وفاقی حکومت کی عمران خان کو مذاکرات کی دعوت

  جمعہ‬‮ 25 ‬‮نومبر‬‮ 2022  |  16:44

اسلام آباد (این این آئی) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ عمران خان نے آرمی چیف کی تعیناتی کو متنازع کرنے کیلئے مارچ کا ڈھونگ رچایا، ایجنسیوں کی رپوٹ کے مطابق عمران خان کو خطرہ ہے، ہفتہ کو راولپنڈی کا اجتماع ملتوی کیا جائے،جلسہ گاہ کی سیکیورٹی سے متعلق ایڈوائزی جاری کی گئی ہے، سخت سیکیورٹی کے احکامات دئیے گئے ہیں،

اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کو بھی آگاہ کردیا ہے،کہ اسٹیج کو ہر قیمت پر بلٹ پروف رکھا جائے اور اسٹیج پر داخلہ محفوظ بنایا جائے اوراسٹیج پر موجود لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے،یہ کوئی آزادی مارچ نہیں ہے، یہ فتنہ و فساد مارچ ہے، مارچ کو ملک میں نفرتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا،عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آئیں، سیاسی عمل کا حصہ بنیں، اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو مہنگائی، معاشی بدحالی اور سیاسی انتشار سمیت ہر چیز کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان کے جلسے کے دوران دہشت گردی ہو سکتی ہے، 26 نومبر کا جلسہ ملتوی کیا جائے، جلسہ گاہ کی سیکیورٹی سے متعلق ایڈوائزی بھی جاری کی گئی ہے، سخت سیکیورٹی کے احکامات بھی دیے گئے ہیں، اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما اسد عمر کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کو ریڈ الرٹ کے باعث راولپنڈی میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے مقام کے تمام داخلی اور خارجی راستوں پر سخت سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے، ہدایت کی گئی ہے کہ اسٹیج کو ہر قیمت پر بلٹ پروف رکھا جائے اور اسٹیج پر نہ صرف داخلہ محفوظ بنایا جائے بلکہ اسٹیج پر موجود لوگوں پر بھی نظر رکھی جائے۔انہوں نے کہا کہ سنگین خطرات سے متعلق ایجنسیوں کی رپورٹس ہیں، اگر انہیں ان رپورٹس سے متعلق شکوک و شبہات ہیں تو رپورٹس کی خود تصدیق کروالیں، اگر یہ ویریفائی ہوجائیں تو پھر اس پر عمل کریں۔وزیر داخلہ نے مارچ میں شرکت سے لوگوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ

ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی تحریک ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص نے جھوٹی آزادی کے نام پر ایک جد وجہد شروع کی، وہ شخص گالی گلوچ اور طعنہ زنی تک گیا، ایک سیاسی رہنما نے آرمی چیف کی تعیناتی کو بے وقعت کرنے لیے لانگ مارچ کا ڈھونگ رچایا۔انہوں نے کہا کہ یہ کوئی آزادی مارچ نہیں ہے، یہ فتنہ و فساد مارچ ہے، یہ پاکستان کی ترقی نہیں، تباہی کا مارچ ہے،

ملک میں سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے اور معیشت کو تباہ کرنے کا مارچ ہے، اس مارچ کو ملک میں نفرتوں کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔انہوں نے پی ٹی آئی کے حامیوں نے بھی اپیل کی کہ وہ پارٹی کو ووٹ ضرور دیں لیکن اس شیطانی عمل میں اس کا ساتھ نہ دیں، پارٹی کو اس کام سے روکیں اور اس میں کسی قسم کی معاونت نہ کریں، کسی شخص کے ذاتی مقاصد پاکستان کے مفاد سے بالاتر نہیں ہیں،

ملک کا مفاد سب سے بلند ہے۔انہوںنے کہاکہ عمران خان کو اب راولپنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی، اسٹیبلشمنٹ سے عمران خان کو انتخابات کی تاریخ نہیں لے کر دے گی، عمران خان نے الیکشن کی تاریخ لینی ہے تو پارلیمنٹ میں واپس آئیں، سیاستدانوں سے ڈائیلاگ کریں۔انہوں نے کہا کہ میں عمران خان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب اس لانگ مارچ کا کوئی مقصد نہیں ہے،

آپ کہتے ہیں کہ آپ الیکشن کی تاریخ کے لیے راولپنڈی آرہے ہیں، عمران خان، آپ کو پنڈی سے الیکشن کی تاریخ نہیں ملے گی، اگر عمران انتخابات کی تاریخ چاہتے ہیں تو انہیں سیاستدان بننا پڑے گا، عمران خان سیاست دانوں سے ملیں، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمن، اختر مینگل، خالد مگسی، خالد مقبول صدیقی سے ملیں، ان سے انتخابات پر بات کریں۔

