بدھ‬‮ ، 02 اپریل‬‮ 2025 

ن لیگ کے 5 سال میں خسارہ ساڑھے7 ہزار ارب تھا، پی ٹی آئی حکومت کے 3 سال میں خسارہ 10ہزار ارب سے بڑھ چکا، شاہد خاقان عباسی نے حکومتی وزراء کو بڑا چیلنج دے دیا

datetime 13  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے مرکزی سینئرنائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاہے کہ یہ اے ٹی ایم بجٹ ہے اس سے صرف حکومتی اے ٹی ایم کو فائدہ ملے گا،، بجٹ کی بنیاد ہی جھوٹ پر رکھی گئی ہے، بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ ان ڈائریکٹ ٹیکس لگانے سے بوجھ غریب عوام پر پڑے گا،

عمران خان کی حکومت آنے سے ملک میں 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگے، جھوٹ بولنے سے حقائق بدلتے نہیں ہیں۔اتوارکو مسلم لیگ ہاؤس کارساز میں سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ مالی سال 22-2021 کے لیے پیش کردہ بجٹ میں کوئی نئی بات نہیں ہے، شوکت ترین نے وہی بجٹ تقریر کی جو انہوں نے 12سال قبل پیپلز پارٹی کے دور میں کی تھی،یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو جھوٹ بول کر کام چلارہی ہے، بجٹ کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے، ماضی میں بھی حکومتی آمدن کے دعوے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ بجٹ کا سارا انحصار ملک کی آمدن کو 24 فیصد بڑھانے پر ہے، اثاثے بیچ کر آمدنی کو بڑھایا نہیں جاسکتا۔ ن لیگ کے 5 سال میں خسارہ ساڑھے7 ہزار ارب تھا جب کہ پی ٹی آئی حکومت کے 3 سال میں خسارہ 10ہزار ارب سے بڑھ چکاہے، جوحقائق پیش کیے،چیلنج کرتاہوں کہ کوئی وزیراس کو جھٹلادیں۔انہوں نے کہاکہ بجٹ میں فائدہ صرف سرمایہ داروں کو دیا گیا ہے، یہ اے ٹی ایم بجٹ ہے صرف حکومتی اے ٹی ایم کو فائدہ ملے گا، بجٹ دستاویز کے مطابق 383 ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے ہیں، 265 ارب بالواسطہ ٹیکسیشن سے حاصل کیے جائیں گے، بالواسطہ ٹیکس لگانے سے بوجھ غریب عوام پر پڑے گا، جب سے پی ٹی آئی

کی حکومت آئی ہے 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگے ہیں، روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا، مشینری پر 17 فیصد ٹیکس لگا دیا گیا، اس کے علاوہ خام تیل،ایل این جی اور آر ایل این جی پر بھی ٹیکس لگا رہے ہیں۔ ایل این جی سے متعلق بہت واویلا کیا گیا، حکومت کو اب پتہ لگا کہ ایل این جی سے ملک کو فائدہ ہورہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1200 ارب کے نئے ٹیکس لگانے کے باوجود صرف800 ارب کی اضافی رقم حاصل کی جا سکی ہے، حکومت کی جانب سے ساڑھے 11 سو ارب روپے کی آمدن کا دعوی کیا جا رہا ہے، مگر اس آمدن کا ذریعہ کیا ہے وہ تو بتایا جائے۔انہوں نے کہا کہ ان 2 پاور پلانٹس کو بیچنے کی بات کی جا رہی ہے جو نواز شریف

نے لگائے تھے، عوام کو بتایا جائے کہ نئے ٹیکس لگا رہے ہیں یا نہیں؟سابق وزیر اعظم نے کہا کہ اس وقت ہماری برآمدات 2018 کی سطح سے کم ہے، حکومت روپے کی قدر کم کرنے کے باوجود برآمدات نہیں بڑھاسکی، مہنگائی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے، 2018 میں گھی پر21 روپے ٹیکس تھا، عمران خان کی ریاست مدینہ میں 51 روپے ٹیکس ہے، 53 روپے کی چینی 120 پر لے گئے اور اب مزید ٹیکس بھی لگادیا، ٹیکس لگانے سے بچوں

کے دودھ اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی پر بوجھ پڑے گا، 2018 میں آٹا 35 روپے کلو تھا آج 80 روپے فی کلوقیمت ہے، 3 سال میں 2 کروڑ لوگ سطح غربت سے نیچے آگئے، آج غریب آدمی 2وقت کیا ایک وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت ہے جو جھوٹ بول کر کام چلا رہی ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھنے سے عام آدمی پر بوجھ پڑے گا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…