ہفتہ‬‮ ، 10 اکتوبر‬‮ 2026 

انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا، عدلیہ کو اپنے دامن پر لگے داغ مٹانے ہوںگے ،وکلاء تنظیمیں

datetime 8  اگست‬‮  2021 |

کوئٹہ (آن لائن )پاکستان کے وکلاء تنظیموں کے رہنمائوں نے سانحہ 8اگست سول ہسپتال کوئٹہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ عدلیہ کو اپنے دامن پر لگے داغ مٹانے ہوںگے ،ملکی جوڈیشری کو دنیا میں چوتھے نمبر پر سب سے زیادہ مراعات مل رہے ہیں لیکن پرفارمنس 128میں سے 124واں نمبر ہے ،میرٹ پر ججز کی تعیناتی سے ہی عدلیہ اپنی وقار بحال کرسکتی ہے ڈاکٹیٹرز ملک میں آئین کوپامال اور غداری کے القابات بانٹ رہے ہیں جو قطعاََ ملکی مفاد میں نہیں انصاف کے

بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا،مسائل گھمبیر،لاپتہ افراد اور مسخ شدہ لاشیںکی بجائے ناراض بلوچوں سے بامقصد مذاکرات وقت کی اہم ضرور ت ہے ،بلوچستان کے بلوچوں وپشتونوں کا ایسا کوئی گھر نہیں جہاں لاش نہ گئی ہوں ،یہ ملک 22کروڑ عوام کا ہے مقتدر قوتیں ظلم کا جاری سلسلہ بند کریں اگر 22کروڑ عوام باہر نکلیں تو پھر کچھ نظر نہیں آئے گا۔ملک بھر کی وکلاء تنظیمیں پاکستان میں جمہوریت کے بنیادوں کا تحفظ، آئین و قانون کی بالادستی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتی رہیںگی ۔ان خیالات کا اظہارملک بھر سے آئے ہوئے وکلاء تنظیموں کے رہنمائوں نے بلوچستان کی وکلا تنظیموں بلوچستان بار کونسل ،بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ،کوئٹہ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام سانحہ 8 اگست سول ہسپتال میں وکلا کی شہادت کی مناسبت سے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر قاری سعید نے شہدا کی درجات بلندی کیلئے دعا کی۔ تقریب میں سپریم کورٹ کے نامزد جج جسٹس جمال خان مندوخیل، بلوچستان ہائی کورٹ کے نئے چیف جسٹس نعیم اختر افغان ،پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد کاکڑ ایڈووکیٹ،نصیب اللہ ترین ایڈووکیٹ، میر عطاء اللہ لانگو ایڈووکیٹ، سینیٹرکامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ ودیگر بھی موجود تھے ۔اس موقع پربلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین قاسم علی گاجیزئی، بلوچستان ہائی کورٹ بار کے صدر سید عبدالباسط شاہ، کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال کاسی ایڈووکیٹ، راحب بلیدی ایڈووکیٹ، اکرم شاہ ایڈووکیٹ، علی احسن بگٹی ایڈووکیٹ، سپریم کورٹ، پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عہدیداران اور وکلا ء نے خطاب کیا۔ سابق گورنرپنجاب اورپاکستان بار کونسل کے سابق صدرسردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ 8 اگست کا سانحہ ریاست نظر نہیں آئی اور نا وہ سیکورٹی نظر آئی بعض قوتیں نہیں چاہتی کہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ہوں جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنا جس نے تحقیقات کی اور ایک جامع رپورٹ دی جس میں 23 فائنڈنگز دی اور 18 سفارشات دیں کمیشن نے نیکٹا، نیشنل ایکشن پلان پر سوالات اٹھائے سپریم کورٹ جب اپنے جوڈیشل کمیشن کے احکامات پر عمل نہیں کرا سکتی تو پھر ایسے کمیشن نہ بنائے جائیں کہ وہ آئین کی خلاف ورزی ہوں جوڈیشل کمیشن کا مقصد ایسے واقعات کی روک تھام تھا۔ ڈکٹیٹرز نے ملک کے آئین کو پامال کیا اور غدار کی فیکٹری کھول رکھی ہے نواب اکبر خان بگٹی کو غدار قرار دیا گیا لیکن عدالت نے پرویز مشرف کو غدار قرار دیا فیصلہ سنانے والے جج کے ساتھ کیا ہوا جسٹس قاضی فائز عیسی اور اس کی اہلیہ کے ساتھ کورونا کا جو کیس ہے کیا یہ وقار سیٹھ جیسا تو نہیں ہیں وکیل آئین کے خالق اور محافظ ہیں عدالتیں اپنے دامن پر لگے داغ مٹائیں چاہتے ہیں کہ عدالتیں آئین کی حدود میں رہ کر کام کریں۔ کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی غریب کو انصاف مل رہا ہے۔ پاکستان کی عدلیہ کو یورپ سے زیادہ مراعات مل رہی ہے لیکن پرفارمینس میں 128 میں ہمارا 124 نمبر ہیں ہمیں آج یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم شہدا کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے وکیل تحفظ بل کمیشن رپورٹ پر عمل کرائیں گے۔ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین محمد قاسم گاجیزئی نے کہا کہ وکلا کو متحد ہو کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے ہم اپنے شہدا کو انصاف دلانے کیلئے ہر حربہ استعمال کریں گے ملک میں لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ گھمبیر ہے کمی کی بجائے لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ناراض بلوچ رہنماں سے بامقصد مذاکرات ہی مسئلے کا حل ہے جوڈیشری کے حالات ابتر ہوتے جا رہے ہیں۔ اقربا پروری عروج پر ہیں میرٹ پر ججز کی تعیناتی سے لوگوں میں عدلیہ کا اعتماد بڑھے گا۔ تمام وکلا پر عزم رہیں گے 56 وکلا شہید ہوئے 56 ہزار وکلا پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وکلا ملک میں جمہوریت کے بنیادوں کا تحفظ، آئین و قانون کی بالادستی، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔

