ اس کی ٹانگیں کمر اور چہرے پر کپڑا چڑھا کر بیلٹ سے اس طرح باندھ دیا جاتا ہے کہ اس کے جسم کا کوئی بھی حصہ حرکت نہیں کر سکتا۔ اگر ہم ایک لمحے کیلئے اس صورتحال سے خود کو دوچار کریں تو سانس روکنے ٗ دل پھٹنے اور دھڑکن تیز ہونے لگتی ہے‘ مشین کے جس حصے میں انسان کی گردن ہوتی ہے وہ مشین کا ایک سرا ہوتا ہے‘ اسی سرے کے اوپر لوہے کاایک تیز دھار بلیڈ نصب ہے‘ فریم کے اوپری سرے کے ایک جانب ایک پلی نصب ہے‘ یہ پلی بلیڈ کو برق رفتاری سے نیچے یا اوپر آنے میں مدد دیتی ہے اور یہ بلیڈ جب بجلی کی سی تیزی سے نیچے آتاہے تو بنچ پر بندھے انسان کو ہمیشہ کیلئے اس فانی دنیا سے اگلی دنیا کیلئے اٹھا دیتا ہے۔ یوں مجرم قرار دئیے گئے انسان کی گردن تن سے جدا ہو کر گر جاتی ہے۔

مزید پڑھئے:بچپن میں خاندانی دباﺅنوجوانی میں موٹاپے کا باعث بن جاتا ہے

بنیادی طورپر یہ مشین سزائے موت کے قیدیوں کے لئے تیار کی گئی ہے۔ اس مشین کی تیاری کا مقصد یہ تھا کہ سزائے موت کے قیدی کو معمولی تکلیف کے بعد اس دنیا سے الوداع کیا جائے ۔ کہا جاتا ہے کہ25 اپریل1792ء کو نیکولس جاکس وہ پہلا شخص تھا جسے اس قاتل مشین گلوٹین کا سامنا کرنا پڑا‘ اس قتل کے بعد گلوٹین کو اس کام کیلئے مختص کر دیاگیا۔ گلوٹین کو اس دردناک عمل کے بعدسفاک اور تیز ترین قاتل کا نام دیاگیا‘ اسے انسانیت کش بھی کہا جانے لگا۔22فروری1943ء کوSophie schollاور اس کے بھائی ہنز کو گلوٹین کی مدد سے قتل کیاگیا ‘ٹھیک چاردن پہلے بہن بھائیوں کواس وقت گرفتار کیاگیا جب وہ جنگ مخالف اشتہارات تقسیم کررہے تھے‘ ان کو گرفتار کرنے والایونیورسٹی کا محافظ تھا جس کا نام Jakob Schmidتھا۔اس واقعہ کی اطلاع جب گسٹاپوکو دی گئی تواس نے انہیں پیش کرنے کا حکم جاری کیا گسٹاپونے انہیں اقرارجرم کیلئے کہا‘ انہوں نے اقرار جرم کے ساتھ نازیوں کے مظالم کی تفصیلی داستان سنا دی۔ اس نے نازیوں کے سفاکانہ اور دردناک مظالم کو عیاں کر دیا تھا‘ گسٹاپو نے لڑکے کی بہن سے کہا کہ اگر وہ تمام الزامات اپنے بھائی کے سرڈال دے تو اس کو معافی مل سکتی ہے لیکن بہن نے اس طرح کی معافی سے جان کا نذرانہ دینا مناسب سمجھا۔ اس نوعمر لڑکی نے موت کی پرواہ کئے بنا اپنے مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بہادری کا مظاہرہ کیا چنانچہ بہن اور بھائی نے کتابچوں اور اشتہارات میں نازی مظالم اور جرمن فوج کی شکست کے بارے میں حقیقت عیاں کر دی ۔ان کوغدار ی کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایاگیا ‘ان کی موت کا فیصلہ بھی گلوٹین کی مدد سے کیاگیا۔ ان نوجوانوں کی موت کے بعد اس واقع کے متعلق کتابیں لکھی گئیں‘ فلمیں بنائی گئیں اور ان کی یاد میں سیمینار منعقد کئے گئے۔ جرمنی میں ان دونوں بہن بھائی کے نام پر بے شمار سڑکوں ٗ محلوں اور چوکوں کے نام رکھے گئے۔اب جبکہ دونوں بھائی بہن جرمن عوام کے ہیروز تسلیم کئے جا چکے ہیں لیکن یہ بھی گلوٹین جیسی قاتل مشین کی بھینٹ چڑھ گئے۔
یہ مشین آج کل میونخ کے بیواریم نیشنل میوزم میں موجود ہے‘ اس قاتل مشین کے ملنے کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیاکہ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس مشین کو منظر عام پر لانا چاہئے تاکہ لوگوں کو اس قاتل مشین بارے مزید آگاہی حاصل ہو جبکہ دوسری طرف ایک طبقہ فکر کا خیال ہے کہ اس انسانیت کش مشین کو منظر عام پر لانا ہزاروں بے گناہ افراد کے قتل کو مذاق بنانے کے مترادف ہوگا۔فرانس کے ہزاروں لاکھوں لوگ اس گلوٹین کو دیکھنا نہیں چاہتے کیونکہ یہ ان کے پیاروں کی قاتل یہی گلوٹین ہے۔ گلوٹین سے1933 ء سے 1944ء تک قریباً 13,405 افراد کو قتل کیاگیا جبکہ1943ء سے 1945ء میں یہ تعداد بڑھ کر 7000ہو گئی اور 1945ء کے آغاز میں صرف چند ماہ میں 800لوگ اس مشین کا نشانہ بنے جن میں400جرمن شہری شامل تھے۔یوں یہ قاتل مشین آج بھی موجود ہے لیکن ہزاروں انسانوں کے خون سے رنگین اس مشین کو سزا دینے والا کوئی نہیں۔ کوئی ایسا حل نہیں جو ہزاروں لوگوں کی قاتل اس مشین کو عبرت کا نشان بنا دے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…