جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

قندھار میں 88دن! افغانستان پر امریکی حملہ روکنے کے لیے ایک جاسوس کی آخری کوشش؟

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

شمالی افغانستان کے کمانڈربھاری جسامت کے مالک ملا اختر محمد عثمانی کے ساتھ میری دوسری ملاقات تھی۔ یہ 2اکتوبر 2001کی بات ہے جب امریکا پر نوگیارہ کے حملوں کے بعد حالات کا دباؤ بڑھتا جارہا تھا۔ صدر جارج ڈبلیو بش 20ستمبر کو اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں طالبان کو دھمکی چکے تھے کہ یا طالبان القاعدہ کی قیادت امریکاکے حوالے کردیں یا پھر اس انجام کے لیے تیار ہوجائیں جو امریکا القاعدہ کے لیے طے کرچکا ہے۔ اسلام آباد میں سی آئی اے کا اسٹیشن چیف ہونے کے ناتے پاکستان اور طالبان کے زیر انتظام افغانستان کی ذمے داریاں میں ہی سنبھالتا تھا اور اسی لیے میں طالبان کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کررہا تھا

مزید پڑھئے:ہمیشہ بڑے خواب دیکھو اورانکا تعاقب کرومعجزوں پر یقین رکھنے والا باہمت نوجوان ’نک وو جائیسک

۔ 28ستمبر کو آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد آٹھ معروف مذہبی پاکستانی علما ء کے ہمراہ ملا عمر سے ملے۔ جنرل محمود کے بقول ’’ہم بندوقوں کا رخ موڑنا چاہتے تھے‘‘۔ جنرل محمود کا خیال تھا کہ اگرچہ اسامہ کے معاملے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی لیکن طالبان کی جانب سے کچھ ایسے اقدامات کیے جاسکتے ہیں جن کے باعث فوری خطرے کو ٹالنے میں مدد مل پائے گی۔


1134 copy

میں 15ستمبر کوملا عثمانی سے ایک ملاقات کرچکا تھا اور انھوں نے مجھے یہ کہا تھا کہ طالبان اسامہ بن لادن کی خاطر اپنے ملک کی قربانی نہیں دیں گے۔ عثمانی نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ وہ کیا کرنے کو تیار ہیں لیکن مجھے بہر حال واضح امکان دکھائی دے رہا تھا۔ صدر نے 20ستمبر کو اپنے خطاب سے قبل سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹینٹ کی جانب سے اس ملاقات کی رپورٹ پر خوشی کا اظہار کیا۔ خاص طور پر طالبان کی اسامہ کو پناہ دینے کی پالیسی میں تبدیلی کے مبہم امکانات کی وجہ سے اس میں دلچسپی بھی ظاہر کی تھی۔ ساتھ ہی ستمبر کے اواخر میں صدر اور ان کی کابینہ اس بات کی توقع کررہے تھے کہ طالبان کی قیادت کسی طرح ملاعمر سے ناتا توڑ کر امریکا کے مطالبات مان لیتے ہیں تو وہ افغانستان میں انھیں اپنا کردار ادا کرنے دیں گے۔ قومی سلامتی کی مشیر کونڈا لیزا رائس اور نائب صدر ڈک چینی سمیت سبھی اس بات پر متفق تھے کہ امریکا کو اپنی فوجی کارروائیوں کے دوران طالبان کی ساری قیادت کو نشانہ نہیں بنانا چاہیے کیوں کہ ایسا کرنے سے شاید طالبان کے مابین اختلافات پیدا ہونے کا امکان نہ رہے۔ ایک ہفتہ گزر گیا‘ اگرچہ ملا عمر اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے تھے لیکن میں واضح طور پر منظر تبدیل ہوتا دیکھ رہا تھا۔ اس وقت کوئی بھی یہ محسوس کرسکتا تھا کہ اب امریکا جنگ کے لیے تیاری کررہا ہے۔۔۔

