جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد اس قانون کے تحت تو نواز ، مریم ،صفدر کے خلاف کارروائی ہی نہیں ہوسکتی،،شریف خاندان کوبچانے کیلئے ایسا کام ہوگیا کہ کسی نے سوچاتک نہ ہوگا

datetime 30  اگست‬‮  2018 |

لاہور (این این آئی) لاہور ہائیکورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے قائد و سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف ، انکی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاؤں اور ریفرنسز کی کارروائیاں روکنے کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت آج (جمعہ ) تک ملتوی کر دی ۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں جسٹس عاطر محمود اور جسٹس شاہد جمیل پر مشتمل بینچ نے

کیس کی سماعت کی ۔درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد نیب آرڈیننس 1999یکی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور یہ ایک مردہ قانون ہے، نواز شریف، مریم نواز کیپٹن (ر) صفدر اور شہباز شریف کے خلاف انکوائریاں غیر قانونی ہیں، اس قانون کے تحت شریف خاندان کے خلاف نیب انکوائریاں روکی جائیں۔نیب آرڈیننس قانونی افادیت کھو چکا ہے لہذا آرڈیننس کے تحت نواز شریف اور دیگر کی سزا کو کالعدم قرار دیا جائے اور سابق وزیراعظم کے خلاف دیگر ریفرینسز پر کارروائی روکی جائے۔دوران سماعت نیب کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروایا گیاجس میں کہا گیا کہ نیب قانون کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت ہیں، درخواستوں میں قانون کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، درخواست گزار کی جانب سے متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات کو عدالتی ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ نیب قانون کے خلاف درخواستیں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کی جائیں۔ جس پر فاضل عدالت نے مزید سماعت آج ( جمعہ ) تک ملتوی کردی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…