جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایران اور افغانستان سے خوراک کی درآمد کے لیے ڈالر کی شدید قلت کا سامنا

datetime 18  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی /پشاور(این این آئی)افغانستان اور ایران سے خوراک، خاص طور پر سبزیوں کی درآمد کرنے والے تاجروں نے بینکوں یا ایکسچینج کمپنیوں سے ڈالر خریدنے کی اجازت نہ دیے جانے کے باعث ادائیگیوں کے لیے بلیک مارکیٹ پر انحصار کر نا شروع کر دیا ۔ نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیلاب سے فصلوں کی تباہی کے بعد ملک کو ٹماٹر، پیاز، آلو وغیرہ کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

جس کی وجہ سے ملک بھر میں ان اشیا کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور فصلوں کے تباہ ہونے کے باعث پیدا ہونے والے طلب اور رسد کے فرق کو ختم کرنے کے لیے حکومت فوری طور پر پڑوسی ممالک سے ان اشیائے خورونوش کی درآمد کی اجازت دینے پر مجبور ہوگئی، لیکن اس نے ان درآمدات کی ادائیگیوں کے لیے ڈالر کی فراہمی کا کوئی انتظام نہیں کیا۔یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ درآمد کنندگان سے کہا گیا کہ وہ افغان اور ایرانی تاجروں کو پاکستان میں دستیاب غذائی اشیا برآمد کرکے بارٹر ڈیل کے تحت درآمدات کریں۔پشاور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ذرائع نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ کابل کے ساتھ مقامی کرنسی کے ذریعے درآمدی سودے ممکن ہیں کیونکہ افغان شہری خیبر پختونخوا میں موجود ہیں تاہم ذرائع نے بتایا کہ افغان برآمد کنندگان عام طور پر امریکی ڈالر طلب کرتے ہیں، نقد رقم یا دبئی کے ذریعے ادائیگی کرنے پر اصرار کرتے ہیں، دبئی سے کی جانے والی ادائیگیوں کیلئے ہنڈی یا حوالہ کا نظام استعمال کیا جاتا ہے۔

معروف کرنسی ڈیلر ملک بوستان نے کہا کہ زیادہ تر درآمد کنندگان افغان فروخت کنندگان کو نقد ڈالر یا دبئی کے ذریعے ادائیگی کر رہے ہیں۔ملک بوستان نے وضاحت کی کہ حکومت نے کابل سے درآمدات کے لیے ڈالر کا بندوبست نہیں کیا جبکہ درآمد کنندگان کو ایکسچینج کمپنیوں یا بینکنگ چینلز سے ڈالر خریدنے سے بھی روک دیا گیا ہے، یہی معاملہ ایران اور افغانستان دونوں ممالک کے ساتھ ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں صورتوں میں پاکستان سے ڈالر بیرون ملک بھیجے جارہے ہیں ، ہمیں ان کی سخت ضرورت ہے۔کرنسی ڈیلر ظفر پراچا نے کہا کہ افغان کرنسی صرف پشاور میں دستیاب ہے جہاں کرنسی کی تبدیلی، پاکستانی اور افغانی کرنسی میں خرید و فروخت ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ افغان برآمد کنندگان پاکستانی روپے میں اپنا سامان فروخت کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔

مقامی کرنسی روزانہ کی بنیاد پر گراوٹ کا شکار ہے۔ظفر پراچا نے کہا کہ ایران اور افغانستان سے درآمدات کے لیے ڈالر فراہم نہ کرنا حکومت کا غیر منطقی فیصلہ ہے ، روپے کی قدر میں کمی اب معمول کی بات بن چکی ہے۔کراچی میں ایکسچینج کمپنیوں نے بتایا کہ افغان کرنسی مارکیٹ میں دستیاب نہیں ہے جب کہ اس کی قیمت خطے میں سب سے زیادہ ہے، ایک امریکی ڈالر 88 افغانی کے برابر ہے جو پاکستان، بنگلہ دیش اور بھارت کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔

افغان حکومت اعلی شرح تبادلہ برقرار رکھ سکتی ہے ،کابل کوئلہ، کچھ پھل اور سبزیوں جیسی صرف چند اشیا برآمد کرتا ہے۔ایک باقاعدہ بارٹر سسٹم دستیاب ہونے کی وجہ سے تہران سے درآمدات کے لیے نقد ڈالر میں صرف کچھ ادائیگیوں کی ضرورت ہوگی لیکن روپے میں نہیں۔کرنسی ڈیلرز کا کہنا ہے کہ افغانستان اور ایران سے درآمدات کے باعث ڈالر کی اسمگلنگ کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس صورتحال کے باعث بلیک مارکیٹ کے کاروبار میں اضافہ ہوا ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…