کمرشل معاملات کے فیصلے ہونگے اب تیز تر چیف جسٹس نے پہلی کمرشل کورٹ کا افتتاح کر دیا

  ہفتہ‬‮ 5 جون‬‮ 2021  |  15:28

لاہور(این این آئی) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پہلی کمرشل کورٹ کا افتتاح کر دیا۔تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پہلی کمرشل کورٹ کا افتتاح کر دیا۔چیف جسٹس آ ف پاکستان جسٹس گلزار احمداور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کمرشل کورٹس میں گئے اور عدالتوں کا معائنہ کیا۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد اور چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان کے ہمراہ ہائیکورٹ کے سینئرجج جسٹس محمد امیر بھٹی،جسٹس جواد


حسن ،جسٹس شاہد کریم،رجسٹرار ہائیکورٹ مشتاق احمد اوجلا،سیشن جج لاہور سجاد حسین سندھڑ،سینئر سول جج اظہر حسین رامے،سیشن جج جاوید الحسن چشتی اورمحمدسعید اللہ بھی ہمراہ تھے۔سیشن جج لاہور سجاد احمد سندھڑ نے مہمانوں کا استقبال کیا اورپھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمدنے کہاکہ کمرشل معاملات کے جلد فیصلے ملکی ترقی کیلئے بہت ضروری ہیں۔پنجاب میں پہلی کمرشل کورٹ کا قیام ایک اہم سنگ میل ہے،چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں۔کمرشل کورٹ پورے پنجاب میں بنائی گئیں ہیں، کمرشل کورٹس کیلئے 42ججز لیے گئے جن کی ٹریننگ7جون سے10جون تک جاری رہے گی۔ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کمرشل کورٹس کے 45 ایڈیشنل سیشن ججز 4 روزہ تربیتی کورس کریں گے جبکہ پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں کمرشل کورٹس کے ججز کے تربیتی کورس کیلئے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں۔ججز کو تربیتی کورس کے دوران کارپوریٹ لاز، اے ڈی آر سمیت تمام کمرشل قوانین سے متعلق آگاہی دی جائیگی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