جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینیٹ کی مراعات اور الاونسز میں اضافے کا بل منظور ہونے سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا

datetime 20  جون‬‮  2023 |

اسلام آباد (این این آئی)چیئرمین سینیٹ کی مراعات اور الاونسز میں اضافے کا بل منظور ہونے سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے بل پر وضاحت دیتے ہوئے کہا تھا کہ 1975 کے قانون میں موجودہ حالات کے مطابق ردو بدل کیا گیا ہے،

سہولیات پہلے سے دی جا رہی ہیں، سرکاری خزانے پر کوئی بوجھ نہیں پڑا تاہم حقائق چیئرمین سینیٹ کے دعوے کے برعکس نکلے، چیئرمین سینیٹ کی مراعات اور الاؤنسز میں اضافے کا بل منظور ہونے سے قومی خزانے پر بھاری بوجھ پڑے گا۔سینیٹ سے منظور کردہ بل کے مطابق چیئرمین سینیٹ کی رہائش گاہ کا کرایہ ایک لاکھ تین ہزار روپے سے بڑھا کر ڈھائی لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا، چیئرمین سینیٹ کی سرکاری رہائش گاہ کے فرنیچر کیلئے ایک بار کے اخراجات ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ روپے کر دیے گئے۔دفتر سے پانچ میل سے زیادہ سفر پر 10 روپے فی کلومیٹر کی بجائے پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے 300 اور نجی کار کیلئے 400 روپے فی کلومیٹر الاؤنس ملے گا۔سفر کے دوران رکنے پر 1750 روپے کے بجائے 10 ہزار روپے ملیں گے، چیئرمین سینیٹ چارٹرڈ جہاز پر بیرون ملک جاسکیں گے اور ساتھ میں چار اہلخانہ بھی سفر کر سکیں گے۔دوسری جانب چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی کو مراعات دینے کے معاملے پر پیپلز پارٹی میں بھی اختلاف رائے سامنے آگیا۔خورشید شاہ مراعات دینے کے حامی جبکہ سلیم مانڈوی والا مخالف نظر آئے۔خورشید شاہ نے کہاکہ پارلیمنٹ سب سے بڑا فورم ہے، چیئرمین اور اسپیکر کو مراعات ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے،

دوسرے لوگوں کو مراعات ملتی ہیں تو آپ کو اعتراض نہیں ہوتا کیونکہ وہاں تک آپ کی پہنچ نہیں ہوتی۔سلیم مانڈوی والا کہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کیلئے مراعات سے متعلق قانون سازی دو چار لوگوں کے درمیان ہوئی، انہوں نے دوسرے ممبران کو غلط معلومات دے کر بل پردستخط کروایا،

بل اسی طرح دو منٹ میں سینیٹ میں پاس ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ بل بھی غلط تھا اور طریقہ کار بھی غلط تھا جس سے سینیٹ کی بدنامی ہوئی، دستخط ایسے لیے گئے کہ ممبران کو بل ہی نہیں دکھایا گیا، ممبران کو کہا گیا کہ آپ کا فائدہ ہوگا مراعات ملیں گی اور ممبران نے دستخط کردیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…