پیر‬‮ ، 23 فروری‬‮ 2026 

میرے پاس موجود سائفر کی کاپی معلوم نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے،عمران خان

datetime 2  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے پاکستان کو لکھے گئے سائفر کی جو کاپی میرے پاس تھی معلوم نہیں وہ کہاں غائب ہوگئی ہے،جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی،

گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی، گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ شریفوں اور زرداری کی سیاست مافیاز کی طرز پر ہے، یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں یا ڈرا دھمکا کر قتل بھی کروا دیتے ہیں، مجھے گرفتار کرنے اور جیل میں ڈالنے کی کوشش کرنی ہے، جس کے لیے میں تیار ہوں۔پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ مجھے پتہ تھا یہ مجھے نا اہل کروانے کی کوشش کریں گے، یہ اس وقت الیکشن کروانا چاہتے ہیں جب مجھے نا اہل کروا دیں، میں ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہوں مگر ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور اپنی قوم کو حقیقی آزادی دلواں گا۔انہوںنے کہاکہ مریم اور بلاول ہر بار کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جس سے ہمارا فائدہ ہو جاتا ہے، مجھے نہیں انہیں کوچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک بہت بڑی سیکورٹی بریچ ہے، اعظم خان والی آڈیو لیک شاید اس کے فون کی ریکارڈنگ ہے، جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں،سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے، اسد مجید کے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، انکی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا۔ایوان صدر میں ہونے والی بڑی ملاقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جھوٹ میں بولنا نہیں چاہتا، سچ میں بول نہیں سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…