جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

دہشت گردی اور ترقیاتی کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے،صرف فوجی آپریشن کے ذریعے کوئی لڑائی ختم نہیں ہوتی ،آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کا اہم اعلان

datetime 29  اگست‬‮  2018 |

اسلام آ باد(آن لائن)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی اور ترقیاتی کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ہم سب کو ملکر انتشار کو واپس آنے سے روکنا ہے، صرف فوجی آپریشن کے ذریعے کوئی لڑائی ختم نہیں ہوتی ، ہمیں بد امنی کے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہوگا۔ قیام امن کیلئے قبائلی عمائدین کا فورسز سے تعاون قابل تعریف ہے ،

مقامی آباد کار علاقے کے امن و امان کا دشمن قوتوں سے تحفظ کریں۔ بدھ ک وپاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا ۔ آرمی چیف کو پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے اور علاقے میں استحکام لانے سے متعلق آپریشنز پر بریفنگ دی گئی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے باڑ لگانے کی رفتار اور کام کے معیار کو سراہا، قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ دہشت گردی اور ترقیاتی کام ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، ہم سب کو ملکر انتشار کو واپس آنے سے روکنا ہے، حال ہی میں شمالی وزیرستان میں آئی ای ڈی دھماکے کے چند واقعات رونما ہوئے ہیں صرف فوجی آپریشنز کے ذریعے کوئی لڑائی ختم نہیں ہوتی ۔ ہمیں بد امنی کئے مکمل خاتمے کو یقینی بنانا ہوگا، مقامی آبادی بد امنی پر اپنی توجہ مرکوز رکھے۔ انہوں نے کہا کہ بحالی اور ترقیاتی کوششوں پر مبنی آپریشنز جاری رہتے ہیں۔ سماجی اور معاشی ترقی کی رفتار بڑھتی جارہی ہے ، قیام امن کیلئے قبائلی عمائدین کا فورسز سے تعاون قابل تعریف ہے ، بڑے پیمانے پر امن بحال ہوچکا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…