پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

سادہ لوح خاتون نے وزیر اعظم سے بینظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام میں فرق پوچھ لیا

datetime 25  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ،اے پی پی)احساس سنٹر کے دورے کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایک سادہ لوح خاتون نے وزیر اعظم سے بینظیر انکم سپورٹ اور احساس پروگرام میں فرق پوچھ لیا۔سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ خاتون نے وزیر اعظم سے کہا کہ بینظیر والا کارڈ اب کیوں نہیں آتا، اس میں پیسے نہیں آتے۔

اس پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ بینظیر والا نہیں بلکہ احساس کارڈ ہے جو ہم نے شروع کیا ہے۔اس دلچسپ صورتحال میں احساس پروگرام کی سربراہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر فوری طور پر میدان میں اتریں اور خاتون کو بتایا کہ اس کا نام اب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال کر احساس پروگرام میں شامل کیا جاچکا ہے۔دریں اثنااحساس بچت بنک اکائونٹ پروگرام کے آغاز پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے  کہا کہ وہ ورلڈ بنک کی جانب سے احساس پروگرام کو سیفٹی نیٹ کا کووڈ کے دوران دنیا کا چوتھا بہترین پروگرام قرار دینے کے اعزاز کے حصول پر ڈاکٹر ثانیہ نشتر،احساس کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی وبا کے دوران امیر اور غریب تمام ممالک میں لاک ڈائون سے سب سے زیادہ غریب متاثر ہوا،دنیا میں ا س دوران کروڑوں لوگ غربت کی نچلی سطح پر آگئے،سب سے زیادہ کمزور اور دیہاڑی ڈار طبقہ متاثر ہوا۔انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے فوری

اور شفافیت سے متاثر طبقہ کی مدد کی ان میں ورلڈ بنک کے مطابق چوتھے نمبر پر پاکستان ہے،اگر یہ فوری طور پر یہ پروگرام نہ دیا ہوتا تو 25 فیصد غربت کا شکار ملک پاکستان میں غریب لوگوں کو مزید مشکلات کا سامنا ہوتا۔اس پروگرام میں سیاسی بنیادوں پر کسی کو فائدہ نہیں پہنچایا گیا،اس پروگرام میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا اور مستحق لوگوں کی

مدد کی گئی۔انہوں نے کہا کہ احساس اکائونٹ کی دووجہ سے اہمیت ہے اس میں ایک بینکنگ سسٹم میں زیادہ سے زیادہ رجسٹریش ہے اس سے غربت میں کمی آئے گی اور دوسرااس سے خواتین کو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے،زیادہ سے زیادہ لوگ مالایات نظام میں آنے سے غربت میں تیزی سے کمی اتی ہے۔نائیجریا،کینیا اور بنگلہ دیش میں اس کاتجربہ

کامیابی سے کیا جاچکا ہے۔خواتین کو مین سٹریم میں لانے سے ان کی زندگی میں بہتری آئے گی،وہ اپنے کاروبار شروع کر سکیں گی۔یہ پروگرام بھی احساس کے تحت چلنے والے پروگراموں کی طرح کامیاب ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک عظیم نہیں بن سکتا جب تک پیچھے رہ جانے والے طبقہ کو نظرانداز کیا جاتا رہے اور اسے اوپر نہ اٹھایا

جائے،کوئی ملک جہاں امیروں کا ایک چھوٹا جزیرہ اور غریبوں کا پورا سمندر ہو وہ ترقی نہیں کرسکتا۔ریاست مدینہ میں پہلی بار کمزور طبقہ کی ذمہ داری لی گئی،فلاحی ریاست کا تصور دیا،یہی وجہ تھی اتنی تیزی سے کوئی قوم نہیں اوپر آئی جتنی تیزی سے ریاست مدینہ اوپر آئی اور کئی صدیوں تک دنیا پر حکومت کی،وہاں احساس تھا،غریبوں،یتیموں،بیوائوں

کو اپنا بنایا تھا،وہ ہمارے لئے مثال ہے،اس ماڈل پر کوئی قوم چلے وہ اوپر آجاتی ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ قانون کی بالادستی دوسرا اصول تھاجس کی بنیاد پر قوموں نے ترقی کی،چین نے 35 سال میں 70 کروڑ افراد کو غربت سے نکالا،چین جس طرح آگے بڑھ رہا ہے لگتا ہے وہ دنیا کو پیچھے چھوڑ دے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا بھی وہی ماڈل ہے ہم کمزور طبقہ کو اوپر اٹھانے کے لئے پورا زور لگا رہے ہیں،احساس پروگرام بھی اسی لئے ہے کہ خواتین کو قومی دھارے میں لایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…