اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

عمران خان اپنے ہی بنے جال میں پھنس گئے سابق وزیراعظم کی گرفتاری کسی بھی وقت متوقع

datetime 3  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) ملکی سیاست کا محور اب آڈیو لیکس بن گئی ہیں۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں اب آڈیو لیکس کی بنیاد پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔روزنامہ جنگ میں رانا غلام قادر کی خبر کے مطابق اس ایشو پر دونوں آمنے سامنے آگئے ہیں

لیکن بادی النظر میں حکومت کا پلڑہ بھاری ہے اور عمران خان کیلئے اس کیس میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ‘ رانا ثناء اللہ‘ اعظم نذیر تارڑ ‘ خواجہ آصف‘ احسن اقبال‘ ایاز صادق اور راجہ پرویز اشرف سے انکوائری کیلئے کمیشن بنایا جائے۔دوسری جانب وفاقی کابینہ نے سابق وزیراعظم عمران خان، ان کے ساتھی وزرا اور سابق سیکرٹری ٹو پرائم منسٹر اعظم خان کیخلاف قانونی کارروائی کی باضابطہ منظوری دیدی ہے۔کابینہ نے ʼڈپلومیٹک سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر ایف آئی اے کے ذریعے تحقیقات اور قانونی کارروائی کی منظوری دے دی ہے۔ کابینہ نے 30 ستمبر کو عمران خان کی سائفر سے متعلق آڈیو لیک پر کابینہ کمیٹی تشکیل دی تھی۔کابینہ کمیٹی نے ʼسرکولیشن کے ذریعے کابینہ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دی ہے۔ کابینہ کمیٹی نے قرار دیا ہے یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے جس کے قومی مفادات پر سنگین مضر اثرات ہیں۔انکوائری کا ٹاسک ایف آئی اے کو دیا گیا ہے۔ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق عمران خان کی پہلی آڈیو 28 ستمبر کو منظر عام پر آئی تھی۔ ڈپلومیٹک سائفر سے متعلق عمران خان کی دوسری آڈیو 30ستمبر کو منظر عام پر آئی۔ آڈیو لیکس میں عمران خان، اعظم خان، شاہ محمود قریشی اور اسد عمر سائفر تبدیل کرنے کے بارے میں مشورہ کر رہے ہیں۔عمران خان نے ایک نجی کو انٹر ویو میں یہ اعتراف کرلیا ہے کہ سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی پتہ نہیں کہاں گم ہوگیا۔ یہ اعتراف کرکے وہ اپنے ہی بنے جال میں پھنس گئے ہیں۔

یہ ایک سنگین معاملہ ہے جس میں عمران خان پھنس چکے ہیں اور ان کی اس کیس میں گرفتاری بھی متوقع ہے کیونکہ وفاقی حکومت نے پالیسی کے طور پر یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ اب عمران خان سے کوئی رعایت یا نرمی نہیں کی جائے گی۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…