ملا عثمانی کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بعد مجھے امید بندھی کہ طالبان قیادت کے مابین اختلاف کا بیج بویا جاسکتا ہے۔ میں کسی بڑی کامیابی کے امکان کو رد نہیں کرسکتا تھا۔ میں غور کررہا تھا کہ یہ کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے کہ طالبان شوریٰ اور کمانڈر ملاعمر کے فیصلے کو مسترد کرکے امریکا کے مطالبات منظور کرلیں اور اور اسامہ سمیت القاعدہ کے 14اہم راہ نماؤں کی حوالگی کے بدلے اپنی حکومت برقرار رکھیں۔ اس بحران کے اس طرح بہ آسانی ختم ہونے کا توقع بہت ہی دور کی بات تھی لیکن میرا خیال یہی تھا کہ کسی کم سے کم امکان کے باوجود کوشش جاری رہنی چاہیے۔ افغانستان میں برطانیہ اور روس کو جس تباہی کا سامناہو چکا تھا‘ میرا خوف یہی تھا کہ وہی ہمارا مقدر نہ بن جائے۔۔۔
مجھے کوئی واضح ہدایات نہیں دی گئیں تھی‘ نہ ہی کوئی مینڈیٹ‘ محض جارج ٹینٹ کی جانب سے ملاقات کی ایک زبانی اجازت تھی۔ مجھے اس بات کا خدشہ تھا کہ اگر میں اس حوالے سے واضح ہدایات کی درخواست کرتا تو اس صورت میں ہیجان انگیز ردعمل‘ الٹی میٹم اور تحکمانہ شرائط کا ایک تانتا بندھ جاتا اور طالبان اس ماحول میں ایسی کوئی بات سننے کے لیے تیار نہ ہوتے۔ اگر میں کسی ایسے فارمولے تک پہنچنے میں کام یاب ہوجاتا ہوں جس سے واشنگٹن کے مطالبات بھی پورے ہوجائیں اور وہ فارمولا طالبان کے لیے بھی قابل قبول ہوا تو اسے واشنگٹن میں اعلیٰ حکام کے سامنے رکھ دیا جائے‘ جس پر وہ اپنی مرضی کے مطابق جواب دے سکیں‘تاہم میرے سامنے یہ بات واضح تھی کہ اس سے میرے ملک کو کوئی گزند نہیں پہنچے گی۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا تھا کہ اگر میں کسی طرح ملاعثمانی اور دیگر طالبان قیادت کو ملا عمر سے متنفر کرکے امریکی مطالبات ماننے پر راضی کرلوں اور اس کے بدلے میں امریکا ان کی حکومت کی قانونی حیثیت قبول کرنے کا وعدہ کرلے۔ بعد میں اگر امریکا اپنے اس ’’معاہدے‘‘ سے منحرف بھی ہوجائے تو جو کچھ ہمیں حاصل کرنا تھا ہم کرچکے ہوں گے اور ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ملاعثمانی کے ساتھ کوئٹہ میں میری اور میرے ترجمان (جس کا نام ٹام سمجھ لیجیے)کی ملاقات کا اہتمام آئی ایس آئی نے کروایا۔