پاکستان بار کونسل کے ممبر اصل بون نے کہا کہ سندھ سے سپریم کورٹ کیلئے جج کے معاملے پر ہمیں متحد ہوکر آگے بڑھنا ہوگا عدلیہ کے ساتھ جو کھلواڑ کیا گیا وہ قابل افسوس ہے ججز کی تعیناتی میں پسند و نا پسند کے خاتمے کیلئے ایک ہونا ہوگا شہدا کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ہمیں آئین و قانون کی بالادستی، جمہوریت کی بحالی کی بات کرنا ہوگی۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید عبدالباسط شاہ نے کہا کہ پاکستان کنفیڈریشن ہے جس کے 4 فیڈریٹنگ یونٹس ہیں اور یہ آئین کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں آئین پر عمل درآمد سے ہمارے مسائل حل ہوں گے تمام ادارے اپنے

حدود میں رہ کر کام کرتے تو آج جن صورتحال کا سامنا ہے وہ نہ کرنا پڑتا ملک میں ہر شعبے کے لوگوں نے قربانی دی ہے۔ کوئٹہ بار ایسوسی ایشن کے صدر اقبال کاسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ برسی یا برسیاں ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں اس سے فارغ ہوکر ہم کل کسی اور کے جنازے اور چالیس ویں میں شریک ہوں گے بلوچستان کی سر زمین سے ہر وقت آئین کی بالادستی کیلئے آواز اٹھی ہے پتہ نہیں کیوں کہ جیسے بلوچستان کے لوگوں سے خوشیاں روٹھی ہیں آئین کا سبز کتاب وہ شے ہیں جس نے بلوچ، پشتون، سندھی، پنجابی اور دیگر اقوام کو جوڑ رکھے ہیں لیکن آج بلوچستان کے لوگ زندگی کی بھیک مانگ رہے ہیں 365 دن میں کوئی ایسا دن نہیں کہ لوگ خوشی سے گزار سکے ہماری کوئی بات آئین سے متصادم نہیں نا ہی ہم نے کوئی مطالبہ آئین سے متصادم کیا ہے۔ مجھے سب سے زیادہ اپنوں سے گلہ ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ

اپنوں کو شہدا کے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی انتہائی کمزور آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جائے بلوچستان کی ترقی تصویروں تک محدود ہیں اس صوبے کو اس لیے پسماندہ رکھا گیا ہے تاکہ ہم حق کی بات نہ کر سکے۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری فاروق شہزاد نے کہا کہ پاکستان جمہوریت کیلئے بنا ہے وکیل نے اس ملک میں جمہوریت بحالی اور آئین و قانون کی بالادستی کیلئے ہمیشہ جدوجہد کی ہے لاپتہ افراد ہو یا مسخ شدہ لاشیں وکلا ہمیشہ صف اول میں

رہے ہیں۔ چیئرمین بین الصوبائی کمیٹی عبدالرزاق مہر نے کہا کہ شہید کو اہم مقام حاصل ہے وہ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں ہم ظلم کے خلاف ہے وکلا ہی وہ طبقہ ہے جو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن آج بھی انگریز کی باقیات بر سر اقتدار ہیں۔ جوڈیشری نے وہ کردار ادا نہیں کیا جس کی ضرورت تھی ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اپنے شہدا کے مشن کو آگے بڑھائیں۔ جب تک چور کو چور نہیں اور حق بات نہ کی جائے ہم ترقی نہیں کر سکتے پروگرام کی بجائے ہمیں ڈٹ کر کھڑا ہونا ہوگا۔ سندھ سے 5 ویں نمبر کا جج لیا جا رہا ہے جو 4 سینئر ججز ہیں وہ انصاف اور معاشرے کی بہتری

