جو سماج افلاس اور جہالت کے دردناک عذاب میں مبتلا ہو وہ زندگی کا کوئی صحت مند خواب نہیں دیکھ سکتا اور نہ شاید اس کا حق ہی رکھتا ہے۔ ہم بار بار تعمیر و ترقی کا ذکر کرتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ تعمیر و ترقی کی باتیں اسی قوم کو زیب دیتی ہیں جو معاشی استحکام اور تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے تک پہنچ چکی ہو۔ اس سے پہلے تعمیر و ترقی کے امکانات پر غور کرنا دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوہ اور کچھ نہیں۔ ہم قومی حیثیت سے افلاس اور جہالت کے جس نقطے پر کھڑے ہیں وہاں سے تعمیر و ترقی کی منزل اتنی دور ہے، اتنی دور ہے کہ اس کے بارے میں سوچنا بھی اپنے آپ کو ہمت شکنی اور زبوں ہمتی کے آزار میں مبتلا کرنا ہے۔ ہم اپنی اس پسماندگی و درماندگی کے سلسلے میں قابلِ ملامت بھی ہیں اور قابلِ رحم بھی اور ایک حد تک قابلِ معافی بھی کیونکہ ہماری موجودہ زندگی کے پس منظر میں صرف غلامی ہی کی ایک صدی نہیں سماجی، اخلاقی، معاشی اور تعلیمی انحطاط کی بھی کئی صدیاں شامل ہیں اور ہمیں ماضی کے اس زبردست نقصان کی تلافی کے لیے جو مہلت ملی ہے وہ یقیناً بہت مختصر ہے اور اسی مختصر مہلت میں ہمیں صدیوں اور نسلوں کے قرضے چکانا ہیں لیکن اس معقول عذر کے باوجود ہم اپنی غیر ذمے داریوں کا کوئی جواز پیش نہیں کر سکتے۔ یہ عذر صرف اسی صورت میں قابلِ سماعت تھا جب ہم نے اپنے فرائض کو پوری طرح ادا کیا ہوتا۔ اصلاحِ حال کے لیے ہر وہ کوشش کی ہوتی جو ممکن تھی لیکن ظاہر ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ یہی نہیں بلکہ قوم کے بعض طبقوں نے تو اس نازک دور میں وہ طرزِ عمل اختیار کیا اور اختیار کیے ہوئے ہیں جس کو سہہ لینا ایک نوآزاد، پس ماندہ اور پریشاں حال قوم کے لیے کسی طرح بھی ممکن نہیں۔ اب سوچنا یہ ہے کہ پاکستان کی فاقہ کش اور درماندہ قوم ان مجنونانہ حرکات اور مجرمانہ رجحانات کی آخر کہاں تک متحمل ہو سکتی ہے۔ واقعی ہمیں اپنی قوتِ برداشت کا اندازہ لگانا چاہیے۔ جس ملک کی 37 فیصدی یا غالباً اس سے بھی کچھ زیادہ آبادی کے پاس رہنے کو گھر، پہننے کو کپڑا اور کھانے کو روٹی نہ ہو کیا اس ملک کے چند افراد کو ان عیاشیوں کا حق دیا جا سکتا ہے؟ اس سلسلے میں نہ کسی بحث کی گنجائش ہے اور نہ کسی سیاسی نظریے یا سماجی فلسفے کا حوالہ دینے کی ضرورت، یہ تو ایک بالکل صاف اور سادہ سی بات ہے۔ اس ملک کو آزاد کرانے میں قوم کے ہر طبقے نے حصہ لیا تھا۔ پاکستان پوری قوم کی قربانیوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اسے بھی چھوڑیے، اس بات کا جواب دیجیے کہ وہ کون سی منطق اور کون سا نظامِ اخلاق ہے جس کے پیشِ نظر چند بے ضمیر اورموقع پرست افراد نے پوری قوم کو لوٹنے اور کھسوٹنے کا حق پا لیا ہے اور سماج میں ان تباہ کن اور ہلاکت آفریں رجحانات کو فروغ دینے کی اجازت حاصل کر لی ہے جن کی موجودگی میں ایک شریف، صحت مند اور باضمیر سماج کے قیام کا تصور دیوانے کے خواب سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔یہ دور پاکستان کی زندگی کا بڑا نازک دور ہے۔ اگر اس دور میں سماج کی منفی قدروں کو استحکام حاصل ہو گیا تو یہ ملک نفسیاتی، اخلاقی، تہذیبی اور سیاسی اعتبار سے دیوالیہ ہو کر رہ جائے گا اور پھر اس کا ازالہ کسی طرح بھی ممکن نہ ہو سکے گا، لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ قوم کے بااثر طبقے نے ان زہرناک اور ہلاکت خیز قدروں کو سماجی زندگی میں بنیادی حیثیت دے دی ہے یہاں تک کہ اب ان قدروں کو حوالے کے طور پر پیش کیا جانے لگا ہے۔ چنانچہ آج پاکستان میں امیر اور غریب جیسے شرمناک الفاظ گفتگو میں بار بار استعمال کیے جاتے ہیں اور گویا اخلاقی اور سماجی طور پر اس بات کو تسلیم کر لیا گیا ہے کہ پاکستان میں دو قومیں آباد ہیں۔ ایک غریب اور ایک امیر، ایک کرسی نشین اور ایک خیمہ بردار۔ وہ قوم جو زندگی کا کوئی اعلیٰ تصور نہ رکھتی ہو، جو شرمناک جہالت اور المناک غربت میں مبتلا ہو، اس کے حق میں بااثر طبقے کا یہ اندازِ نظر اور طرزِ عمل نفسیاتی طور پر جس قدر مہلک ثابت ہوگا اس کا تصور مشکل نہیں۔ آج ہمارے ملک میں امیر سے امیر ترین بننے کی جو دوڑ ہو رہی ہے اس نے پوری قوم کے دماغ کو ماوف اور ذہن کو خراب کر دیا ہے۔ جو لوگ ملک کی ذہنی تعمیر و ترقی سے دلچسپی رکھتے ہیں، جنہیں اس قوم کے مستقبل سے ذرا بھی ہمدردی ہے انہیں اس صورتِ حال کے خلاف سخت احتجاج کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اہلِ قلم کا فرض ہے کہ وہ اعلیٰ سماجی تصورات اور اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کریں لیکن وہ تو اپنا یہ فرض پہلے ہی سے انجام دے رہے ہیں۔ قوم میں یہی تو ایک طبقہ ہے جس نے اپنے فرائض کو کبھی فراموش نہیں کیا، جس نے اس ملک میں آج تک صرف فرائض کی زندگی گزاری ہے۔ کسی اعلیٰ تصورِ حیات اور سماجی نصب العین کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی لہذا اس سلسلے میں قوم کے ذمے دار افراد کو سب سے پہلے جو کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ افلاس اور جہالت کے خلاف ایک ہمہ گیر اور طاقت ور مہم شروع کی جائے کیونکہ ہم اس وقت معاشی پستی، سماجی زبوں حالی اور تعلیمی پسماندگی کی جس منزل میں ہیں وہاں کوئی اعلیٰ تصورِ حیات اور کوئی بلند نصب العین ہمارے درد کا درماں نہیں بن سکتا۔ تعمیر و ترقی کا سفر اسی وقت شروع ہو سکتا ہے جب ہم موجودہ منزل سے کافی دور نکل جائیں۔ یہ ہے وہ بنیادی مسئلہ جس پر ہمارے اربابِ اقتدار کو سوچنا اور عمل کرنا ہے ورنہ خوش آئند باتیں کرتے رہنا ایک دلچسپ مشغلہ سہی لیکن ایک ہوش مندانہ اور نتیجہ خیز طریقِ کار ہرگز نہیں۔ قوم کو شاندار کوٹھیوں اور قیمتی کاروں کی کوئی ضرورت نہیں، اسے اسکولوں، کالجوں، تربیت گاہوں، شفاخانوں، لہلہاتے کھیتوں اور کارخانوں کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس انداز میں سوچنا ہے۔ سوچنا ہی نہیں عمل کرنا ہے کہ ان مسئلوں کے سامنے باقی تمام مسئلے ثانوی حیثیت رکھتے ہیں۔(جون ایلیا) ا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پانچ سو ڈالر
-
لیگی ایم پی اے کا اداکارہ مومنہ اقبال کو ہراساں کرنے کا معاملہ! اصل کہانی سامنے آگئی
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
اداکارہ مومنہ اقبال لیگی ایم پی اے ثاقب چدھڑ کی جانب سے ہراساں کرنے کے تمام ثبوت سامنے لے آئیں
-
پاکستان میں شدید موسم کا خطرہ، این ڈی ایم اےنے متعدد الرٹس جاری کر دیے
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
ملک بھر میں سونےکی قیمت میں بڑا اضافہ
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
-
عمران خان کی کانسٹی ٹیوشن ٹاور میں کروڑوں روپے کی 2جائیدادیں نکل آئیں
-
ایران امریکا مذاکرات کا اعلان،عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
یورپی ممالک جانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خبر آگئی
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات



















































