منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

ہمیں موروثی سیاست کرنیوالی جماعتوں سے جان چھڑانی ہے اور پاکستان میں صدارتی نظام لانا ہے حامد میر نے خفیہ ادارے کے سربراہ سے ہونیوالی بات چیت سے پردہ اٹھا دیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2022 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی ، اینکر اور کالم نگار حامد میر اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ ملک کا ایک سابق وزیراعظم ببانگِ دُہل امریکی ٹی وی چینل کو بتا رہا ہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں کے کچھ سرکش عناصر اُس کی پشت پر کھڑے ہیں۔ اگریہ بات نواز شریف

یاآصف زرداری نے کہی ہوتی تو اب تک ایک بہت بڑا طوفان آ چکا ہوتا۔عمران خان نے اپنے کچھ ناقدین کے اس مؤقف کی خود ہی تائید کر دی ہے کہ ان کی سیاست کسی انقلاب یا حقیقی آزادی کے لئے نہیں ہے بلکہ وہ خفیہ اداروں کے اندر موجود کچھ سُپر پیٹریاٹ لیکن سرکش عناصر کے سہولت کار ہیں۔یہ عناصر دراصل ایک مخصوص طرز فکر کے نمائندہ ہیں۔ 2011ء میں پہلی دفعہ ایک خفیہ ادارے کے سربراہ نے مجھے کہا کہ ہمیں موروثی سیاست کرنے والی جماعتوں سے جان چھڑانی ہے اور پاکستان میں صدارتی نظام لانا ہے۔ جب میں نے ان صاحب سے کہا کہ جو آپ کرنا چاہتے ہیں وہ آپ کا مینڈیٹ نہیں تو انہوں نے میرے ساتھ بحث شروع کر دی۔ بحث کا اختتام انتہائی ناخوشگوار ماحول میں ہوا جس کا خمیازہ میں نے کافی عرصہ تک بھگتا۔پچھلے سال ہم نے صدارتی نظام کی باتیں دوبارہ سننا شروع کیں۔ باخبر حلقوں میں ایک 30سالہ منصوبہ زیربحث تھا جس کے تحت اپریل 2022ء میں نئے آرمی چیف کی تقرری کے کچھ عرصہ بعد قبل از وقت انتخابات کرائے جانے تھے۔ان انتخابات میں عمران خان کو دو تہائی اکثریت دلوانی تھی اور پھر نئی قومی اسمبلی سے آئین میں ترامیم کرا کے پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں تبدیل کرنا تھا۔ پیپلزپارٹی سے کہا گیا کہ آپ گھبرائیں نہیں عمران خان صرف ایک ٹرم اور لیں گے، اگلی ٹرم آپ کو ملے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…