ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

گلگت سے آنے والے شخص کا سفاکانہ قتل،قتل سے پہلے انتہائی انسانیت سوز کام کیا گیا، جان کر آپ لرز اٹھیں گے

datetime 17  اپریل‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)ف خاتون کو مبینہ طور پر اغوا کے بعد قتل کرنے کے الزام میں سفاک قاتلوں نے ایک شخص کے منہ پر نو گولیاں مار کر قتل کردیا، قتل سے پہلے ہنٹرسے کھال ادھیڑی گئی، گرم استری سے نازک اعضا بھی جلائے گئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں قتل کا

انتہائی سنسنی خیز اور ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، سفاک ملزمان نے مقتول کے منہ پر نو گولیاں ماریں، قتل سے پہلے ہنٹر مار مار کر کھال ادھیڑ دی گئی، گرم استری سے جسم کے نازک اعضا بھی جلائے گئے۔قتل کی بیرحمانہ اور لرزہ خیز واردات میں پولیس نے خاتون کے بھانجے سمیت پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرلیا، گلگت سے کراچی آنے والے محمد علی کو تشدد کے بعد بے دردی سے قتل کردیا گیا۔مقتول محمد علی مبینہ طور پر پینتالیس سال کی خاتون کو گلگت سے اغوا کرکے کراچی لایا تھا، قتل کے الزام میں خاتون کے بھانجے کو گرفتار کرلیا گیا۔مرکزی ملزم شبرحسین نے ابتدائی تفتیش میں بیان دیا کہ مقتول نے اس کی پینتالیس سالہ خالہ زاد بہن ماہین کو اغوا کرکے قتل کردیا تھا، مبینہ طور پر خاتون کے بھائی ایس ایس پی استور نے بھانجے کے ساتھ اپنے ایک کانسٹیبل اور حوالدار کو بھی کراچی بھیجا۔دہشت گردوں کو تلاش کرنے والے لوکیٹر کی مدد سے محمدعلی کو ڈھونڈا گیا، ایڈیشنل ڈائریکٹر سول ایوی ایشن غفران عباس نے قتل میں ملزمان کی سہولت کاری کی، پولیس نے قتل میں ملوث آٹھ ملزمان کو گرفتار کرلیاہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…