پاکستان کو اس عمل سے باہر رکھنا قریباً ناممکن ہی تھا لیکن میں نے اسے زیادہ سے زیادہ خفیہ رکھنے کی کوشش کی‘ یہ ممکن تھا کہ پاکستانی خفیہ ایجنسی ہماری نگرانی کے لیے کچھ ایسے ذرایع استعمال کرسکتی ہے جنھیں ہم انٹیلی جنس کی زبان میں ’’کوئیک پلانٹ‘‘ ٹرانس میٹرکہتے ہیں۔ میں نے کمرے کا اچھی طرح جائزہ لیا لیکن مجھے ایسا کوئی آلہ نہیں ملا۔ مجھے اس ریڈیو بزر پر شبہ ہوا جو چائے وغیرہ لانے پر مامور چپراسی کو بلانے کے لیے دیا گیا تھا۔ میں آئی ایس آئی کی عمارتوں میں ایسے آلے پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ میرے پاس یہ جاننے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ اس میں کوئی جاسوسی کا آلہ نصب ہے یا نہیں ‘اسی لیے میں نے اپنی تسلی کرنے کے لیے اس کی بیٹری نکال دی اور اسے غسل خانے کی دراز میں رکھ دیا۔ عثمانی جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے‘ ہماری ملاقات رسمی شکل اختیار کر گئی۔ ہم ترجمان کے ذریعے بات کررہے تھے۔ میں ایک پیراگراف بولتا تھا پھر انتظار کرتا تھا کہ ترجمان پوری بات میرے مخاطب تک پہنچا دے۔ گفتگو کی اس سست رفتاری کا یہ فائدہ ہوا کہ اس دوران مجھے اپنے دلائل جمع کرنے کا وقت مل جاتا تھا۔ جواب دیتے ہوئے مجھے اپنے سامنے بیٹھے لیڈر کی بدن بولی کا تفصیل سے جائزہ لینے کا موقع ملتا اور بعد میں ترجمان مجھے اس کی گفتگو کے مفہوم سے آگاہ کردیتا تھا۔ اس ماحول میں ہونے والی گفتگو شطرنج کی بازی کی شکل اختیار کرچکی تھی۔ اس کا آغاز تیز چالوں سے ہوا۔ میں نے بات یہاں سے شروع کی کہ ملا عمر نے اْسامہ کو افغانستان چھوڑنے کا نہ کہہ کر خود کو امریکا کا دشمن بنا لیا ہے۔

’’کیا باقی تمام طالبان بھی ملا عمر کی طرح امریکا کے دشمن بننا چاہیں گے؟‘‘ عثمانی میرا اشارہ سمجھ گیا اور براہ راست کہا:’’تم لوگ طالبان کو ہٹا کر مخالفین کو ان کی جگہ پر نہیں لاسکتے۔‘‘ میں نے کہا:’’دیکھیں! افغان ہی افغانستان کے لیے کوئی مستقل حل تلاش کرسکتے ہیں۔ امریکا مطلوبہ دہشت گردوں کے تعاقب کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ذمے دار افغان حکومت کے بغیر یہ مشکل ہوگا۔ اگر طالبان ایسی ذمے دار حکومت کا کردار ادا کرنے کو تیار ہیں تو یہ ہمارے لیے بھی قابل قبول ہوگا۔ اور اگر ایسا نہ ہوا تو جنگ ناگزیر ہوجائے گی۔۔۔ کوئی نہیں جانتا کہ پھر اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ لیکن اس موقع پر شروع ہونے والی جنگ کی صورت میں افغانستان کی تباہی اور طالبان کا خاتمہ یقینی ہے۔‘‘ فربہ جسامت کے مالک ملا عثمانی نے ہاتھ چلا چلا کر گفتگو کرنا شروع کردی۔ ’’افغانستان میں بن لادن کو اسلام کا دوسرا نام تصور کیا جانے لگا ہے۔ طالبان علیٰ الاعلان اسامہ کو امریکا کے حوالے نہیں کرسکتے بالکل ایسے ہی جیسے وہ اسلام نہیں چھوڑ سکتے۔ ملا عمر اور شوریٰ عربوں (القاعدہ) کو پسند نہیں کرتے اور وہ امریکا کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہیں لیکن امریکا کی جانب سے کھلے عام دھمکیوں نے ہمارے راستے مسدود کردیے ہیں۔ پھر عمر نے سب کے سامنے اسامہ سے وعدہ کیا ہے وہ آسانی سے اسے توڑنہیں سکتا۔ وہ بھی اس آدمی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے۔ لیکن اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ پانچ دن پہلے عمر نے اسامہ بن لادن کے پاس ایک پیغام رساں بھیجا تھا‘ جس میں اسے شوریٰ کا یہ فیصلہ یاد دلایا گیا تھا کہ افغانستان چھوڑ دے لیکن پیغام رساں یہ جواب لے کر آیا کہ اس معاملے کو تمھیں ہی دیکھنا ہوگا۔‘‘ اس کے بعد عثمانی نے ایک پیش کش کی:’’اگر تم چاہو تو میں اسامہ کا پتا لگا کر اسے قتل کردیتا ہوں۔ لیکن اس کے لیے میں اپنے لوگ استعمال نہیں کروں گا کیوں کہ ایسا کرنے سے یہ بات بہ آسانی عام ہوجائے گی۔ میرا کردار گم نام رہے گا۔ اس کے لیے مجھے بیرونی لوگ ڈھونڈنے ہوں گے اور اس میں وقت لگے گا۔‘‘ میں نے نفی میں سر ہلایا’’اس سے بات نہیں بنے گی۔ واشنگٹن اس پیش کش کو تاخیری حربہ سمجھے گا۔ شاید نوگیارہ سے پہلے وہ یہ بات ماننے کو تیار ہوجاتے۔ جس وقت ہم بات کررہے ہیں ‘

