جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آئی ایم ایف سے معاہدہ کے بعد بھی متبادل انتظام کرنا پڑیگا،پیشکش کو پلان بی کے طور پر لیا جائے ، ماہرین کا انکشاف

datetime 28  اپریل‬‮  2023 |

لاہور( این این آئی) پروفیشنل ریسرچ فورم کے چیئرمین سید حسن علی قادری نے اوپن مارکیٹ کرنسی ڈیلرز کی جانب سے اوور سیز پاکستانیوں سے24 ارب ڈالر کی بلا سود فنانسنگ کی پیشکش پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ ڈالرز کی قلت ختم ہونے تک ہماری معیشت کی سانسیں بحال نہیں ہو سکتیں

ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کی پیشکش کے قابل عمل ہونے کے حوالے سے بلا تاخیر مذاکرات کا اہتمام کیا جانا چاہیے ۔اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت ابھی بھی حالت نزاع میں ہے ، ایل سیز نہ کھلنے سے صنعتوں کو خام مال میسر نہیں جس کی وجہ سے ہماری مجموعی گروتھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے ۔ بہت سی صنعتوںمیں مکمل شفٹیں نہیں چل رہیں جس کی وجہ سے بیروزگاری میں بھی اضافہ ہو اہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کاآئی ایم ایف سے معاہدہ ہو بھی جاتا ہے تو یہ مسائل کا طویل المدت حل نہیں ہے ہمیں پھر بھی متبادل انتظام کرنا پڑے گا اور حکومت ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی پیشکش کو پلان بی کے طور پر لے اور اس پر سنجیدگی سے بلا تاخیر پیشرفت کی جائے ۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی تخمینے میں ماہانہ بنیادوں پر 500ملین ڈالر آنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے جس سے ہمارے کچھ نہ کچھ مسائل حل ہوں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…