جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

سیلاب متاثرین کی بستی ”تمبو گوٹھ”میں 17 بچوں کی پیدائش

datetime 15  ستمبر‬‮  2022
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

جامشورو،کراچی (این این آئی)جامشورو میں حیدرآباد پولیس کے تحت 30 ہزار سے زائد سیلاب متاثرین کی بڑی اور منظم آبادی ”تمبو گوٹھ”میں گزشتہ 2 ہفتے کے دوران 17 بچوں کی پیدائش ہوئی ہے۔ تمبو گوٹھ کے انتظامی سربراہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس حیدرآباد پیر محمد شاہ کے مطابق موٹر وے ایم نائن پر سابقہ ٹول پلازہ کے قریب گلشن شہباز کے 550ایکڑ پر بسائے گئے سیلاب متاثرین کو

دیگر ضروریات کے ساتھ مناسب طبی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں،جہاں حیدرآباد پولیس، سٹیزن پولیس لائژن کمیٹی اور سندھ حکومت کے تحت پرائیویٹ ادارے پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹیو (پی پی ایچ آئی)کی جانب سے میڈیکل کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں۔ پیر محمد شاہ نے بتایا کہ ان کیمپوں کے عملے کے ذریعے بیشتر حاملہ خواتین یا بیماروں کو سرکاری ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ تمبو گوٹھ میں اب تک 17 بچوں کی پیدائش ہوچکی ہے، تمام زچہ بچہ کو صرف میڈیکل کی سہولت فراہم کی گئی بلکہ ان کی نگہداشت بھی کی جا رہی ہے۔دوسری جانب سندھ میں لاکھوں سیلاب متاثرین وبائی امراض کا شکارہوگئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ میں گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ڈائیریا کے 14263 مریض کا علاج کیا گیا جس کے بعد ریلیف کیمپوں میں ڈائریا کے شکار علاج کئے جانے والے افراد کی تعداد 333923 ہوگئی ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جلدی امراض کے شکار مزید 15181 مریض صحت یاب ہوئے، جس کے بعد یکم جولائی سے 14 ستمبر تک جلدی امراض سے صحتیاب افراد کی تعداد 3 لاکھ 26 ہزار 630 ہوگئی ہے۔

گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران سانس کے 13599 مریضوں کا علاج کیا گیا، جس کے بعد سانس کی بیماری میں مبتلا شفایاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 2 لاکھ 89ہزار 457 ہوگئی ہے۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملیریا کے 3515 کیس رپورٹ ہوئے، جس کے بعد ملیریا سے متاثرہ افراد کی تعداد 133719 ہوگئی ہے۔اسکے علاوہ دیگر امراض کا شکار افراد کی تعداد 428429 مریض صحتیاب ہوئے یں۔گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کتے کے کاٹنے سے ایک مریض کا علاج کیا گیا جبکہ اب تک 134 افراد سانپ اور 683 افراد کتے کے کاٹنے کا علاج کیا گیا ہے۔مجموعی طور پر 1502773 افراد کو ریلیف کیمپوں میں طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…