امریکا بھرپور جنگ کی تیاری میں مصروف ہے۔ کوئی خطرہ مول لیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ طالبان اور اپنے ملک کو بچانا چاہتے ہیں تو آپ کو کوئی نہ کوئی خطرہ تو مول لینا ہی ہوگا۔‘‘ عثمانی نے قدرے جذباتی انداز میں جواب دیا:’’تمہاری دھمکیوں نے سارا معاملہ بگاڑ دیا ہے‘افغان جذباتی ہوچکے ہیں۔‘‘ میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا: ’’ دھمکیاں دی جاچکیں‘انھیں واپس تو نہیں لیا جاسکتا۔ ماضی کو تبدیل کرنے کی کوشش کا کوئی حاصل نہیں۔ سوال یہ ہے کہ افغانستان کو کس طرح اس جنگ سے بچایا جائے۔‘‘ عثمانی کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے اور کرسی پر ٹیک لگا کر بیٹھ گئے‘ اچانک ان پر تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگے۔ کمرے کی فضاء پر خاموشی طاری ہوگئی۔ عثمانی نے اپنی پگڑی اتار کر ایک طرف رکھ دی اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا:’’تو پھر تم ہی کوئی حل بتاؤ!‘‘ مجھے وہ موقع مل گیا جس کی میں امید لگائے بیٹھا تھا۔۔۔ میں نے عثمانی کو ان کے ساتھیوں کے انداز میں مخاطب کیا:’’ملّا صاحب! آپ طالبان قیادت میں دوسرے نمبر پر تصور کیے جاتے ہیں۔ ہرکوئی آپ کا احترام کرتا ہے۔ آپ بے پناہ طاقت اور اثر رکھتے ہیں۔ آپ قندھار میں طالبان کی قیادت کرتے ہیں۔ آپ ہی اپنے ملک کو بچا سکتے ہیں۔ آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ملا عمر‘ اسامہ سے کیے گئے وعدے کی وجہ سے پابند ہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ خود بھی ختم ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ طالبان بھی۔ لیکن آپ یا طالبان شوریٰ کے دوسرے لوگ کسی ایسے وعدے کے پابند نہیں۔ اس سلسلے میں آپ ہی کوئی ضروری اقدام کرسکتے ہیں۔سب سے پہلے آپ اپنے سپاہیوں کی مدد سے قندھار کی اہم شاہ راہوں اور راستوں سمیت تمام سرکاری عمارتوں کا کنٹرول سنبھال لیں۔ جو بھی آپ کے خلاف مزاحمت کرے اسے گرفتار کرلیں۔ ان میں سب سے پہلے ملا عمر کو گرفتار کرنا ہوگا۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا کہ انھیں کسی قسم کی گزند پہنچائی جائے۔ لیکن انھیں کسی سے رابطہ رکھنے کی اجازت نہ دی جائے۔ آپ کا سب سے اہم ہدف شریعت ریڈیو کا کنٹرول حاصل کرنا ہوگا جو طالبان کا ترجمان ہے اور اس کے ذریعے سے فوری اعلانات کیجیے۔‘‘ میں نے عثمانی کو تجویز کیا کہ وہ افغان عوام کو یہ بتائے کہ وہ بنیادی طور پر افغانستان کے علما کی ہدایات پر عمل کروانا چاہتے ہیں اور یہ کام ہوتے ہی ملاعمر ہی دوبارہ حکومت کی قیادت کریں گے۔ ’’آپ یہ جواز دیں کہ ملا عمر نے چوں کہ علماء کے احکامات ماننے سے انکار کردیا اس لیے آپ کو مجبوراً اختیارات سنبھالنے پڑے۔‘‘ پھر میں نے کہا:’’اس کے ساتھ ہی آپ یہ اعلان کردیں کہ افغانستان میں مزید کسی عرب کو آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور القاعدہ سے افغانستان چھوڑنے کا مطالبہ بھی کردیں۔‘‘ اب میں اپنے اصل مدعا کی طرف بڑھ رہا تھا:’’اس کے فوری بعد آپ اسامہ بن لادن کے خلاف کارروائی کا آغاز کردیں۔ وہ اور اس کے ساتھی اس کارروائی کی شدید مزاحمت کریں گے اور اس کے نتیجے میں مارے جائیں گے۔ کسی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ اس کارروائی کے پیچھے آپ کا ہاتھ تھا۔ القاعدہ کے کئی دشمن ہیں۔ عرب جنگجو پہلے ہی آپ کے احکامات سن چکے ہوں گے اور جب انھیں معلوم ہوگا کہ بن لادن کو بھی ٹھکانے لگایا جاچکا تو انھیں واضح پیغام مل جائے گا۔ وہ بھاگ جائیں گے۔‘‘ ساتھ ہی میں نے عثمانی کو یہ بھی سمجھایا کہ اس منصوبے کے مطابق انھیں اسامہ کے 14قریبی ساتھیوں کو بھی فوری طور پر گرفتار کرکے ہمارے حوالے کرنا ہوگا‘ کسی کو اس بات کی کانوں کان خبر بھی نہیں ہوگی کہ وہ ہماری حراست میں کیسے آگئے۔ جب بہت سے عرب ملک چھوڑ کر فرار ہورہے ہوں گے تو لوگ یہی سمجھیں گے کہ وہ پڑوسی ممالک میں گرفتارہوگئے۔ ’’یہی وہ موقع ہے کہ آپ اپنے ملک کو بچا سکتے ہیں۔‘‘ اس کے بعد میں نے آخری نکتہ یہ رکھا:’’آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ یہ کام کرنے کے لیے ہم آپ کو کچھ بھی دینے کے لیے تیار ہیں۔‘‘ملا عثمانی اس بات کا یہ مطلب سمجھے کہ شاید میں انھیں اس کام کے بدلے میں کوئی بھاری معاوضہ دینے کی بات کررہا ہوں۔ عثمانی نے جواب دیا:’’مجھے کسی قسم کی مدد نہیں چاہیے۔‘‘

