بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

پرائز بانڈزخرید کر رکھنے والوں کیلئے بری خبر 1500روپے ، 750 اور 200 روپے والے پرائز بانڈز بھی ختم کرنے کی تیاریاں ، بندش سے قبل بڑا مطالبہ کردیا گیا

datetime 22  جون‬‮  2021 |

کراچی(این این آئی)آل پاکستان پرائز بانڈز ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے چیئرمین فاروق نورانی نے کہا ہے کہ معیشت کو سہار ادینے والے انعامی پرائزبانڈ کا مستقبل کیوں خراب کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک پر زور دیا کہ 40ہزار روپے ، 25ہزار روپے ، 15ہزار روپے اور 7500 والے انعامی پرائز بانڈز کو واپس لینے کیلئے اسٹیٹ بینک کے کانٹر میں اضافہ کیا جائے تا کہ 30 ستمبر سے قبل دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پرائز بانڈز کو باآسانی کیش کرایا جاسکے ۔ چیئرمین ایسوسی ایشن نے مشیر معیشت سے کہا کہ ملک کی معیشت کو بہتر بنانے والے انعامی پرائز بانڈز دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں، اب ان کو واپس کرانے کیلئے حکومت سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور اخبارات کے ذریعے آگاہی مہم کا آغاز کر ے ورنہ اربوں روپے کے پرائز بانڈز ردی کی نظر ہونے کا خدشہ ہے ،فاروق نورانی نے اسٹیٹ بینک اور معیشت کے نگرانوں سے درد مندانہ اپیل کی کہ ملک میں کار آمد چلنے والے 1500روپے ، 750 اور 200 روپے والے انعامی بانڈز بند کرنے سے قبل آل پاکستان پرائز بانڈز ڈیلرز ویلفیئر ایسوسی ایشن سے مشورہ کیا جائے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…