کی خاطر عہدیں چھوڑ دیں۔ دہرے معیار اور ڈکٹیٹر شپ سے پاکستان تباہ ہو گیا ہے۔ سیاست دان اپنے مفادات کو دیکھتے ہیں۔ مقتدرہ کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں ایسے فیصلوں سے ملک تباہ ہوگا۔ ہم اپنے آخری سانس تک اپنے حقوق، وکلا اور مظلوم عوام کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر مقصود بھٹو نے کہا کہ 8 اگست کا واقعہ انتہائی تکلیف دہ ہے وکلا پاکستان بالخصوص بلوچستان میں سب سے بلند آواز تھی وکلا نے سول رائٹس، عدلیہ کی آزادی میں اہم کردار ادا کیا وہ مقتدرہ کے آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔ تمام پاکستان کے وکلا بلوچستان کے وکلا کے شانہ بشانہ ہیں۔ ناانصافی کے خلاف ہمارا جدوجہد جاری رہے گا سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی

ایشن کے صدر بہلول خان خٹک نے کہا کہ 8 اگست کا دن جب بھی آتا ہے تو ایک ناقابل بیان قرب سے گزرتے ہیں۔ شہید وکلا ملک میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے تھے۔ ایک ایک شہید وکیل کا خون ہم پر قرض ہیں۔ وکلا حق کی بات چھوڑ دیں گے یہ خام خیالی دل سے نکال دیا جائے موت بر حق ہے تو پھر ڈر جس بات کا ہے۔ کشت و خون کیلئے بلوچستان کو کیوں چنا گیا جب تک متحد رہیں گے کامیاب رہیں گے۔ خیبر پختونخوا بار کونسل کے وائس چیئرمین نعیم دل نے کہا کہ شہیدِ وکلا کو بھلایا نہیں جاسکتا خیبر پختونخوا کے وکلا کو بھی ایسی کیفیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ وکیل آئین و قانون کی بالادستی کیلئے

لڑ رہا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری عمر سومرو نے کہا کہ 8 اگست کے سانحہ میں وکلا نے جو قربانی دی وہ ہمیشہ یاد رہے گی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر من و عن عمل درآمد کیا جائے تو ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہے۔ ہم اب بھی خطرے میں ہیں کیونکہ ہم قانون کی حکمرانی کیلئے لڑ رہے ہیں۔ سندھ کی جوڈیشری کے ساتھ جو ہو رہا ہے کچھ قوتیں جوڈیشری کو پولیٹی سائز کررہی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر راجا زاہد نے کہا کہ جس معاشرے میں قانون کے رکھوالے محفوظ نہ ہوں وہ معاشرہ وحشت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ریاست پر عوام کے تحفظ کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ بینچ بار سے بنتا ہے اور واپس بار ہی میں

شامل ہوتا ہے۔ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ آزاد کشمیر بار کونسل کے چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی سردار آزاد خان نے کہا کہ شہدا کی تحریک کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے وکلا کی قربانی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پنجاب بار کونسل کے فرحان شہزاد نے کہا کہ بلوچستان کے وکلا نے ہمیشہ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی کیلئے قربانیاں دی ہیں ان قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔ جب تک سانس میں سانس ہے ہم بار کے ساتھ قانون کی بالادستی کیلئے کھڑے رہیں گے۔ سپریم کورٹ بار کے سابق سیکرٹری اسلم زار نے کہا کہ

وکلا پہلے سے متحد ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدور امان اللہ کنرانی، علی احمد کرد نے کہا کہ 8 اگست کے شہدا کے حوالے سے جتنا ہم اپنا اظہار کرے لیکن وہ غم کم ہونے کا نام نہیں لیتا ہمارا کام عدالتوں میں بیٹھ کر لوگوں کے ساتھ ہونے ظلم کا کیس لڑنا ہے لیکن بدقسمتی سے وکیل ہمیشہ سڑکوں پر سراپا احتجاج نظر آیا ہے۔ وکلا نے ہمیشہ ڈکٹیٹر شپ کے خلاف آواز بلند کی ہے گرفتاریاں دی ہے۔ وکلا کے ساتھ جاری ظلم و ستم کا سلسلہ بند ہونا چاہیے بلوچستان میں مسخ شدہ لاشیں روز کا معمول ہیں۔

مقتدرہ پاکستان کے مفاد میں یہ ظلم بند کریں۔ پاکستان 22 کروڑ عوام کا ہیں جس دن یہ 22 کروڑ عوام باہر نکلیں تو پاکستان میں کچھ نظر نہیں آئے گا۔ لوگوں کے آنکھوں میں موجود خون اور غصہ دیکھا جائے۔ کوئی مائی کا لال جسٹس قاضی فائز عیسی کا بال بھی بھاکا نہیں کر سکتے۔ بلوچستان کے بلوچ پشتون علاقوں میں کوئی ایسا گھر نہیں جہاں لاش نہ گئی ہوں لاشوں سے لوگوں کا منہ بند نہیں کیا جا سکتا۔ آخر میں چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی محمد ایوب ترین ایڈووکیٹ نے تعزیتی ریفرنس میں شریک وکلا کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…