جمعہ‬‮ ، 22 مئی‬‮‬‮ 2026 

’’جنرل باجوہ کو ’’جپھی ‘‘ کیوں ڈالی؟پاکستان میں بھارتی سفارتخانہ کیوں ہے؟سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کے صبر کا پیمانہ لبریز،مخالفت کرنیوالوں کو ایسا جواب دیدیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے کہاہے کہ حالیہ دورہ پاکستان سے ان کا یقین پختہ ہوا ہے کہ پاک بھارت تعلقات بہتر کیے جاسکتے ہیں اور وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مذاکرات پر زور نے ان کی امیدیں اور بڑھا دی ہیں۔تفصیلات کے مطابق نوجوت سنگھ سدھو نے 18 اگست کو نومنتخب وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی تھی، اس موقع پر انہوں نے نہ صرف آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مصافحہ کیا بلکہ گلے بھی ملے

جس پر بھارت میں مختلف حلقوں کی جانب سے ان پر شدید تنقید کے ساتھ ساتھ غداری کا مقدمہ بھی درج کروا دیا گیا اس سارے تنازع کے حوالے سے بھارتی اخبار دی ہندو کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں نوجوت سنگھ سدھو نے خود پر تنقید کرنے والوں سے چھبتے ہوئے سوال پوچھ ڈالے۔سدھو نے سوال اٹھایا کہ دورہ پاکستان پر واویلا کرنے والے اگر خیرسگالی نہیں چاہتے تو پاکستان میں بھارتی سفارتخانہ کیوں ہے؟ اگر ہم خیرسگالی نہیں چاہتے تو عید اور یوم آزادی پر مٹھائیوں کا تبادلہ کیوں کرتے ہیں؟ اوریہ بھی کہ اگر خیرسگالی نہیں چاہتے تو بھارتی ہائی کمشنر نے عمران خان کو بلا کیوں تحفے میں دیا؟انہوں نے کہا کہ وہ خیرسگالی سفیر کے طور پر امن اور محبت کا پیغام لیکر دوست کی حیثیت سے پاکستان گئے تھے ٗجہاں بچے بڑے سب اْن سے نہایت گرمجوشی سے ملے اور کہا کہ سدھو صاحب! تاڈا سواگت اے (آپ کو خوش آمدید کہا جاتا ہے)۔نوجوت سنگھ سدھو نے زور دیا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں ان کے گرمجوشی سے اس استقبال کا فائدہ اٹھائے اور امن بات چیت آگے بڑھائے، تنقید کے بجائے پاکستان سے تجارت بڑھانا اور دونوں قوموں کا رشتہ مضبوط کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ دورہ پاکستان سے میرا یقین پختہ ہوا ہے کہ پاک بھارت تعلقات بہتر کیے جاسکتے ہیں، خصوصاً عمران خان کی جانب سے امن مذاکرات پر زور نے میری امیدیں اور بڑھا دی ہیں۔

پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے مصافحے اور گلے ملنے کے حوالے سے تنقید کا جواب دیتے ہوئے نوجوت سنگھ سدھو نے کہا کہ پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب کرتارپور صاحب کا راستہ کھولنے کی بات کی تو یہ اْن کیلئے جذباتی لمحہ تھا، وہ روبوٹ نہیں۔ کوئی آپ کے خوابوں کو حقیقت کردے تو کیا آپ جذباتی نہیں ہوں گے ٗجنرل باجوہ کو جھپی ڈالنا فطری عمل تھا۔سدھو نے کہا کہ جنرل باجوہ جب جانے لگے تو مجھ سے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ

بھارت کرتارپور صاحب کا راستہ کھلوانے کیلئے سنجیدہ اقدام کرے، اس میں خرابی کیا ہے؟ بھارتی حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹھوس اقدام کرے اور مشرقی پنجاب کی کمیونٹی کے خواب پورے کرے۔نوجوت سنگھ سدھو کے مطابق جنرل باجوہ نے اْن سے کہا کہ وہ ہیں تو جنرل مگر کرکٹر بننا چاہتے تھے جس پر میں نے کہا کہ میں فوج میں جاناچاہتا تھا ٗ ٹیسٹ بھی پاس کیا تھا لیکن والد نے جانے نہیں دیا تو میں کرکٹر بن گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…