کمانڈر عثمانی کے تاثرات بہت واضح تھے اور معلوم ہوتا تھا کہ انھوں نے میرے منصوبے پر غور شروع کردیاہے۔ وہ اسامہ اور اس کے 14ساتھیوں کے خلاف میری مجوزہ کارروائی کرنے کے لیے تیار تھے۔ لیکن یہ بات ماننے میں عثمانی کو تردد تھا کہ آخر عربوں کو ملک بدر کرنے کا اعلان کیوں کیا جائے؟ میں نے یہ بات سمجھانے کی کوشش کی کہ طالبان اگر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ القاعدہ کو محفوظ پناگاہیں فراہم کرنے کے حوالے سے ان کی پالیسی تبدیل ہوچکی ہے تو اس کے لیے واضح اعلان کرنا ضروری ہوگا۔ اس کے بعد ہمارے مطالبات اور اپنی پالیسی پر عمل کرنے کے لیے جو بھی اقدامات کیے جائیں گے انھیں نتائج برآمد ہونے تک صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔ ان کارروائیوں کو خفیہ رکھنے کی پیش کش اس وقت اتنی مضحکہ خیز نہیں تھی جتنی آج محسوس ہوتی ہے۔ اس وقت افغانستان میں موبائل فون کا کوئی نظام نہیں تھا۔ پاکستان میں ان کے چند دفاتر کے علاوہ ان کے پاس انٹرنیشنل فون سروس کی سہولت بھی نہیں تھی اور نہ ہی افغانستان میں آزاد میڈیا کا کوئی وجود تھا۔ اس وقت افغانستان دنیا کے دوردراز تاریک گوشے کی طرح تھا۔ ملاعثمانی نے پوچھا: ’’ٹھیک ہے لیکن اگر ہم اسامہ اور القاعدہ کے حوالے سے اپنی پالیسی تبدیل کررہے ہیں تو اس صورت میں ہم دیگر عربوں کو اپنے ہاں پناہ کیوں نہیں دے سکتے؟‘‘ اب مجھے غصہ آنا شروع ہوگیا تھا :’’مٹھی بھر عربوں کی خاطر آپ پوری دنیا سے بڑھنے والے خطرات کیوں مول لینا چاہتے ہیں؟ آپ اپنی اوران لاکھوں افغانیوں کی فکر کیوں نہیں کرتے جو برسوں سے پناہ گزینوں کی زندگی گزار رہے ہیں۔‘‘ عثمانی نے ہنستے ہوئے آہستگی سے اپنا سر ہلایا اور کہا:’’تم ٹھیک کہتے ہو!‘‘ میں موضوع پر رہنا چاہتا تھا:’’دیکھئے! ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ سوویت یونین کے جانے کے بعد ہم نے افغانستان کو تنہا چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کی۔ ہم یہ غلطی دوبارہ نہیں کریں گے۔ ایک دوست افغان حکومت کے لیے جو دہشت گردوں کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑی ہونے کو تیار ہو‘ امریکا بڑے پیمانے پر امداد فراہم کرے گا۔ ہم افغان مہاجرین کو وطن لوٹنے میں مدد فراہم کریں گے۔ ‘‘ اس وقت میں تنہا یہ بات نہیں کررہا تھا۔ کچھ دن پہلے ہی کونڈولیزا رائس نے افغانستان پر ہونے والی گھنٹوں پر محیط ایک بریفنگ میں یہ بات کہی تھی کہ امریکا کو طویل عرصے تک افغانستان سے معاملات طے کرنے ہوں گے۔ عثمانی نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اور کہا’’بہت اچھا! میں تمہارا تجویز کردہ منصوبہ عمر کے سامنے پیش کردیتا ہوں۔‘‘

