اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ بلوچستان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے، اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور ناراض وزراء کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

datetime 17  مئی‬‮  2021 |

کوئٹہ (این این آئی )بلوچستان حکومت کے ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے ، اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو اور ناراض وزراء نے آئندہ چند دنوں میں مستعفی ہونے کی مشاورت مکمل کرلی حتمی فیصلہ کوئٹہ میں نشست میں کیا جائیگا ناراض ارکان کا آنے بجٹ کا حصہ بھی

نہیں بننے پر اتفاق ، بلوچستان حکومت کے ناراض ارکان کے قریبی ذرائع کے مطابق ناراض ارکان اور وزیراعلیٰ کے ددرمیان خلیج اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اب تعلقات بہتر ہونے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں ایسے حالات میں جب وزیراعلیٰ نے اپنی پارٹی کے وزراء اور اسپیکر کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ان حالات میں وہ مزید حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتے اس سلسلے میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو، سابق وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی وزیر خزانہ میر ظہور بلیدی اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر وزیر تعلیم سردار یار محمد رند اور دیگر ارکان نے اپنے عہدوں سے مستعفیٰ ہونے اور بجٹ کا حصہ نہ بننے پر مشاورت کرلی ہے ناراض ارکان آئندہ دو روز میں کوئٹہ پہنچیں گے جہاں وہ حتمی مشاورتی نشست کے بعد اپنے فیصلوں کا اعلان کریں گے ۔ واضع رہے کہ گزشتہ کئی ہفتوں سے صوبائی حکومت میں حکمران جماعت بی اے پی کے بعض ارکان اور پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے تھے وزیراعلیٰ نے نہ صرف وزیر بلدیات سردار محمد صالح بھوتانی سے ان کے محکمے کا قلمدان واپس لیا بلکہ اسپیکر میر عبدالقدوس بزنجو کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھائے اور

اسپیکر سے ان کے وزرارت اعلیٰ کے دور میں لی جانے والی گاڑیوں کی واپسی کیلئے ایک خط بھی لکھا وزیراعلیٰ بلوچستان نے پی ٹی آئی کے سردار یار محمد رند کو نہ صرف ہدف تنقید بنایا اور اپنی جماعت کے وزیرخزانہ میر ظہور بلیدی کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں بجٹ کے حوالے سے منعقدہ اجلاسوں میں مدعو نہ کرکے

اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کیا ذرائع کے مطابق ناراض ارکان نے جلد ہی اپنے عہدوں اور وزارتوں سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیاہے بجٹ سے قبل ناراض ارکان دیگر ہم خیال ارکان کے ساتھ مل کر مشترکہ لائحہ عمل طے کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان نے حکومت کا حصہ نہ ہو نے اصولی فیصلہ کرلیا ہے اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا ہے کہ یہ لوگ آئندہ آنے بجٹ کا بھی حصہ نہیں بنیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…