پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

” بچے کی دوائی لینے آئی تو ڈاکٹر صاحب موبائل پر’’ ارطغرل ‘‘ ڈرامہ دیکھ رہے تھے” خاتون روداد سناتے ہوئے رو پڑی

datetime 24  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک )بورے والا کے سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹرز کی غفلت کا واقعہ سامنے آگیا ۔ سوشل میڈیا پر ایک روتی ہوئی خاتون کی ویڈیو وائرل ہو گئی ۔ تفصیلات کے مطابق خاتون کا روتے ہوئے کہنا تھا کہ یہاں پر ڈاکٹرز مریضوں پر توجہ کم جبکہ ڈراموں پر توجہ زیادہ دے رہے ہیں ۔ خاتون کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ بچے کی دوائی کیلئے ڈاکٹرز کے پاس پہنچی تو

وہ ’’ارطغرل ‘‘ ڈرامہ دیکھ رہے تھےجبکہ پاس بیٹھے مریضوں پر ان کی ذرا بھی توجہ نہیں تھی ، خاتون کا کہنا تھا کہ ایک ماہ سے مسلسل میں ڈاکٹرز کے پاس چکر لگارہی ہیوں لیکن بچوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا جب بھی بچے کو چیک کروانے آتی ہوں تو ڈاکٹر پرچی پر دوائی لکھ کر دے دیتا ہے۔ خاتون نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرائیویٹ ہسپتال میں ڈاکٹر محمد حسین ایک دفعہ نچوڑ لیتے ہیں جبکہ بچوں کو خون لگوانا ہو تو اس کیلئے الگ سے ایک ہزار فیس لی جاتی ہے ،میرے بچے کو پچھلے ایک ماہ سے آرام نہیں آرہا مسلسل دوائی بھی کام نہیں کر رہی الٹا میرے بچے کی طبعیت مزید خراب ہو رہی ہے ، ڈاکٹر نے میرے ساتھ بدتمیزی کی اور گالیاں دی ہیں ۔ انکا کہنا تھاکہ ایک دفعہ میں دوائی لینے آئی تو دیکھا کہ ڈاکٹر صاحب اپنے موبائل پر’’ ارطغرل غازی ‘‘ڈرامہ دیکھنے میں مصروف ہیں جبکہ پاس مریضوں پر ان کی ذرا برابر بھی توجہ نہیں دی ۔ مریض مر رہے ہیں جبکہ ڈاکٹرز اپنے موج مستیوں میں لگے ہوئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…