بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

عامر لیاقت کے بچوں نے رمضان کی آمد پر والد کے نام جذباتی پیغام جاری کر دیا

datetime 23  مارچ‬‮  2023 |

کراچی (این این آئی)پاکستانی ٹی وی چینلز پر رمضان ٹرانسمیشن کی بنیاد رکھنے والے معروف میزبان مرحوم عامر لیاقت حسین کی سابقہ اہلیہ ڈاکٹر بشریٰ اقبال نے رمضان کی آمد پر ان کے بچوں کی جانب سے والد کے نام جذباتی پیغام شیئر کیا ہے۔بشریٰ اقبال نے ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر سابق شوہر مرحوم عامر لیاقت حسین کی وفات کے بعد پہلے رمضان پر اپنے بیٹے احمد اور بیٹی

دعا کا جذباتی پیغام پوسٹ کیا۔احمد عامر نے اپنے مرحوم والد کے نام پیغام میں جذباتی نظم لکھی کہ زندگی گلزار تھی آپ کی شخصیت سے، میٹھی تھی آپ کی پر مشفق گفتگو سے، بچپن سے جوانی تک کا سفر ہوا آپ کی انگلی پکڑ کے، آگے کی منزلوں میں ہاتھ خالی خالی لگیں گے، تنہائی میں گزارش ہوتی ہے آپ کے سائے کی، ہر گزرتے ہوئے لمحے، ہر جاگتے ہوئے پل، شدت سے محسوس ہوتی ہے کمی آپ کی، دعائیں تو کرتے رہیں گے آپ کیلئے تاحیات، مگر نہ بھلا پائیں گے بیتے لمحات، رمضان مبارک بابا۔عامر لیاقت کی بیٹی دعا نے اپنے مرحوم والد کی یاد میں طویل نوٹ لکھا جس کے مطابق اس سال رمضان المبارک ان کے خاندان اور ان کے لیے بہت مشکل ہے۔انہوں نے رمضان ٹرانسمیشن کے ناظرین سے مخاطب ہوتے ہوئے لکھا ہے کہ آپ سب نے مجھے میرے والد عامر لیاقت حسین کے ساتھ ٹیلی ویژن پر بڑا ہوتے دیکھا ہے، اس لیے یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ یہ والد کے بغیر ہمارا پہلا رمضان ہو گا۔

والد کو کھونے کا دکھ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا، خاص کر وہ جو ہر ایک کی زندگی میں ایک ایسی نمایاں شخصیت تھے جنہیں بھلایا بھی نہیں جا سکتا۔دعا نے لکھا کہ میرے والد نے رمضان ٹرانسمیشن کو متعارف کروایا، اگر وہ آج زندہ ہوتے تو وہ آج بھی بس یہی چاہتے کہ اپنے پروگرام کے ذریعے اپنے ناظرین کے درمیان اس ماہِ مبارک میں اسلام کی تعلیمات کو عام کریں۔

انہوں نے اپنے والد کیلئے دعا کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم عامر لیاقت کے مثبت پیغام اور ان کی خدمات کو یاد رکھیں، بے شک بابا اس رمضان اور آنے والے تمام رمضانوں میں ہمارے ساتھ نہیں ہوں گے لیکن وہ ہمارے دلوں اور دعا میں رہیں گے۔یاد رہے کہ رکنِ قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین گزشتہ برس 9 جون کو انتقال کر گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…