پی آئی اے کی زمین، بلڈنگز اور جہازوں کو گروی رکھوانے کا فیصلہ

  بدھ‬‮ 14 جولائی‬‮ 2021  |  22:09

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی حکومت نے پی آئی اے کے لیے 20 ارب روپے کے فنڈز اکٹھا کرنے کیلئے 10سال کی مدت کے سکوک بانڈز جاری کرنے کا فیصلہ کرلیا۔حاصل دستاویز کے مطابق حکومت نے پی آئی اے کے لیے 20 ارب روپے فنڈز اکٹھے کرنے کا نیا منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت حکومت پاکستان نے انٹرنیشنل ائیرلائنز کے اسلامی بانڈز اجراء کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پی آئی اے کے لیے سکوک بانڈز کی مدت 10 سال کے عرصے کے لیے ہوگی اور سرمایہ کاروں کی دلچسپی کی صورت میں گرین شو آپشن کے تحت مزید 5


ارب روپے کے سکوک بانڈز فروخت کیے جاسکیں گے۔یہ بانڈز پاکستان اسٹاک ایکس چینج پر بھی لسٹ ہوں گے، ان سکوک بانڈز سے حاصل رقم سے پی آئی اے مالی ضروریات پوری کرے گی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ ان بانڈز کی ضمانت کے طورپرپی آئی اے کے اثاثہ جات زمین، بلڈنگس اور جہازوں کو گروی رکھوایا جائے گا۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان نے امید ظاہر کی ہے کہ آئندہ انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال ہوگی اور اپوزیشن دھاندلی کا اعتراض اٹھائے بغیر نتائج تسلیم کرلے گی، اگر اپوزیشن ہارے گی تو وہ مان جائے گی انہیں صاف اور شفاف طریقے سے شکست دی ہے،سرکاری اداروں میں ہر کام انتہائی دشواری سے ہوتا ہے، ضروری ہے ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جائے،اگست تک اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ کمپوٹر پر آجائے گا اس طرح وہاں کے لوگوں کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوجائیں گی،اگر اسلام آباد کا ماسٹر پلان تیار نہیں کیا گیا تو آئند چند برسوں میں وفاقی شہر کو کوئی مسائل کا سامنا ہوگا۔ بدھ کو پنجاب کیلئے وراثتی سرٹیفکیٹس کی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ امریکا میں صدارتی انتخاب میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نتائج چیلنج کیےتاہم انتخاب میں ای وی ایم مشین استعمال ہوئی اس لیے امریکا میں کچھ نہیں ہوا۔وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کا اصل مقصد گورننس کے ذریعے آسانی پیدا کرنا ہے، حکومت ٹیکس کی مد میں جمع ہونے والے ریونیو کی بنیاد پر کرتی ہے اور نتیجے میں ٹیکس دہندگان کی خدمت کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب حکومتی ادارے غیر فعال ہوںجائیں تو حکومت عوام کی خدمت کرنے سے قاصر ہوجاتی ہے اور پھر عوام حکومت کی ’خدمات‘ کرتے ہیں اور یہ ناقص نظام کی علامت ہے۔انہوں نے کہا کہ وزارت قانون پر کام کا بہت دباؤ ہے اور جو فائل ادھر جاتی ہے اس کا کئی وقت تک معلوم نہیں چلتا کہ وہ کدھر کھوگئی ہے تاہم اس کے باوجود وراثتی سرٹیفکیٹس میں معاونت فراہمکرنے پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ سرکاری اداروں میں ہر کام انتہائی دشواری سے ہوتا ہے، ضروری ہے ٹیکنالوجی کی مدد سے لوگوں کے لیے آسانی پیدا کی جائے۔انہوں نے کہا کہ شوکت خانم ہسپتال میں بھرپور طریقے سے ٹیکنالوجی کا استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کا وجود ہی نہیں رہا،کوشش ہے کہ حکومت میں ای گورننس لے کر آئیں۔انہوںنے کہاکہ عدالت میں آدھے کیسز زمینوں سے متعلق ہوتے ہیں، قبضہ گروپ بھی اس لیے وجود میں آتے ہیں کہ زمین کے کیسز جلدی ختم نہیں ہوتے تو اس لیے ہم لینڈ ریکارڈ ٹیکنالوجی بیس کررہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اگست تک اسلام آباد میں لینڈ ریکارڈ کمپوٹر پر آجائےگا اس طرح وہاں کے لوگوں کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوجائیں گی۔انہوں نے کہا کہ ای گورننس ہی حکومت اور ملک کو ترقی کی جانب لے جائے گی، جس طرح وراثتی سرٹیفکیٹس کیلیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا اسی طرح دیگر سرکاری اداروں میں بھی رائج کرنا ہے۔عمران خان نے خواہش ظاہر کی کہ اوورسیز پاکستانی انتخابات میںشامل ہوں، 90 لاکھ اوورسیز پاکستانی بہت بڑا اثاثہ ہیں تاہم انہیں یہاں مختلف قسم کی پریشانی بتادی جاتی ہے اور وہ اپنا حق رائے دہدی استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ جب ایسا نظام متعارف کرایا جائے گا کہ جو نقائض سے پاک ہو اور ای وی ایم مشین انتخابات میں استعمال کی جا سکے.علاوہازیں اسلام آباد میں مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد سے متعلق تقریب میں خطاب کے دوران وزیر اعظم عمران خان نے زور دیا کہ اگر اسلام آباد کا ماسٹر پلان تیار نہیں کیا گیا تو آئند چند برسوں میں وفاقی شہر کو کوئی مسائل کا سامنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے ماسٹر پلان تیار کرے، جو سبزہموجود ہے اس کا تحفظ یقینی بنائے اور پھر جو جگہ خالی ہے اس میں درخت لگائے جائیں۔انہوںنے کہاکہ اسلام آباد میں لندن جتنی بارش ہوتی ہے اس لیے کوشش کریں کہ اسلام آباد ایک مثالی شہر بنیں کیونکہ یہاں درخت کی نشو نما تیز ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے اسلام آباد میں قبضہ گروپ کے خلاف کارروائی سے متعلقآئی سی اسلام آباد سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ قبضہ گروپ کو گرفتار کرتے ہیں تو انہیں عدالت سے ضمانت پر رہائی مل جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کی زمینوں پر قبضہ کی اصل وجہ پیسہ بھی ہے لیکن ان کے خلاف سخت قانون سازی کی جائے گی جبکہ لاہور میں بھی یہ ہی مسئلہ درپیش ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

دو ہزاربچوں کا محسن

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎

چترال کے دو حصے ہیں‘ اپر چترال اور لوئر چترال‘ دونوں اضلاع الگ الگ ہیں‘ لوئر چترال دریا کے کنارے آباد ہے اور وادی نما ہے جب کہ اپر چترال پہاڑوں پر چپکے‘ لٹکے اور پھنسے ہوئے دیہات کی خوب صورت ٹوکری ہے‘ ہم اتوار کی صبح اپر چترال کے ضلعی ہیڈ کوارٹر بونی کے لیے روانہ ہوئے‘ سفر مشکل ....مزید پڑھئے‎