بہت شور تھا ‘ سینٹ کے انتخابات ہونگے ‘ پیسہ چلے گا‘ سیاسی چال بازیاں ہونگی‘ میل ملاقاتیں ‘کچھ لو کچھ دو ‘پرانے اتحادی ناراض ہونگے نئے اتحاد بنیں گے‘ عمران خان کی سیاسی جماعت پہلی مرتبہ سینٹ انتخابات میں حصہ لے رہی تھی لیکن دھرنے میں کئے اٹل فیصلے کی بنا پرقومی اسمبلی اور پنجاب اور سندھ کی اسمبلی سے استعفے دیے بیٹھے تھے لہٰذا صرف خیبر پختونخوا اسمبلی سے سینٹ کے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا ‘ پیسے کی چمک دمک اور ووٹوں کی خرید و فروخت کے معاملے پر آواز اٹھانی شروع کی ‘ حکومت نے بھی سینٹ کے انتخابات کو شفاف بنانے کی خاطر شو آف ہینڈ ز کی تجویز دی ‘ 23فروری کو وزیر اعظم کی سربراہی میں وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سینیٹ انتخابات میں دھاندلی اور پیسے کی ریل پیل کو روکنے کی خاطر آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ کیا گیا ‘ حسب سابق دو کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جن کے ذمے سیاسی جماعتوں سے رابطے کرنا تھا ‘حکومتی کاوشوں کی تعریف عمران خان نے بھی کی ‘ عمران خان کا کہنا تھا کہ جو سنیٹر کروڑوں خرچ کر سینٹ میں آئے گا وہ عوامی خدمت کیا کرے گا ؟جبکہ 24فروری کو اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر سینٹ انتخابات شو آف ہینڈز کے ذریعے نہیں ہوسکتے ‘اسی لیے ایک بات تو طے ہوگئی کہ پیپلز پارٹی آئینی ترمیم کا حصہ نہیں بنے گی ‘ 25فروری کو حکومتی کمیٹی نے آئینی ترمیم کا مسودہ بھی پیش کر دیا جس میں بیلٹ پیپر پر ووٹر کا نام دینے اور اپنی پارٹی کے امید وار کے علاوہ کسی اور جماعت کے امید وار کو ووٹ دینے والے کو اسمبلی رکنیت سے بھی فارغ کرنے کی تجویز تھی ‘ اس آئینی مسودے میں آئین کے آرٹیکل 63-Aاور آرٹیکل 226میں ترامیم تجویز کی گئیں تھیں ‘ جن میں آرٹیکل 226میں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے ساتھ سنیٹر کو بھی شامل کیا جانا شامل تھا‘ 25فروری کو وفاقی وزیر اطلاعات سنیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا ’’ سینٹ انتخابات میں سب سے زیادہ دھاندلی کا شکار صوبہ خیبر پختونخوا ہے ‘ اس لئے عمران خان اس کو روکنے کیلئے اسمبلی میں آکر اپنا کردار ادا کریں ‘ ‘ دیگر جماعتوں کی مخالفت کے باوجود حکمران جماعت اور تحریک انصاف اوپن بیلٹ پر متفق تھیں ‘ مگر 27فروی کو وزیر اعظم کی زیر صدارت ہونے والے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں سیاسی جماعتیں آئینی ترمیم پر متفق نہ ہوسکیں ‘ جبکہ اجلاس میں تحریک انصاف نے آئینی ترمیم کی صورت میں اسمبلی میں واپس آنے کا عندیہ بھی دیا‘ 28فروری کو مولانا نے ایک بیان میں کہا کہ تحریک انصاف 22ویں ترمیم کو گائے کی دم کی مانند پکڑ کر اسمبلی میں واپس آنا چاہتی ہے ‘ اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے‘یکم مارچ کو پاکستانی سیاست کے گرو اور مفاہمت کے نام پر سیاسی سودے بازی میں مشہور سابق صدر جناب آصف علی زرداری اپنے دیرینہ رفیق مولانا فضل الرحمان کے پاس تشریف لے گئے اورکھانے کی زبردست دعوت کے بعد جب دونوں دوست میڈیا کے سامنے آئے تو حکومت کی مجوزہ آئینی ترمیم کو ہوا میں اڑا دیا‘آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم پر جمعیت علما ء اسلام (ف) ‘ عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلز پارٹی کا موقف ایک ہے‘ دھرنے والے دوست اسمبلی میں واپس جانا چاہتے ہیں ‘نواز شریف ہمارا فارمولا مان لیتے تو سب کچھ ہوسکتا تھا‘ یعنی آصف علی زرداری نے ایک بار پھر اپنی اہمیت کا احساس دلادیا‘2مارچ کو عمران خان اور آصف علی زرداری کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا مگر بات بن نہ پائی ‘ اور عمران خان نے آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمان کو ہارس ٹریڈنگ میں ملوث قرار دے دیا‘3مارچ کو وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید نے عمران خان کو 15کروڑ روپے آفر کرنے والے شخص کا نام بتانے کا مشورہ دیا اور اس شخص کا بھی جس کو 15کروڑ روپے سے زائد لے کر ٹکٹ دیا گیا ‘ یاد رہے کہ عمران خان نے خود میڈیا سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا تھا کہ انہیں ایک شخص نے سینٹ کے ٹکٹ کیلئے 15کروڑ روپے کی رقم دینے کی آفر کی تھی ‘ اب خبریں ہیں کہ موصوف شاہد خان آفریدی تھے جنہوں نے خان صاحب کو اس رقم کی پیشکش کی تھی ‘جبکہ دوسری طرف عمران خان نے پیسے لینے کی بات پر بیان دیا کہ اگر ثابت ہوجائے کہ انہوں نے پیسے لئے ہیں تو وہ سیاست چھوڑ دیں گے اور خیبر پختونخوا میں ہارس ٹریڈنگ کی صورت میں اسمبلی کو تحلیل کر دیں گے ‘ یہ دھمکی خان صاحب پہلے بھی کئی مرتبہ دے چکے ہیں ‘ ان بحثوں ‘سیاسی رابطوں ‘شطرنج کی چالوں میں سینیٹ انتخابات کا وقت آن پہنچا ہے ‘ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان انتخابات میں کون کون سے چھپے رستم کھل کر سامنے آتے ہیں ‘ کیونکہ یہاں تو سیاسی جماعتوں نے مطلوبہ ووٹ نہ ہونے کے باوجود اپنے امیدوار میدان میں اتار دیے ہیں جو شکوک کو جنم دیتے ہیں‘ کسی امیدوار کے دبئی میں کاروبار کی بات ہورہی ہے تو کوئی یہیں پر اپنے بریف کیس کھولے پھر رہا ہے‘ خیرانتخابات کا دن آن پہنچا ‘ کتنے گھوڑے میدان میں فاتح ہوتے ہیں اور کون اپنے گھوڑے کس طرح دوڑاتا ہے شام تک تمام صورتحال سامنے آجائے گی ‘ اور پھر ایک نئی بحث جنم لے چکی ہوگی‘ ایک نئے کمیشن کے مطالبے کی باتیں بھی ہوسکتی ہیں ۔۔۔عوام ایک نئی بحث کیلئے تیار رہیں۔۔



















































