جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

آئی ایم ایف نے سی پیک کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایم ایف نے سی پیک کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا۔روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا ہے اور کہا ہے کہ 2022 کے اوائل میں نئی ​​سرمایہ کاری ترقی کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے لیکن ہنگامی

واجبات بھی قرض کی پائیداری کے لیے خطرہ ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ای ایف ایف پروگرام کی منظوری کے بعد جاری کردہ فنڈ کے عملے کی رپورٹ کے ساتھ ہی اپنے سرکاری اور بیرونی قرضوں کے پائیداری کے تجزیے میں کہا کہ 2022 کے اوائل میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا، جو اصل میں 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اگرچہ ان دوسرے مرحلے کی سرمایہ کاری میں بنیادی ڈھانچہ ترقی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے، حاضر ہنگامی واجبات بھی قرض کی پائیداری کے لیے خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری قرضوں کو مضبوط پالیسیوں اور مضبوط نمو کے ساتھ پائیدار سمجھا جاتا ہے، لیکن جزوی طور پر زیادہ غیر یقینی صورتحال کے ساتھ کیونکہ مالی سال 22 ایچ 2 میں مالیاتی نرمی نے چھٹے جائزے کے وقت قرض کے تناسب میں کمی کو روکا۔ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 27 کے آخر تک تقریباً 60 فیصد تک گرنے سے پہلے مالی سال 21 کے آخر میں 77.9 فیصد سے مالی سال 22 کے آخر میں 78.9 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے یہ فرض کرتے ہوئے کہ ای ایف ایف پروگرام کے تناظر میں ایڈجسٹمنٹ کی کوششوں کو مکمل طور پر انجام دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود، پالیسی میں سختی کی وجہ سے متوقع ترقی کی سست روی، شرح مبادلہ پر دباؤ، پالیسی کی تجدید، درمیانی مدت کی سست شرح نمو، اور ایس او ایز سے متعلقہ ہنگامی ذمہ داریاں قرض کی پائیداری کے لیے اہم خطرات کا باعث ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…