پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

بھارتی ریاست میں تباہ کن سیلاب،پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی بج گئی، بڑے ڈیم جلد تعمیر نہ کئے گئے تو کیا ہوگا؟ ماہرین کے انتہائی تشویشناک انکشافات

datetime 25  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)ماحولیاتی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارتی ریاست کیرالا میں سیلاب سے ہونے والی تباہی نے پاکستان کیلئے بھی سیلاب کا خطرہ بڑھادیا ہے جس سے نمٹنے کے لیے شہری آبادی اور بڑے ڈیموں کی جلد تعمیر ضروری ہے۔پاکستان کے ماحولیاتی ماہرین نے خبردار کیا کہ پاکستان خطے میں ایسے علاقے میں واقع ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوسکتا ہے اوریہ ضروری ہے کہ واٹر سیکٹر کی تمام انتظامیہ حالیہ واقعات کی روشنی میں خطرات کا جائزہ لے۔

رپورٹ کے مطابق دریائے سندھ پر بڑے ڈیمز تعمیر کرنے کے منصوبوں کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کی تحقیق پر مبنی ہونا چاہیے ٗیہ پانی کے بچاؤ میں زیادہ قابل بھروسہ طریقوں کی تلاش میں مدد فراہم کرسکتا ہے ٗاگر پالیسی ساز کوئی صحیح طریقہ کار نہیں اپناتے تو اسٹیک ہولڈرز کے درمیان پانی کی تقسیم پر تنازعات میں ایک اور وجہ کا اضافہ ہوجائیگا۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ تین دہائیوں میں دریائے سندھ پر نئے ڈیمز بنانے کے باعث دریا کے بالائی اور نشیبی علاقوں میں تنازعات جاری ہیں۔سندھ کا نشیبی علاقہ دریائے سندھ پر ڈیمز بنانے کے خلاف ہے،وہ سیلابی میدانوں اور ڈیلٹا پر بڑے ڈیموں کی تعمیر سے منفی سماجی اور ماحولیاتی اثرات کے باعث اس کی مخالفت کرتا ہے ۔ارون دھتی رائے نے اپنے ناول میں لکھا تھا کہ ایسی آفات لوگوں کے لیے بہترین اور بدترین ہوسکتی ہیں ٗ ان کا پہلا مشہور ترین ناول کوٹایم کے علاقے پر مبنی تھا جو کیرالا میں حالیہ سیلاب کی تباہی کا شکار ہے۔انہوں نے ملایالہ منوراما کے انگلش پورٹل پر لکھا کہ رواں سال کیرالا میں ، جس مون سون کا ہم انتظار کرتے ہیں اور جن دریاؤں سے ہم محبت کا اظہار کرتے ہیں وہ ہماری باتوں کا جواب دے رہے ہیں۔انہوں نے لکھا کہ میرے قلم کی سیاہی ہی میرے لیے بارش تھی اور میرا دریا مناچل تھا جس نے میری کہانی کو آگے بڑھایا اور مجھے وہ لکھاری بنایا جو میں آج ہوں۔

ماہرین کے مطابق بڑھتی ہوئی گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کی قیمت سب سے پہلے پہاڑی اور ساحلی علاقوں کو ادا کرنا پڑے گی، موسمیاتی تباہیوں کی شدت میں اب صرف اضافہ ہوگا۔ارون دھتی رائے نے لکھا کہ کیلیفورنیا جل رہا ہے ٗکیرالا ڈوب رہا ہے ٗہمارا عزیز ترین کیرالا زمین کی اس پٹی پر واقع ہے جہاں ایک طرف پہاڑ ہیں اور دوسری جانب سمندر، ہم اس سے زیادہ خطرہ نہیں لے سکتے۔مادھو گیڈگل کی رپورٹ میں ایسی ہی صورتحال کی توقع کی گئی تھی کہ

اگر حکومت کرپٹ سیاستدانوں، بزنس مین اور صنعت کاروں کی غیر منصفانہ تعمیرات کو روکنے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کرتی تو خطرناک نتائج ہوں گے۔ارون دھتی رائے نے پوچھا کہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ مرکزی واٹر کمیشن نے سیلاب کی پیش گوئی نہیں کی؟ ایسا کیسے ہوا کہ وہ ڈیم جو سیلاب کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان میں جمع ہونے والا پانی ڈیمز سے باہر آگیا جس نے اس آفت کو کئی گنا بڑھادیا۔ارون دھتی رائے گیڈگل کی تشویش سے بھی پریشان ہیں جو یہ کہتے ہیں

اگر آج کیرالا ہے تو کل گووا بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بے لگام لالچ جنگلات کی کٹائی کرکے امراء کے لیے غیر قانونی ریزورٹس اور گھروں کی تعمیر، غیر قانونی تعمیرات جنہوں نے قدرتی نکاس کو ایک مسئلہ بنادیا یے، پانی ذخیرہ کرنے کے قدرتی نظام کی تباہی ،ڈیموں کی بدانتظامی نے، جو کچھ بھی آج کیرالا میں ہورہا ہے اس میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے ٗاب پوری کیرالا ریاست میں ریسکیو کا کام جاری ہے، ایسے موقع پر کمیونسٹ حکومت کو ہندوتوا گروہ کی جانب سے جعلی خبروں کا بھی سامنا ہے۔

ہندوتوا گروہ سے قریبی تعلق رکھنے والے ایک سینئر عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ آفت خواتین کو ایک ہندو مندر میں جانے کی اجازت نہ دینے کی سزا ہے۔واضح رہے کہ بھارتی ریاست کیرالا میں مون سون بارشوں کے بعد سیلاب سے پھیلنے والی تباہی میں ہلاکتوں کی تعداد 350 سے تجاوز کرگئی ٗ ہزاروں افراد خوراک اور پانی کے بغیر بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔کیرالا میں سیلاب نے گاؤں کے گاؤں کو تہس نہس کر دیا ہے اور امدادی کارکنوں کی جانب سے ہلاکتوں میں خطرناک حد تک اضافے کا خدشہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…