ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کے ذاتی عملے کی ترقی ، بیوروکریٹس کا اظہار تشویش

datetime 15  اکتوبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

گلگت (این این آئی)وزیراعلی گلگت بلتستان کے پرسنل اسٹاف افسر کی عہدے میں ترقی پر صوبے میں تعینات سول سرونٹس نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان کے وزیراعلی خالد خورشید خان کو لکھے گئے خط میں گلگت بلتستان سول سروس ایسوسی ایشن (جی بی سی ایس اے)نے کہا کہ صرف کچھ عہدیداروں کو اپ گریڈ یا ترقی دینا قواعد اور ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل گلگت بلتستان کی کابینہ نے وزیراعلیٰ کے ذاتی عملے کے افسران کو گریڈ 19 سے گریڈ 20 پر ترقی سمیت آئندہ برس ریٹائرمنٹ کی عمر کو پہنچ جانے والے موجودہ عہدیدار علی رحمت کے لیے اپ گریڈیشن پالیسی 2019 میں نرمی کی منظوری دی تھی۔فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سول سرونٹس نے کہا کہ مخصوص افسران کو فائدہ پہنچانے کیلئے پالیسی میں نرمی کرنا گلگت بلتستان کی کابینہ کا اختیار نہیں ہے، انہوں نے اس اقدام کو گلگت بلتستان کے سول سرونٹس کے لیے نقصان دہ قرار دے دیا۔اسی فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے سول سرونٹس نے دعوی کیا کہ وزیراعلی کے پرسنل اسٹاف افسر اس سے قبل اپنی سروس کے دوران 5 بار ترقی لے چکے ہیں، وہ گریڈ 20 کی ترقی کے لیے قابلیت اور اہلیت نہیں رکھتے۔خط میں کہا گیا کہ بیوروکریسی میں امتیازی سلوک کے تاثر کو ختم کرنے کے کابینہ کی جانب سے صرف مخصوص افسران کو فائدہ دینے کے بجائے تمام افسران کی ترقی کی جائے تاکہ صرف ایک فرد کے بجائے تمام افسران فائدہ اٹھا سکیں۔

خط میں کہا گیا کہ یہ افسران مشترکہ مسابقتی امتحان (سی سی ای)کے ذریعے بیوروکریسی میں شامل ہوتے ہیں لہذا یہ درخواست کی جاتی ہے کہ گلگت بلتستان سول سروس ایسوسی ایشن کو گلگت بلتستان کابینہ کی منظوری کی سمری بھیجنے کے لیے ضروری ہدایات جاری کیے جائیں۔

گلگت بلتستان سول سروس ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ چونکہ گلگت بلتستان کے افسران کے پاس ترقی کے مواقع بہت کم ہوتے ہیں اس لیے اپ گریڈیشن پالیسی 2019 میں نرمی کرکے افسران کو ترقیاں دی گئیں تاہم ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ اگر ضابطہ قوانین پر عمل کیے بغیر مخصوص افسران کے عہدوں میں ترقی دی گئی تو ایسے اقدام پرسنل اپ گریڈیشن کا سبب بن سکتا ہے۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…