یہ سنتے ہی قریب تھا کہ میں کرسی سے گر پڑتا کیوں کہ یہ تو بات کچھ سے کچھ ہونے جارہی تھی۔ میرا مجوزہ منصوبہ عثمانی کے لیے تھا‘ ملا عمر کے لیے نہیں۔ اس کے باوجود میں نے سوچا کہ میری توقع کے برخلاف اگر ملا عمر اس تجویز پر راضی ہوگیا تو ہمارے لیے اس میں بھی فائدہ ہی تھا۔ میں نے عثمانی پر نظریں جماتے ہوئے کہا کہ ملا عمر یہ تجویز قبول کرلیں اس کا امکان کم ہی ہے‘ اگر ایسا ہوا تو عثمانی کو میرے بتائے ہوئے طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے معاملات اپنے ہاتھ میں لینا ہوں گے۔ ملاعثمانی نے فیصلہ کن انداز میں میری جانب دیکھااور کہا:’’ایسا ہی ہوگا۔‘‘ اچانک عثمانی کے چہرے پر اطمینان کے آثار نمایاں ہوگئے۔ انھوں نے کھڑے ہوکر پشتونوں کے روایتی انداز میں مجھ سے معانقہ کیا۔ میں نے انھیں ایک سیٹلائٹ فون دیا اور ہم نے وقت معین کرنے کے بعد دوبارہ اس معاملے پر بات کرنے پر اتفاق کیا۔ ملا عثمانی کی تجویز پر ہم نے ایک پاکستانی کرنسی نوٹ کو دو حصوں میں پھاڑ کر ایک ایک ٹکڑا اپنے پاس رکھ لیا تاکہ مستقبل میں ہم کسی پیغام رساں کی مدد سے رابطہ کریں تو یہ نشانی رہے۔ اس کے بعد ہم کمرے سے باہر نکل کر ہال میں پہنچ گئے جہاں آئی ایس آئی کے میزبان اور دیگر طالبان حکام بھی ہمارے ساتھ شامل ہوگئے۔ ہمارے لیے بکرے کے گوشت اور چاول کے بھاری بھرکم کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ کھانے کی بھاری مقدار کے باوجود ایسے رسمی کھانوں میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ میں نے نوٹ کیا کہ عثمانی نے پورے ذوق و شوق کے ساتھ کھانا کھایا۔ کھانا ختم کرتے ہی عثمانی نے روانگی کی تیاری شروع کردی۔ اسی دن پاکستان میں طالبان کے سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد سے کوئٹہ پہنچنا تھا اور اس کے بعد عثمانی نے ملا ضعیف کے ساتھ اگلی صبح 3اکتوبر کو براستہ سڑک قندھار جانا تھا۔ جاتے جاتے میں نے ایک بار پھر عثمانی سے 4اکتوبر تک دوبارہ رابطہ کرنے پر اصرار کیا۔ عثمانی نے گرم جوشی سے مجھے گلے لگایا اور رخصت ہوگئے۔

