سود کے خاتمے کیلئے حکومت اور اپوزیشن ایک ہو گئے پیپلز پارٹی نے سود کے خاتمے کیلئے حکومتی تجاویز مسترد کر دیں

  جمعرات‬‮ 8 دسمبر‬‮ 2022  |  11:03

اسلام آباد (آئی این پی)سینیٹ قائمہ کمیٹی فنانس میں سود کے خاتمے کیلئے حکومت اور اپوزیشن ایک ہو گئے،پیپلز پارٹی نے سود کے خاتمے کیلئے حکومتی تجاویز مسترد کر دیں،عائشہ غوث پاشا نے کہا ہے کہ سود کے خاتمے کیلئے مرحلہ وار کام کیا جائے گا، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے سود پر قرضہ لیتے ہیں جنہیں اصل رقم کے ساتھ ساتھ سود بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

ملک میں سودی نظام کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں، جن ممالک میں اسلامی بینکنگ کا نظام ہے ہم ان کے ساتھ مشاورت کررہے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر سلیم مانڈوی کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔اجلاس میں سنیٹر سعدیہ عباسی،دلاور خان اور فیصل سلیم رحمان موجود تھے جبکہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شرکت کی۔سینیٹر فیصل سلیم رحمان نے کہا کہ سب سے پہلے کمیٹی کے علم میں ایک معاملہ لانا چاہتے ہیں،نوشہرہ میں ایف بی آر کے ملازم اشفاق نے سینیٹر دلاور خان کا تمباکو اپنے قبضے میں لے لیا،تمباکو کو کسی اور کے گودام میں پہنچا دیا ہے،اس اقدام کا مقصد سینٹر دلاور خان پر کیس بنانا ہے،ہم اگر کمیٹی میں ایف بی آر پر بات کریں گے تو کیا یہ ہم پر کیس بنائیں گے۔اس موقع پر سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ایسے افسران ایف بی آر کی بدنامی کا سبب بنتے ہیں، تمباکو کے 36 بیگ ٹریکٹر میں جا رہے تھے،ٹریکٹر ڈرائیور پر بھی تشدد کیا گیا ہے،ہم پٹھان لوگ ہیں،ڈرائیور کل اسکا بدلہ لے سکتا ہے۔

سینیٹر دلاور خان نے کہا کہ ٹریکٹر اور تمباکو کو چھوڑ دیا گیا ہے،میں ایکشن لینے پر ایف بی آر چیئرمین کا مشکور ہوں۔چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ یہ واقعہ صوابی میں پیش آیا،اس پر مکمل ریٹن رپورٹ کمیٹی کو فراہم کی جائے گیہم قطعا کسی کو انتقامی کارروائی کا نشانہ نہیں بنائیں گے،میں کل اس پر مکمل رپورٹ پیش کروں گا،میں ابھی فون پر اس معاملے کو دیکھتا ہوں۔

چیئر مین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ آپ ابھی اس معاملے کو دیکھیں۔قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں وزیرمملکت برائے خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا نے وفاقی شرعی عدالت کے سود کے فیصلے کے خلاف اپیل واپس لینے پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے وفاقی شرکی عدالت سے کچھ حل طلب مسائل کے بارے میں بریفنگ لینی تھی لیکن بعد میں اس اپیل کو واپس لے لیا گیا۔

حکومت کمرشل بینکوں کے ساتھ ساتھ اسلامی بینکوں کو بھی فروغ دے گی ، ہم نے مالیاتی اداروں سے قرضے لینے ہیں جو ہمیں سود پر قرضے فراہم کرتے ہیں لیکن اسلامی نظام بینکنگ کو مرحلہ وار آگے بڑھایا جائے گا۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ملک کو جن معاشی چیلنجز کا سامنا ہے کیا یہ وقت درست ہے کہ غیر سودی بنکاری پر بات کی جائے؟

غیر سودی بنکاری سے پاکستان کو کونسے اسٹریٹیجک فوائد ملیں گے،ہمیں کوئی بھی فیصلہ عجلت میں نہیں کرنا چاہیے۔اسٹیٹ بینک کے حکام نے کہا کہ چند بنکوں کو روایتی بنکاری سے اسلامی بنکاری میں تبدیلی میں پانچ سال لگے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ آپ نے پہلے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی پھر وہ کیوں واپس لی گئی۔اسٹیٹ بینک کے حکام نے کہا کہ یہ ایک کمٹمنٹ ہے کہ ہم اسلامی بنکاری کی طرف بڑھیں۔

اس فیصلے کے خلاف اپیل وقت کی مہلت لینے کیلئے کی گئی تھی۔سینیٹر محسن عزیزنے کہا کہ بنکوں کی نئی برانچوں میں صرف اسلامی بنکنگ ہونی چاہیے،20فیصد انٹرسٹ ریٹ پر اسلامی بنکنگ کرنا نامناسب ہے،اس سے بہتر ہے کہ انٹرسٹ کو جاری رہنے دیا جائے۔ شوکت ترین نے کہا کہ ملائشیا، بحرین سمیت کئی ممالک اسلامی بنکنگ کر رہے ہیں،ہم اسلامی بنکنگ کی طرف جانا چاہتے ہیں تو ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے،اگر ہم کوئی ٹھوس متبادل نظام نہ لائے تو انٹرنیشنل انوسٹر اور کمپنیاں کام نہیں کر سکیں گے۔

اس کام میں سیاست کو نہیں لانا چاہیئے۔سینٹر کامل علی آغا نے کہا کہ ہمیں قرآن پاک کے حکم کو ایسے ہی لینا ہے جیسے ہے،اگر ہم اس پر کنفیوژ ہیں تو یہ منافقت ہے،اور منافقت واجبل القتل ہے،اگر اس پر عمل کرنا ہے تو فورا عمل کریں،نہیں تو اللہ کا عذاب وقت بتا کر نہیں آتا،ایسے لوگ بھی ہیں جو سود کے بغیر خوشحال زندگی بسر کر رہے ہیں، شیری رحمان نئی ونڈو کھولنے کی شوقین ہیں۔سعدیہ عباسی نے کہا کہ شیری رحمان جا چکی ہیں غیر موجودگی میں انکا تذکرہ مت کریں۔کامل علی آغانے کہا کہ کسی کو میری بات سے تکلیف ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا،اگر ہماری معیشت سود سے پاک ہو جاتی ہے تو ہم خوش قسمت ہوں گے۔



موضوعات:

زیرو پوائنٹ

چھوٹے چھوٹے فیصلے

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎

پشاور میں 30 جنوری کو پولیس لائینز میں خودکش حملہ ہوا‘ یہ حملہ انتہائی خوف ناک تھا‘ 103 لوگ شہید اور 217 زخمی ہو گئے‘ ایسے حملوں کے بعد پوری دنیا میں تفتیش اور تحقیقات شروع ہو جاتی ہیں اور یہ کام ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جو علاقے‘ لوگوں اور روایات سے واقف ہوتے ہیں اور جن کے لوکل ....مزید پڑھئے‎