دھاندلی ‘جوڑ توڑ ‘میل ملاقات ‘الزامات اور بریف کیسوں کی بازگشت میں سینیٹ الیکشن ہوگئے‘ خوب لے دے ہوئی‘کھانے کھلائے گئے‘ تین جسم(پی پی پی‘جے یو آئی ف‘اے این پی) ایک جان ہوئے‘اوئے نواز شریف اور اوئے زرداری کہنے والے خان صاحب کو 22ویں ترمیم کے صدقے میاں نواز شریف کی تعریف کرنی پڑی اور آصف علی زرداری کو فون کرنا پڑا‘ پھر اسی نواز شریف کو 22ویں ترمیم کے ڈرامے کا خالق قرار دیا اور زرداری کو ہارس ٹریڈنگ کا طعنہ!خیر اللہ کی کرم نوازی اور خیبر پختونخوا میں زبردست پہرے داری کے باعث خان صاحب کے 6سینیٹرز پاک سر زمین پر طلوع ہوئے‘ زرداری صاحب جو کہ سینیٹ انتخابات سے قبل ہی پیپلز پارٹی کو سینیٹ کی سب سے بڑی پارٹی قرار دے چکے تھے واقعی 27سیٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر آگئے‘ اسلام آباد اور پنجاب میں کلین سویپ کے ساتھ مسلم لیگ ن کی سیٹیں 26تک جا پہنچیں ‘ ایم کیو ایم 8‘مولانا فضل الرحمان 5‘عوامی نیشنل پارٹی 7‘آزاد امیدوار 6اور اسی طرح پختوخوا ملی عوامی پارٹی 3‘بی این پی عوامی3 ‘بی این پی مینگل 1‘ق لیگ 4اور جماعت اسلامی 1نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی ‘فاٹا میں الیکشن کی رات دو بجے جاری ہونے والے صدارتی حکم نامے نے غیر معینہ مدت کیلئے سینیٹ انتخابات کو ملتوی کردیا‘خیر اب سینیٹ میں چیئر مین شپ اور ڈپٹی چیئر مین شپ کیلئے 12مارچ کو الیکشن ہونگے‘ پیپلز پارٹی عددی اکثریت کی بنا پر چیئر مین شپ کی دعوے دار ہے اور مسلم لیگ ن کو کو بار بار یہ پیغام دے رہی ہے کہ شرافت سے چیئر مین شپ ہمارے حوالے کردیں ورنہ آپ زرداری صاحب کو تو جانتے ہی ہیں؟جبکہ مسلم لیگ ن حکمران جماعت ہونے کے ناطے صرف ایک سیٹ کی کمی کو اپنے حق حکمرانی کی راہ میں رکاوٹ ماننے کو تیار نہیں لہٰذا ن لیگ دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کر رہی ہے لیکن زرداری صاح اس معاملے میں پہلے ہی ہوم ورک کیے بیٹھے ہیں اور ابھی تک کی صورتحال میں پیپلز پارٹی ‘ اے این پی ‘ جمعیت علماءاسلام ف ‘ایم کیو ایم اور ق لیگ شائد ایک اتحاد کے طور پر سامنے آئیں ‘مولانا فضل الرحمان اورآصف زرداری کے درمیان سیاست سے ہٹ کر دوستی کا رشتہ بھی ہے
مزید پڑھئے:شیعہ عالم دین نے حوثیوں کے خلاف ’جہاد‘ واجب قرار دے دیا
جس کا اظہار مولانا ماضی میں کرچکے ہیںاور یکم مارچ کو زرداری صاحب نے 22ویں ترمیم کے حوالے سے کہا تھا کہ اے این پی ‘ جے یو آئی اور پی پی پی کا موقف ایک ہی ہے‘ گزشتہ دور حکومت میں یہ تینوں جماعتیں اتحادی بھی رہی ہیں‘ ایم کیوا یم اور پیپلز پارٹی نے سندھ میں نہ صرف اپنے دو دو سینیٹرز بلا مقابلہ منتخب کرائے بلکہ سندھ میں ایم کیو ایم کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کر کے تمام سیٹیں دونوں جماعتیں لے اڑیںاور ماضی کی کنگز پارٹی یعنی ق لیگ کے پاس آج بھی 4سینیٹر ز ہیںاور ق لیگ حب زرداری میں نہ سہی لیکن بغض نواز میں اپنے چاروں ارکان کی حمایت سے زرداری صاحب کو ضرور نوازے گی ‘ صرف انہی جماعتوں کے ووٹ ملا لئے جائیں تو زرداری اینڈ کمپنی کی پوزیشن انتہائی مستحکم نظرآتی ہے اور ووٹوں کی کل تعداد 51تک جاپہنچتی ہے‘خان صاحب کا کردار پاکستانی سیاست میں 30اکتوبر 2011ءکے بعد سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے جسے وہ اکثر دوسری جماعتوں پر لعن طعن کرکے‘خیبر پختونخوا اسمبلی توڑنے اور وفاقی حکومت کو مفلوج کرنے کی دھمکی دے کر اور اہم مواقع پر بائیکاٹ کرکے اداکرتے رہتے ہیںاور آج بھی سینیٹ میں اپنے 6ارکان کو منتخب کراکے چیئرمین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کا بائیکاٹ کرکے سکون محسوس کر رہے ہیں‘موصوف کا اب فرمان ہے کہ وہ کسی صورت پیپلز پارٹی یا ن لیگ کوووٹ نہیںدیں گے حالانکہ صرف ایک روز قبل خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے ممبران نے ن لیگ کے سینیٹر کے حق میں ووٹ ڈالے‘خان صاحب کی سیاسی سادگی پہ کون نہ مرجائے؟ اس موقع پر ایک پاکستانی فلم کا مشہور ڈائیلاگ یاد آتا ہے ”کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہو؟“اس طرح خان صاحب سے کوئی پوچھے ”ایوان میں نہیں بھیجنا تو منتخب کیوں کرواتے ہو؟“خیر بات ہورہی تھی کہ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین کے انتخاب کی تو زرداری صاحب بساط بچھا بیٹھے ہیں جبکہ ن لیگ زرداری کا توڑ ڈھونڈنے کی کاوشیں کر رہی ہے۔سینیٹ کا انتخاب ابھی ختم نہیں ہوا‘دیکھنا یہ ہے کہ حکمران جماعت چیئر مین سینٹ کی سیٹ حاصل کر پاتی ہے یا دو کے چکر میں ایک ڈپٹی سے بھی جاتی ہے؟۔۔ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔۔۔!!!



















































