منگل‬‮ ، 06 اکتوبر‬‮ 2026 

سپیکر قومی اسمبلی کو جوتا مارنے کا نوٹس ردی کی ٹوکری میں چلا گیا شاہد خاقان نے جواب دیا نہ ہی معافی مانگی ،اسد قیصر کی بھی پراسرار خاموشی

datetime 15  جون‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما صدر شاہد خاقان عباسی کی جانب سے انہیں جوتا مارنے کی دھمکی کے بعد جاری کئے جانیوالا شوکاز نوٹس خاموشی سے دبا دیا ،شاہد خاقان عباسی نے معافی مانگی نہ ہی شوکاز نوٹس کا جواب دینا

گوارا کیا بلکہ سپیکر نے ایوان کو شاہد خاقان عباسی کے جواب نہ دینے کے حوالے سے آگاہ بھی نہ کیا ۔قومی اسمبلی کے ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر نے سپیکر کا نوٹس ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا۔ ڈیڑھ ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود شوکاز نوٹس کا جواب تک نہ دیا۔ قومی اسمبلی سکرٹریٹ نے بھی کارروائی کی بجائے خاموشی اختیار کر لی۔ جواب نہ دینے پر شاہد خاقان عباسی کو معطل کیا گیا نہ ہی ایوان کو آگاہ کیا گیا۔ سپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی پر 21 اپریل کو نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ شاہد خاقان عباسی نے 7 دن میں جواب دینا تھا جو ابھی تک نہیں دیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سپیکر اسد قیصر نے بھی جواب نہ دینے پر بھی سیکرٹریٹ کو کارروائی سے متعلق کوئی ہدایت نہیں دی بلکہ معاملے پر خاموش اختیار کرلی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…