جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان کے قریبی ساتھیوں کے فوجی افسران سے رابطے حامد میر نے اہم انکشافات کر دیے

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانٹیرنگ ڈیسک)معروف صحافی اینکر اور کالم نگار حامد میر نے روزنامہ جنگ میں اپنے آج کے کالم میں لکھا ہے کہ کوئی مانے یا نہ مانے، سارا پھڈا نئے آرمی چیف کی تقرری کا ہے، ایک سال پہلے یہ پھڈا اس وقت شروع ہوا جب عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ وہ جنرل قمر جاوید باجوہ کو 2019ء میں تین سال کی توسیع دے چکے تھے لیکن اکتوبر 2021ء میں آئی ایس آئی

کے ڈی جی کی ٹرانسفر پر جنرل باجوہ کے ساتھ اختلافات پیدا ہوئے تو انہوں نے جنرل باجوہ کو قبل از وقت فارغ کرکے اپنے کسی ذاتی وفادار کو آرمی چیف بنانے کا فیصلہ کرلیا۔اب یہ کوئی راز نہیں رہا کہ عمران خان فوج کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنا چاہتے تھے، جب فوجی قیادت نے آئینی مجبوریوں کے نام پر استعمال ہونے سے انکار کیا تو خان صاحب سیخ پا ہوگئے۔ پھر تحریک عدم اعتماد آگئی تو جنرل باجوہ کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کی گئی جو ناکام ہوگئی۔اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان نے صدر عارف علوی کے ذریعہ ایک دفعہ پھر جنرل باجوہ کے ساتھ ڈیل کرنے کی کوشش کی اور جب کامیاب نہ ہوئے تو آرمی چیف سمیت کچھ دیگر افسروں پر براہ راست تنقید شروع کردی۔تین نومبر کو وزیر آباد کے قریب عمران خان پر قاتلانہ حملے کا افسوسناک واقعہ پیش آیا اور اگلی شام خان صاحب نے شوکت خانم ہاسپیٹل لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں چار گولیاں لگی ہیں۔

انہوں نے ایک فوجی افسر کا نام لے کر اس پر سنگین الزامات لگائے اور یہ بھی بتادیا کہ اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہو رہی۔ آئی ایس پی آر نے عمران خان کے الزامات کو بڑے سخت الفاظ میں مسترد کردیا۔

اسکے بعد تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم سواتی نے دھاڑیں مارمار کر ایک پریس کانفرنس کی۔ سواتی صاحب نے جو انکشاف کیا وہ ہمارے لئے نیا نہیں تھا۔ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ہمیں بتایا جاتا تھا کہ آصف زرداری، شہباز شریف، مریم نواز اور کچھ دیگر سیاستدانوں کی فلمیں بنائی گئی ہیں۔

اعظم سواتی کو انصاف ملنا چاہئے لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ جب تحریک انصاف کے کچھ رہنما اعظم سواتی کے معاملے میں کچھ فوجی افسران کو گھسیٹ رہے تھے تو اسی شام عمران خان کی کچھ قریبی شخصیات بعض فوجی افسران سے رابطے کرکے مفاہمت کے راستے تلاش کر رہی تھیں۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…