بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

کفایت شعاری پالیسی جاری، وزیروں کے گھروں اور افسروں کے دفاتر کی تزئین وآرائش پرپابندی عائد

datetime 19  جون‬‮  2021 |

لاہور(این این آئی)پنجاب حکومت نے آئندہ سال میں کفایت شعاری پالیسی جاری کر دی،صوبائی وزیروں کے گھروں اور افسروں کے دفاتر کی تزین وآرائش پرپابندی عائد کردی گئی،اطلاق یکم جولائی سے صرف وسطی پنجاب میں ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب کو کفایت شعاری پالیسیوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔تفصیلات کے مطابق کفایت

شعاری پالیسی کے تحت آئندہ سال بھی سرکاری اخراجات کو کم کیا جائے گا، محکمہ خزانہ پنجاب کی جانب سے جاری کردہ کفایت شعاری پالیسی کے تحت وزرا ء اور افسروں کے بیرون بیرون ملک علاج معالجے پر پابندی ہو گی۔وزرا ء اور افسران کے سرکاری خزانے سے دورے بھی کفایت شعاری پالیسی کا حصہ رہیں گے،وزرا ء کے گھروں کی تزین وآرائش پر پابندی رہے گی۔محکمہ خزانہ پنجاب کے حکام کیمطابق سرکاری دفاتر کی تزین وآرائش اور ایئر کنڈیشنر سمیت جنریٹر کی خریداری پربھی پابندی ہو گی جبکہ نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری کے لیے اسٹیرٹی کمیٹی سے رجوع کرنا ہوگا۔ محکمہ خزانہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ کفایت شعاری پالیسی کا اطلاق یکم جولائی سے صرف وسطی پنجاب میں ہوگا جبکہ جنوبی پنجاب کو کفایت شعاری پالیسیوں سے استثنیٰ حاصل ہو گا۔دوسری جانب ”ب“ فارم نہ ہونے پر پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پارٹنر سکولوں کے طلبہ پر تعلیم کے دروازے بند کر دئیے گئے،”ب“ فارم کی عدم دستیابی پر پیف نے بچوں کی فیسوں کی ادائیگیاں بند کر دیں جبکہ پیف نے کہا ہے کہ پارٹنر سکولز کسی بھی بچے کو”ب“فارم نہ ہونے کی وجہ سے سکول سے خارج نہ کریں۔نجی ٹی وی کے مطابق ”ب“فارم نہ ہونے پر سکولوں سے 40 ہزار سے زائد طلبہ کو نکال دیا گیا ہے۔ پنجاب

ایجوکیشن فانڈیشن نے پارٹنر سکولوں سے 40 ہزار سے زائد طلبہ کے نام خارج کرا دیئے ہیں۔پیف کے پارٹنر سکولوں سے پہلی تاپانچویں جماعت تک کے طلبہ کوسکولوں سے نکالا گیا ہے۔پیف کی جانب سے سکولوں کے سربراہان کے نام ایک مراسلہ جاری کیا گیا جس میں یہ واضح کیا گیا کہ جب تک ”ب“ فارم نہیں بنے گا طلبہ کی

فیسوں کی ادائیگیاں نہیں ہوں گی اوران طلبہ کے ناموں کو فزیکل ویری فکیشن کی فہرست سے بھی نکال دیا گیا ہے۔نادرا سے تصدیق شدہ ”ب“فارم نہ بننے تک ان طلبہ کوسکولوں میں دوبارہ داخل نہیں کیاجائیگا۔ پیف حکام نے سکولوں کے سربراہان سے طلبہ کے ”ب“فارم نہ ہونے کی وجوہات بھی مانگ لی ہیں۔ ترجمان پنجاب ایجوکیشن

فانڈیشن کا کہنا ہے کہ پارٹنرز سکولوں کو طلبہ کے ”ب“فارم فراہمی کے لئے مزید وقت دینے پر غور کیا جارہا ہے،پارٹنر سکولوں کو ب فارم جمع کروانے کے لیے ڈیڑھ سال سے آگاہ کیا جا رہا ہے، ترجمان پیف کا کہنا ہے کہ پارٹنر سکولز کسی بھی بچے کو”ب“فارم نہ ہونے کی وجہ سے سکول سے خارج نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…