جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

امریکی ڈالر کی قیمت250 روپے کے قریب پہنچ گئی

datetime 19  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک ٗ این این آئی)پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔آج صبح کاروبار کے آغاز سے ہی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہونا شروع ہوگیا ہےانٹربینک میں ڈالر 16 پیسے مہنگا ہو کر 237 روپے کا ہوگیا ہے۔دوسری جانب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 2 روپے مہنگا ہو کر 243 روپے کا ہو گیا۔ حکومت ڈالر کے بہا کو کنٹرول کرنے کے

لیے مسلسل کوشاں ہے ،دوسری جانب بینکوں نے امریکی کرنسی کی خریداری کو دگنا کر دیا اور اسے کریڈٹ کارڈ کے ذریعے بیرون ملک بھیج رہے ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 236.84 روپے پر بند ہوئی جو اس سے ایک روز قبل 235.88 روپے کے مقابلے میں 96 پیسے زیادہ ہے۔ڈالر کی شرح مبادلہ پر مضبوط گرفت ہے، کم ہوتے زرمبادلہ کے ذخائر اور زیادہ درآمدات کے درمیان تنا ہر روز بڑھتا جا رہا ہے۔اوپن مارکیٹ نے گزشتہ روز ڈالر کی قیمت 241 روپے بتائی جو جمعرات کو تقریبا اس کے برابر تھی، کرنسی ڈیلرز نے کہا کہ ڈالر اور دیگر کرنسیوں کا ملنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ طلب بہت زیادہ ہے۔کرنسی مارکیٹ کے ماہرین نے کہا کہ اسٹیٹ بینک اور حکومت کا اوپن مارکیٹ سے ڈالر کی خریداری پر سخت کنٹرول ہے لیکن بینکوں نے اس کا راستہ کریڈٹ کارڈز کے ذریعے ڈھونڈ لیا ہے۔چیئرمین ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان ملک بوستان نے کہا کہ ہر ہفتے بینکوں کی اوسط خرید تقریبا 20 سے 40 لاکھ ڈالر تھی جو اب اوسطا ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔اوپن مارکیٹ سے ایک عام آدمی کے لیے 500 ڈالر سے زیادہ خریدنا انتہائی مشکل ہے لیکن اس کا بھی ایک باقاعدہ راستہ ڈھونڈ نکال لیا گیا ہے۔

بیرون ملک جانے والے مسافر ملک سے فی بندہ 10 ہزار ڈالر تک لے سکتے ہیں اور اب کریڈٹ کارڈز کی بہت زیادہ مانگ بڑھ گئی ہے۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بینکوں کی جانب سے ڈالر کی خریداری نے اوپن مارکیٹ سے ڈالر کو کھینچ لیا ہے۔ملک بوستان نے کہا کہ ہم نے حکومت سے کہا کہ وہ مسافروں کے لیے ڈالر خریدنے کی حد آدھی کرکے 5 ہزار ڈالر کر دے، اس کے علاوہ کریڈٹ کارڈز پر ماہانہ 2 ہزار ڈالر خرچ کرنے کی حد ہونی چاہیے۔

کرنسی ڈیلرز نے کہا کہ حکومت عالمی قرض دہندگان سے قرض لے کر اور اخراجات محدود کر کے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن کریڈٹ کارڈز کے ذریعے بینکوں سے نکلنے والی رقم ان کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔اسٹیٹ بینک کا اصرار ہے کہ کوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے تاہم درآمد کنندگان نے کہا کہ خام مال کے لیے ایل سی(لیٹرز آف کریڈٹ)کھولنا آسان نہیں ہے۔

ایک درآمد کنندہ نے کہا کہ یہ اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ اسٹیٹ بینک درآمدی بل کو کم سے کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔کرنسی ڈیلر نے دعوی ٰ کیا کہ بینک گرے مارکیٹ سے بھی بہت زیادہ نرخوں پر ڈالر خرید رہے ہیں، تاہم کریڈٹ کارڈز کے ذریعے اخراج نے شرح مبادلہ کو درپیش خطرے میں اضافہ کیا ہے جس سے پاکستان میں امریکی ڈالر مزید تگڑا ہورہا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…