اتوار‬‮ ، 30 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

آئی ایم ایف نے سی پیک کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا

datetime 4  ستمبر‬‮  2022 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایم ایف نے سی پیک کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا۔روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی خبر کے مطابق انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں ایک بار پھر سرخ پرچم لہرا دیا ہے اور کہا ہے کہ 2022 کے اوائل میں نئی ​​سرمایہ کاری ترقی کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے لیکن ہنگامی

واجبات بھی قرض کی پائیداری کے لیے خطرہ ہیں۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کے لیے ای ایف ایف پروگرام کی منظوری کے بعد جاری کردہ فنڈ کے عملے کی رپورٹ کے ساتھ ہی اپنے سرکاری اور بیرونی قرضوں کے پائیداری کے تجزیے میں کہا کہ 2022 کے اوائل میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے ذریعے نئی سرمایہ کاری کا اعلان کیا گیا، جو اصل میں 2013 میں قائم کیا گیا تھا۔ اگرچہ ان دوسرے مرحلے کی سرمایہ کاری میں بنیادی ڈھانچہ ترقی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے، حاضر ہنگامی واجبات بھی قرض کی پائیداری کے لیے خطرہ ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے سرکاری قرضوں کو مضبوط پالیسیوں اور مضبوط نمو کے ساتھ پائیدار سمجھا جاتا ہے، لیکن جزوی طور پر زیادہ غیر یقینی صورتحال کے ساتھ کیونکہ مالی سال 22 ایچ 2 میں مالیاتی نرمی نے چھٹے جائزے کے وقت قرض کے تناسب میں کمی کو روکا۔ قرض سے جی ڈی پی کا تناسب مالی سال 27 کے آخر تک تقریباً 60 فیصد تک گرنے سے پہلے مالی سال 21 کے آخر میں 77.9 فیصد سے مالی سال 22 کے آخر میں 78.9 فیصد تک بڑھنے کا امکان ہے یہ فرض کرتے ہوئے کہ ای ایف ایف پروگرام کے تناظر میں ایڈجسٹمنٹ کی کوششوں کو مکمل طور پر انجام دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ بلند شرح سود، پالیسی میں سختی کی وجہ سے متوقع ترقی کی سست روی، شرح مبادلہ پر دباؤ، پالیسی کی تجدید، درمیانی مدت کی سست شرح نمو، اور ایس او ایز سے متعلقہ ہنگامی ذمہ داریاں قرض کی پائیداری کے لیے اہم خطرات کا باعث ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(آخری حصہ)


جنرل فیض حمید اور عمران خان کا منصوبہ بہت کلیئر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)

عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…