جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

بجٹ پیش ہونے سے ایک دن قبل حکومت کو بڑا جھٹکا اہم اتحادی جماعت کی سنگین دھمکی نے ہوش اڑا دئیے

datetime 10  جون‬‮  2021
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (آن لائن) بجٹ کے قریب آتے ہی حکومت کے اتحادیوں کے تحفظات سامنے آگئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جمہوری وطن پارٹی ترقیاتی کام نہ ہونے پر حکومت سے ناراض ہے ،شاہ زین بگٹی کا بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے پارٹی رہنمائوں سے مشاورت شروع کر دی ہے ۔ذرائع نے بتایا کہ جمہوری وطن پارٹی نے حکومت کی جانب

سے کئے گئے وعدوں پر عملدرآمد نہ کرنے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، بلوچستان میں ترقیاتی کاموں سے متعلق یقین دہانی کروائی گئی تھی جو پوری نہ ہو سکی جس بجٹ میں عوام کیلئے ریلیف نہ ہو اس بجٹ میں شامل ہونے کا فائدہ نہیں،ذرائع نے بتایا کہ تحریک انصاف کے سینئر رہنمائوں نے شاہ زین بگٹی سے رابطہ کیا ہے اور ان کے تحفظات دور کرنے کیلئے یقین دہانی کرائی ہے جبکہ پی ٹی آئی رہنمائوں کے شاہ زین سے ملاقات کیلئے معاملات بھی طے پا گئے ہیں ۔خیال رہے اس سے قبل  مسلم لیگ (ق) نے بھی مطالبات تسلیم نہ ہونے تک حکومتی قانون سازی میں ساتھ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر ہا ئو سنگ طارق بشیر چیمہ کا آمنا سامنا ہوا اور بعد ازاں وفاقی کابینہ میں حکومتی اور اتحادی اراکین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔وزیرخارجہ نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم صاحب آپ اتحادی جماعت سے

وضاحت لیں کہ کل حکومتی بزنس میں حکومتی اتحادی کیوں نہیں آئے، اتحادیوں کے نہ آنے پر اپوزیشن کی جانب سے بار بار کورم کی نشاندھی ہوتی رہی۔ ذرائع کے مطا بق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ جی طارق بشیر چیمہ صاحب، آپ کل کیوں اسمبلی اجلاس میں شریک نہیں ہوئے جس پر طارق بشیر چیمہ نے جواب دیا کہ ہمارے

مطالبات تسلیم نہیں کئے جارہے تو کیسے حکومتی بزنس کا حصہ بنیں۔وزیراعظم نے سوال کیا کہ آپ کے کیا مطالبات ہیں، وزیر ہا ئو سنگ نے جواب دیا ہم اپنے مطالبات یہاں نہیں آپ کے ساتھ الگ ملاقات میں بتائیں گے۔ حکومتی اتحادی کی طرف سے صاف جواب پر تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔واضح رہے حکومتی بزنس کے حوالے سے عامر ڈوگر نے مسلم لیگ (ق)

کے ارکان کو ایوان میں آنے کا کہا تھا تاہم مسلم لیگ (ق) کے ارکان نے مطالبات تسلیم نہ ہونے تک حکومتی قانون سازی میں ساتھ نہ دینے کا جواب دیا ہے۔دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت منگل کو وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وفاقی وزیر ہائو سنگ طارق بشیر چیمہ نے ترقیاتی کام نہ ہونے پر سوالات اٹھادئیے اور وزیر اعظم سے شکوہ

کرتے ہوئے کہا مسلم لیگ ق اتحادی جماعت ہے لیکن ہمارے کام نہیں ہورہے۔ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے جس کے مطابق وفاقی وزیر طارق بشیر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا ہم آ پ کے اتحادی ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ سلوک ٹھیک نہیں ہورہا ،علاقے کے مسائل حل نہیں ہو رہے۔حلقوں میں جاتے ہیں تو عوام ہم سے سوال کرتے ہیں ۔اس موقع پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا طارق بشیر چیمہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا آپ کو قومی اسمبلی اجلاس کا بائیکاٹ نہیں کرنا چاہیئے تھا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…