4اکتوبر کو میں نے سی آئی اے حکام کو ملا عثمانی کے ساتھ تین گھنٹے تک ہونے والی ملاقات کی دس صفحات پر مبنی رپورٹ بھیجی۔ وہاں سے موصول ہونے والا جواب میری توقع سے زیادہ مثبت تھا۔ جواب میں یہ کہا گیا تھا کہ اگر طالبان میری تجویز ماننے کو تیار ہوجاتے ہیں تو (سی آئی اے) ہیڈ کوارٹر مجوزہ منصوبے کو پالیسی سازی کے لیے پیش کرنے کے لیے آمادہ ہوجائے گا۔ اس پیغام کا لہجہ واضح کررہا تھا کہ پالیسی سازی کی دنیا میں مبہم امکانات کی بنیاد پر فیصلے نہیں کیے جاتے۔ لیکن آج 13سال گزرنے کے بعد جب امریکا افغانستان سے نکلنے کی تیاری کررہا ہے‘ ہم سلطنت کو وسعت دینے کے اس نصابی فارمولے پر دو لاکھ سے زائدجانی اور اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرچکے ہیں۔ توپالیسی سازی کے لیے ٹھوس حقائق مد نظر رکھنے چاہئیں لیکن آج جب ہم دیکھتے ہیں تو اس وقت اس جنگ کو روکنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں جس پس و پیش کا مظاہرہ کیا گیا اس کا کوئی جواز قابل قبول نظر نہیں آتا۔ 6اکتوبر کوملا عثمانی نے مجھے کال کی۔ ٹام نے اس کی ترجمانی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ ملا عمر سے مل چکے ہیں اور وہ ایک پیغام دینا چاہتے ہیں۔ عمر جلد ہی کچھ اعلانات کرنے پر آمادہ ہیں‘ لیکن وہ اعلانات ہمارے مطالبات کے مطابق نہیں ہوں گے‘

اس سے پہلے امریکی دھمکیوں کی وجہ سے افغان عوام میں پیدا ہونے والے غصے کو ٹھنڈا کرنا ہوگا۔ میں نے عثمانی کو بتایا:’’ان باتوں کا وقت گزر چکا ہے۔ اگر ملاعمر ہمارے مطالبات فوری طور پر پورے نہیں کرتے تو افغانستان کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ اب فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے اگر آپ ہماری تجویز کے مطابق اقتدار اپنے ہاتھ میں لے لیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ اس بات پر دوسری جانب دیر تک خاموشی رہی اور اس کے بعد عثمانی نے 7اکتوبر کی دوپہر تک دوبارہ رابطہ کرنے کا کہا۔ مجھے یاد ہے کہ یہ وہی دن تھا جب امریکی افغانستان پر پہلے فضائی حملے کی تیاریاں کررہے تھے۔ میں دن بھر عثمانی کے وعدے کے مطابق کال کا انتظار کرتا رہا۔اسی روز افغانستان کے وقت کے مطابق رات گئے جنگی طیاروں کا پہلا دستہ کابل اور قندھار پر کروز میزائل برسا رہے تھے۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…