ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

8 برس گزرگئے، اب پیشی پر آنے کے بھی پیسے نہیں، لاپتا شہری کی اہلیہ کی عدالت میں آہ و بکا

datetime 13  اپریل‬‮  2023 |

کراچی(این این آئی)سندھ ہائی کورٹ میں لاپتا شخص کی اہلیہ نے کمرہ عدالت میں آہ و زاری کرتے ہوئے کہاہے کہ برسوں سے ہم عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں، انصاف کی دہلیز پر انصاف نہیں مل رہا۔جمعرات کوسندھ ہائیکورٹ میں لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی۔کمرہ عدالت میں موجود لاپتا حسن دلاور کی اہلیہ نے کہا کہ

عدالتوں کے چکر لگاتے ہوئے 8 سال ہوگئے اب تو پیشی پر آنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے۔ قیامت کے دن انصاف فراہم کرنے والے اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے جبری لاپتا شہریوں کے اہلخانہ کو 5 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا تھا، حکومتی اعلان کے بعد بیٹی کی شادی کی تاریخ مقرر کی لیکن آخری وقت پر پیسے دینے سے انکار کردیا گیا۔انہوں نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شوہر نے جرم کیا ہے تو بچوں کو کس بات کی سزا دی جارہی ہے؟ ایک اور لاپتہ شہری کی اہلیہ نے بتایا کہ محمد ریاست اللہ کو 8 سال قبل بورڈ آفس کے قریب سے حراست میں لیا گیا، آج تک شوہر کی بازیابی کے لیے کبھی جے آئی ٹیز تو کبھی عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ثاقب آفریدی کی اہلیہ نے سماعت کے دوران کمرہ عدالت کو بتایا کہ اس کے شوہر کو ابوالحسن اصفہانی روڈ سے 2015 میں حراست میں لیا گیا تھا، ہماری 4 بیٹیاں ہیں اور ادارے نے تنخواہ بھی بند کردی ہے۔10 برسوں سے لاپتا محمد علی کی اہلیہ بھی کمرہ عدالت میں رو پڑی، انہوں نے بتایاکہ اب تک جے آئی ٹیز کے 24 اور صوبائی ٹاسک فورس کے 8 اجلاسوں میں پیش پوچکے ہیں۔انہوں نے دہائی دیتے ہوئے سوال کیا کہ ہمیں بتا دیا جائے بچوں کو لے کر انصاف لینے کے لیے کہاں جائیں؟ اپنے ہی ملک میں لاپتا افراد کے خاندانوں کو انصاف نہیں مل رہا۔جسٹس نعمت اللہ نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سماعت کے بعد لاپتا افراد کی بازیابی کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟جسٹس کے سوال پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ حراستی مراکز سے رپورٹس موصول نہیں ہوئیں۔

تفتیشی افسر کے جواب پر عدالت نے کہا کہ لگتا ہے اب آپ کے خلاف سخت ایکشن لینا پڑے گا۔عدالت نے ڈی آئی جی انویسٹی گیشن کو لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق تفصیلی رپورٹس سمیت 10 مئی کو طلب کرلیا۔عدالت نے سماعت ملتوی کرتے ہوئے وفاقی وزارت داخلہ، وزارت دفاع اور دیگر اداروں سے جواب طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…