اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

میرے پاس موجود سائفر کی کاپی معلوم نہیں کہاں غائب ہو گئی ہے،عمران خان

datetime 2  اکتوبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا کی طرف سے پاکستان کو لکھے گئے سائفر کی جو کاپی میرے پاس تھی معلوم نہیں وہ کہاں غائب ہوگئی ہے،جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی،

گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔نجی ٹی وی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا کہ جب آخری بار مجھے اپنی گرفتاری کا علم ہوا تو میں نے اپنا بیگ بنا کر تیاری کرلی تھی، گرفتاری کے لیے میں ہر وقت تیار رہتا ہوں۔انہوںنے کہاکہ شریفوں اور زرداری کی سیاست مافیاز کی طرز پر ہے، یہ لوگوں کو خرید لیتے ہیں یا ڈرا دھمکا کر قتل بھی کروا دیتے ہیں، مجھے گرفتار کرنے اور جیل میں ڈالنے کی کوشش کرنی ہے، جس کے لیے میں تیار ہوں۔پی ٹی آئی چیئر مین نے کہا کہ مجھے پتہ تھا یہ مجھے نا اہل کروانے کی کوشش کریں گے، یہ اس وقت الیکشن کروانا چاہتے ہیں جب مجھے نا اہل کروا دیں، میں ذہنی طور پر ہر چیز کے لیے تیار ہوں مگر ڈٹ کر مقابلہ کروں گا اور اپنی قوم کو حقیقی آزادی دلواں گا۔انہوںنے کہاکہ مریم اور بلاول ہر بار کوئی ایسی بات کر دیتے ہیں جس سے ہمارا فائدہ ہو جاتا ہے، مجھے نہیں انہیں کوچ کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک بہت بڑی سیکورٹی بریچ ہے، اعظم خان والی آڈیو لیک شاید اس کے فون کی ریکارڈنگ ہے، جو بھی باتیں آڈیو لیک میں سائفر کے حوالے سے کیں وہ سب تو میں جلسوں میں کر چکا ہوں،سائفر کی ایک کاپی میرے پاس تھی، پتا نہیں وہ کہاں غائب ہو گئی ہے، اسد مجید کے سائفر کے آخر میں لکھا تھا کہ ہمیں اسے ڈیمارچ کرنا چاہیے، عام لوگ سائفر کو نہیں سمجھتے، انکی زبان میں انہیں سمجھانے کے لیے لیٹر کا لفظ استعمال کیا۔ایوان صدر میں ہونے والی بڑی ملاقات کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ جھوٹ میں بولنا نہیں چاہتا، سچ میں بول نہیں سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…