منگل‬‮ ، 03 فروری‬‮ 2026 

نوازشریف کے روکنے کے باوجود عسکری قیادت سے رابطے کیے گئے رابطوں میں کچھ ایسی باتیں ہوئیںجس پر نوازشریف کا تقریر میں لہجہ مزید سخت ہوا، حامد میر کے تہلکہ خیز انکشافات

datetime 26  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ نوازشریف کے روکنے کے باوجود عسکری قیادت سے رابطے کیے گئے، نوازشریف نے کہا تھا کہ کوئی عسکری قیادت سے رابطہ نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود لندن میں نوازشریف اور شہبازشریف کی فیملی

سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی،ان رابطوں میں کچھ ایسی باتیں ہوئیں، جس پر نوازشریف کا تقریر میں سخت لہجہ تھا۔نجی ٹی وی پروگرام میں تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اور آصف زرداری کا آپس میں رابطہ ہے، مولانا فضل الرحمان ، نوازشریف اور آصف زرداری کے درمیان پل کا کردار ادا کررہے ہیں، اسی طرح مریم نواز اور بلاول بھٹو کے درمیان بھی مستقل رابطہ ہے، بلاول بھٹو یا مریم سے دونوں کے بارے کوئی سوال کیا جائے تو غلط فہمی دور ہوجائیگی۔ کچھ وزرا صبح سے راگ لگا رہے تھے کہ بلاول بھٹو خطاب نہیں کریں گے۔پی ڈی ایم جلد ٹوٹ جائے گی۔ پی ڈی ایم کو توڑنے سے متعلق حکومت کا اپنا بیانیہ ہے، حکومت کے حامی ٹی وی چینل بلاول بھٹو، نوازشریف، مریم نواز اور نوازشریف کو ہدف تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔پی ڈی ایم کے جلسے کے دوران اور پہلے حکومتی وزرا پریس کانفرنس کررہے تھے۔ اس ساری صورتحال سے لگتا ہے پی ڈی ایم اے پی سی کے اعلامیے پر قائم ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا کچھ اندرونی معاملہ بھی ہے، نوازشریف نے جو سخت باتیں کی ہیں، اس کا اندرونی معاملات سے تعلق ہے، نوازشریف نے کہا تھا کہ کوئی عسکری قیادت سے رابطہ نہیں کرے گا، لیکن اس کے باوجود لندن میں نوازشریف اور شہبازشریف کی فیملی سے رابطہ

کرنے کی کوشش کی گئی ۔ان رابطوں میں کچھ ایسی باتیں ہوئی ہیں جس پر نوازشریف غصے میں ہیں۔پروگرام میں شریک سلیم صافی نے کہا کہ پی ڈی ایم کے جلسوں سے حکومت اور وزرا گھبرائے ہوئے ہیں۔ حکومت کے سہولت کار بھی پریشان ہیں۔بلوچ ، پختون، علما، پنجابی، سندھی

اور قومی زبان والے سب ایک اسٹیج پر موجود ہیں۔ یہ انڈیا کیلئے بھی جواب ہے۔انڈیا چاہتا ہے کہ پاکستان میں فرقہ ورانہ، لسانی بنیادوں پر لڑانا ہے۔انڈیا سی پیک کی ناکامی چاہتا ہے، لیکن اس کو بی آر ٹی حکومت نے بنایا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



محبت تا ابد


وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…