پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سوشل میڈیا پر کردار کشی، جج کے خاندان کا قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ

datetime 9  مارچ‬‮  2023 |

اسلام آباد(آئی این پی)سپریم کورٹ کے جج جسٹس مظاہر نقوی کے خاندان نے الزامات اور سوشل میڈیا پر کردار کشی کے معاملے پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کرلیا۔ایک نجی ٹی وی کے مطابق خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج پر بے بنیاد الزامات لگائے جارہے ہیں۔

منظم کردارکشی کے ذریعے جج کوبدنام کرنے کی کوشش کی گئی۔فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک ملزم سے اعترافی بیان کے ذریعے3 ججوں پرکرپشن کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ جسٹس مظاہراور اسکے خاندان پر کک بیک لینے کے بے ہودہ الزامات عائد کیے گئے، جج کا خاندان لگائے گئے الزامات کیخلاف قانونی چارہ جوئی کرے گا۔فیملی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ موجودہ نگران پنجاب حکومت میں موجود اہم شخصیات سپریم کورٹ کے جج کیخلاف منظم مہم چلارہے ہیں۔ ملزم کے اعترافی بیان میں ججوں پرلگائے الزامات بے بنیاد ہیں۔خاندانی ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر نقوی نے مونس الہی کی کبھی شکل بھی نہیں دیکھی جبکہ پرویزالہی سے صرف ایک بارملے، کسی کے پاس سپریم کورٹ کے معزز جج کیخلاف کوئی کرپشن کا ثبوت ہے تو پیش کرے۔جج کے خاندان کا کہنا ہے کہ کبھی کسی حکومت یا سیاسی پارٹی سے کوئی کنٹریکٹ یا کیس لیا ہو توثابت کریں۔ سپریم کورٹ کے معزز جج اپنے اوپرلگے الزامات پرہرطرح کی انکوائری کا سامنا کرنے کا تیار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…