انہوںنے کہا کہ اگر پی ٹی آئی چیئرمین چاہیں تو میں ان کی نواز شریف اور شہباز شریف سے ملاقات کرانے کیلئے اپنی خدمات پیش کرنے کیلئے تیار ہوں، امید ہے کہ وہ ملاقات کرنے سے انکار نہیں کریں گے، آپ کی یہ سوچ کہ مخالف جماعتوں کیساتھ نہیں بیٹھوں گا اس کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر بلیک میلنگ سے انتخابات کی تاریخ ملنی ہوتی تو مل چکی ہوتی،

ادارے کہتے کہ ان کو تاریخ دو اور جان چھڑا لیکن اب ایسا نہیں ہوگا، عمران خان نے پچھلے چند ماہ جو کچھ کہا کوئی آپ کی بلیک میلنگ میں نہیں آیا، اداروں نے اپنے آئینی کردار تک محدود رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں واپس آئیں، سیاسی عمل کا حصہ بنیں، اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو مہنگائی، معاشی بدحالی اور سیاسی انتشار سمیت ہر چیز کے ذمہ دار آپ ہوں گے،

عمران خان ضد چھوڑیں۔انہوں نے کہا کہ جب سیاست دان مل بیٹھتے ہیں تو ڈیڈ لاک ختم ہوتے ہیں اور فیصلے بدل جاتے ہیں، انہوں نے کہا حالیہ چند ماہ کے دوران ہی میں نے کئی فیصلوں کو بات چیت اور مذاکرات کے بعد تبدیل ہوتے دیکھا۔آئی ایس آئی میں سیاسی ونگ سے خاتمے کے حوالے سے سوال پر وزیر داخلہ نے کہا کہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی نہ کرنے کا فیصلہ ادارے نے کیا ہے،

اس حوالے سے بھی فیصلہ ادارے نے ہی کرنا ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق سیاسی معاملات میں ملوث نہ ہونے کا فیصلہ ادارے نے کیا جس میں نئے تعینات آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے اہم اور بنیادی کردار ادا کیا۔ انہوںنے کہاکہ پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں نے بھی لانگ مارچ کیا تھا لیکن کیا کبھی انہوں نے اپنے مارچ میں مسلح جھتے لاتے ہیں۔وزیر داخلہ نے کہا کہ

مسلم لیگ (ن)سمجھتی ہے کہ آئندہ انتخابات میں بہتر کارکردگی کیلئے اسے نواز شریف کی ضرورت ہے، نواز شریف کی وطن واپسی کا آرمی چیف کی تعیناتی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس سے قبل، پی ٹی آئی کے 26 نومبر کیلانگ مارچ کے حوالے سے امن وامان سے متعلق وزارت داخلہ میں اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعت کی جانب سے وفاق پرچڑھائی کے غیرقانونی اقدام کو روکنا

صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق اور اس کی اکائیاں مل کر کسی بھی غیر آئینی اقدامات کو روکنے کی پیش بندی کریں، چیف سیکرٹریز یقینی بنائیں کہ کوئی سرکاری ملازم وفاق پر چڑھائی کے کسی اقدام یا منصوبے کا حصہ نہ بنے۔وزیرمملکت برائے داخلہ عبدالرحمن کانجو ،وفاقی سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر، آئی جی اسلام آباد و چیف کمشنر اسلام آباد،

سکیورٹی ایجنسیز کے نمائندے شریک تھے جب کہ آئی جی کے پی پولیس معظم جاہ، چیف سیکریٹری، پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ اور قائم مقام آئی جی پنجاب آن لائن شریک ہوئے۔وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی زیر صدارت اجلاس میں پی ٹی آئی کے جلسے اور دھرنیکے حوالے سے حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔شرکا ء کی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ کو پی ٹی آئی اجتماع اور سیکیورٹی سے متعلق بریفنگ دی گئی،

اجلاس کے شرکا نے وفاق پرممکنہ حملے کی صورت میں آئین اور قانون کی مکمل پاسداری کرنے کی یقین دہانی کرائی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا ء اللہ خان نے کہا کہ سیاسی جماعت کی طرف سے وفاق پر چڑھائی کے غیرقانونی اقدام کو روکنا صوبائی حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے ،وفاق اور اسکی اکائیاں مل کر کسی بھی غیر آئینی اقدامات کو روکنے کی پیش بندی کریں۔



زیرو پوائنٹ

اب تو آنکھیں کھول لیں

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎

یہ14 جنوری کی رات تھی‘ پشاور کے سربند تھانے پر دستی بم سے حملہ ہو گیا‘ دھماکا ہوا اور پورا علاقہ لرز گیا‘ وائر لیس پر کال چلی اور ڈی ایس پی سردار حسین فوری طور پر تھانے پہنچ گئے‘ ان کے دو محافظ بھی ان کے ساتھ تھے‘یہ لوگ گاڑی سے اترے‘ چند قدم لیے‘ دور سے فائر ہوا‘سردار ....مزید پڑھئے‎