اتوار‬‮ ، 18 جنوری‬‮ 2026 

مولانا طارق جمیل کو سلمان خان کی کون سی خوبی پسند آئی اور ان کے فین ہو گئے

datetime 17  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ +این این آئی )معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے بالی ووڈ اداکار سلمان خان کے بارے بڑا بیان دے دیا، انہوں نے کہا کہ ہماری نبی کریمؐ کا فرمان ہے کہ وبا والے مریض اور آپ کے درمیان ایک نیزے کا فیصلہ ہونا چاہیے اور ایک نیزہ چھ فٹ کا ہوتا ہے جو آج ہمارے پاکستان میں ایس پی ایز میں کہا جا رہا ہے،

مولانا طارق جمیل نے اپنے پیغام میں کہا کہ سلمان اور ان کے خاندان کو میرا محبت بھرا سلام ہو اور میری طرف سے آپ سب کو عید مبارک ہو، ان کے والد کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ بڑے خوش قسمت ہیں کہ آپ کو سلمان خان جیسا فرمانبردار بیٹا ملا ہے، اتنی بڑی سیلیبرٹی ہو کر یہ آپ کا نوکر بن کر زندگی گزارتا ہے، مجھے شعیب اختر نے سلمان خان کی دو باتیں بتائیں، اس کے بعد سے میں ان کا فین ہو گیا ہوں، ایک یہ کہ سلمان خان اپنے ماں باپ کے بہت ہی فرمانبردار ہیں، ان کے سامنے کھڑے رہتے ہیں اور چوں بھی نہیں کرتے جیسے کہتے ہیں فوراً لگ جاتے ہیں، جس نے ماں باپ کو خوش کیا اس کے لئے جنت ہے، یہ جنت کا راستہ ہے، دوسری صفت یہ ہے کہ اتنے بڑے سخی ہیں کہ جتنا جھوٹ بولیں وہ سچ ہے، سخی سے اللہ تعالیٰ پیار کرتا ہے۔ دوسری جانب ملک کے معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے کپڑوں کا برانڈ لانچ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تقریباً 10 مدارس چلا رہے ہیں جن کے لیے ہم لوگوں سے زکوٰۃ لیتے ہیں، عام مدارس میں لوگوں کی طرف سے چندہ مانگنے کی ایک پوری کمپین چلائی جاتی ہے لیکن میرا ایسا معاملہ نہیں ہے بلکہ میں چند دوستوں کو فون کردیتا ہوں تو وہ آ جاتے ہیں ، لیکن گزشتہ برس عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے لوگ معاشی طور پر تنگی کا شکار ہوئے تو

ان کا حال بھی پتلا ہوگیا ، جبکہ میں بہت عرصہ سے سے دعا کرتا تھا کہ یا اللہ مدرسے کا بغیر زکوٰۃ کے اپنا کوئی ذریعہ آمدن بنادے کیوں کہ زکوٰۃ مال کی میل ہے اور اتنے عالی شاہ بچوں کو مال کی میل کھلانا ٹھیک نہیں ہے ، ہم مدارس چلانے کے لیے لوگوں سے بھیک مانگتے ہیں جس کی وجہ سے میرا سینہ تنگ پڑتا تھا لیکن میرے سامنے

بھی کوئی راستہ نہیں تھا۔ایک انٹرویو میں مولانا طارق جمیل نے بتایا کہ گزشتہ برس میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ مدرسے بند کرنا پڑے تو بند کردوں گا لیکن میں زکوٰۃ نہیں مانگوں گا، کوئی ہمارے ذمے تو نہیں ہے ایک ہزار کو پڑھانا ، لوگوں کی طرف سے خود سے پہنچایا گیا جتنا بھی ہمارے پاس فنڈ ہوگا ، اس سے جتنا ممکن ہوسکا ہم اتنے بچوں کو پڑھائیں گے باقیوں سے معذرت کرلیں گے۔معروف عالم دین نے کہا کہ ایک دن بچوں نے بھی بیٹھے

ہوئے سوچا کہ مدرسے کا اپنا ایک سورس ہونا چاہئے جس کے لیے کوئی برانڈ بنائیں، جب برانڈ کی بات آئی تو انہوں نے کپڑے اور پرفیومز کا برانڈ سوچا، بچوں نے مجھ سے کہا کہ ہم نے یہ سوچا ہے تو میں نے کہا اگر ہوسکتا ہے تو کرو۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنت میں تو مزے ہیں کہ جاؤ کھاؤ پیو ، لیکن ایک حدیث ہے کہ اگر جنت والے کاروبار کی اجازت مانگتے تو اللہ کے نبیؐ نے فرمایا کہ اللہ انہیں کپڑے اور خوشبو کا کاروبار کرنے کی اجازت دیتا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…