جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان کی فوج پر تنقید اور الزام تراشی بھارتی میڈیا کا پسندیدہ موضوع بن گیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کے الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا میں آج کل عمران خان کی طرف سے اپنی ہی فوج پر تنقید اور الزام تراشی موضوع بحث ہے۔اس کے ساتھ عمران خان کے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے بیان کا بھی حوالہ دیا جارہا ہے کہ پاکستان پھر تقسیم کی طرف جارہا ہے، بھارتی وی لاگرز کہہ رہے کہ 1971کے بعد پاکستان ایک بار پھر بٹوارے کی طرف جارہا ہے۔

عمران خان نے واضح تسلیم کیا ہے کہ مشرقی پاکستان جو جماعت جیتی اسی کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔اس بیان نے بھارت کو جواز دیا کہ مشرقی پاکستان کی تخلیق میں ان کا ہاتھ نہیں تھا۔روزنامہ جنگ میں رفیق مانگٹ کی خبر کے مطابق بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے اس بیان کو اپنے حق میں استعمال کیا جب کہ پاکستانی صارفین ان الفاظ میں جواب دیتے نظر آئے ’’عمران خان کا یہ حقائق کے منافی بھاشن ہے۔ 1970ء کے الیکشن میں مشرقی پاکستان میں مجیب نے جو 160؍ سیٹیں جیتی تھیں، وہ دہشتگردی اور قتل و غارت کے ذریعے جیتی گئی تھیں۔ان کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں تھی۔مکتی باہنی کے دہشتگردوں نے اپنے خلاف کسی کو کھڑا ہونے ہی نہیں دیا تھا۔وہ الیکشن ہی فراڈ تھے۔بنگلہ دیش مکتی باہنی کی وجہ سے الگ ہواجس کی مالی امداد اور تربیت بھارت نے کی تھی۔ انڈیا ٹوڈے کے پروگرام میں کہا گیا کہ عمران خان اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو تباہ کرنے کیلئے تیار ہے۔عمران خان اب براہ راست اس کے ساتھ ٹکراؤ پر ہیں اور دھمکی دے رہا ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ایک شہری اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہا ہو۔ تاہم وہ ڈرنے والی نہیں ۔امریکی جریدہ فارن پالیسی لکھتا ہے کہ سابق وزیر اعظم اس قوت کے خلاف ہوگئے جو کبھی ان کی حمایت کرتی تھی۔بھارتی تھنک ٹینک آبزروری ریسرچ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ پاکستان اور باہر کے بہت سے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران کو پاکستانی نظام میں کسی بہت طاقتور شخص کی حمایت حاصل ہے۔

اس طرح کی حمایت کے بغیر، اس قسم کی سرکشی ناقابل فہم ہے۔ سب اب عمران کے خلاف نظر آرہے ہیں یہ کہ عمران میگلومینیا کا شکار ہیں یعنی وہ اپنی جدوجہد اور اسلامی شبی ہیں کے درمیان مماثلتیں کھینچتے ہیں اور اس بات پر پورا یقین ہے کہ انھیں عوامی حمایت حاصل ہے جو انھیں اسٹیبلشمنٹ کا مقابلہ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران کو لگتا ہے کہ ان کے پاس آپشنز ختم ہو گئے ہیں اور جب تک وہ ان کا مقابلہ نہیں کرتے اور جیت نہیں جاتے، وہ تاریخ بن جائیں گے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…