منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا کی بھارتی قسم ’ڈیلٹا ‘ دنیا کیلئے خطرہ قرار دے دی گئی

datetime 21  جون‬‮  2021 |

نئی دہلی ( آن لائن )بھارت میں تیزی سے پھیلنے والی کورونا وائرس کی قسم ‘‘ڈیلٹا’’ دنیا کے لیے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق کورونا وائرس کی سب سے زیادہ خطرناک قسم ‘‘ڈیلٹا’’ ہے جو بھارت سے شروع ہوئی اور اب تیزی سے دیگر

ممالک میں پھیل رہی ہے۔کورونا وائرس کی قسم ڈیلٹا دسمبر 2020 میں بھارت میں دریافت ہوئی تھی۔ ڈیلٹا نے بھارت اور برطانیہ میں سب سے زیادہ تباہی مچائی۔ امریکہ میں بھی ڈیلٹا کے غلبے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔‘‘ڈیلٹا’’ کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے اور یہ صرف 6 ماہ کے عرصے میں 80 ممالک تک پہنچ چکی ہے۔ متعدد ممالک میں ڈیلٹا کے کیسز میں اضافے کے بعد سفری پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔اس سے قبل کورونا کی قسم ‘‘ایلفا’’ سامنے ا?ئی تھی جسے سب سے زیادہ خطرناک تصور کیا جا رہا تھا تاہم اب بھارت سے سر اٹھانے والی کورونا وائرس کی قسم ‘‘ڈیلٹا’’ کو دنیا کے لیے سب سے خطرناک تصور کیا جا رہا ہے۔ ماہرین نے ڈیلٹا کے بارے میں کہا ہے کہ یہ سابقہ اقسام سے 43 سے 90 فیصد تک زیادہ متعدی ہے اور اس کے پھیلاؤ کی رفتار 30 سے 100 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…