جمعہ‬‮ ، 23 جنوری‬‮ 2026 

شہزاد اکبر نالائق اکبر ہے، عنقریب فارغ ،ان کی جگہ ایک شخص انٹرویو بھی دے چکا ہے، نیب ترامیم سے فائدہ نہیں لینا چاہتے، یہ این آر او ہے ،ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے، عطا اللہ تارڑ

datetime 20  جنوری‬‮  2022 |

لاہور( این این آئی )مسلم لیگ (ن) کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ حمزہ شہباز نے بریت کی درخواست واپس لے لی ہے، حمزہ شہباز نیب کی دونوں ترامیم کا فائدہ نہیں لینا چاہتے، یہ ترامیم حکومت نے اپنے فائدے کے لیے کروائی ہیں،یہ این آر او ہے اور ہم اس

این آر او کا حصہ نہیں بنیں گے،ہم سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، شہزاد اکبر نالائق اکبر ہے، عنقریب فارغ ہونے والے ہیں اوران کی جگہ ایک شخص انٹرویو بھی دے چکا ہے۔ احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت انتقام کی سیاست کر رہی ہے ،حمزہ شہباز 2 سال پابند سلاسل رہے ،رمضان شوگر مل کیس میں ثابت کریں گے ہمارا کوئی کردار نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مری سانحے سے متعلق اسمبلی کا اجلاس ہماری ریکوزیشن پر بلایا گیا ہے ،یہ انتہا کا ظلم ہے چند افراد کو او ایس ڈی بنا کر اصل ذمہ داران کو چھوڑ دیا گیا ،ہم سانحہ مری کی تحقیقاتی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں، مطالبہ ہے اصل ذمہ داران کو کٹہرے میں لایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب سکون کی نیند سو رہے تھے اورمری میں لوگ ٹھٹھر کر مر رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شہزاد اکبر نالائق اکبر ہے، تین سال سے ناکام ہورہا ہے، سر توڑ کوشش کر رہا ہے کسی طرح شہباز شریف کو گرفتار کروا دے ،ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کی پریس کانفرنس کرتا ہے لیکن ثبوت کوئی عدالت میں پیش نہیں کرتا ،شہزاد اکبر عنقریب فارغ ہونے والے ہیں ان کی جگہ ایک شخص انٹرویو بھی دے چکا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…