جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پیرصاحب دلہن بن گئے یہ پیر دلہن بن کر کیوں بیٹھا ہے؟ عوام کو ایسی وجہ بتا دی کہ مسلمان آگ بگولا ہو گئے

datetime 18  جولائی  2018 |

حیدر آباد (نیوز ڈیسک) پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیا پر ایک دلہن بنے پیر کی تصویر وائرل ہے جس میں اس پیر کو دلہن کی طرح سج کر ایک تخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، کوئی اسے ’’مہندی والی سرکار‘‘ قرار دے رہا ہے تو کوئی اسے دلہن بتا رہا ہے لیکن جب اس کی حقیقت سامنے آئی تو لوگ حیران رہ گئے۔ ویب سائٹ پڑھ لو نے دعویٰ کیا ہے

کہ یہ پیر دراصل تصوف کے اصول ’’فنا فی اللہ‘‘ کے تحت خود کو (نعوذ باللہ) اللہ کی دلہن کے طور پر ظاہر کر رہا ہے۔ ویب سائٹ نے لکھا کہ کیا کسی کافر فرقے کے پیروکار بھی یہ قرار دے سکتے ہیں کہ ان کے پیر بابا نے (نعوذ باللہ) اللہ سے شادی کر رکھی ہے؟ ’’فنا فی اللہ‘‘ کے عقیدے کے مطابق ایک پاک بابا اپنی ذات کو اللہ میں ضم کردیتا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب وہ (نعوذ باللہ) اللہ سے شادی کر لے۔ درحقیقت اللہ کی دلہن کا مشہور واقعہ ایک اعلیٰ حضرت کی کتاب میں ہے اس واقعہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ لوگوں کا ایک گروہ ایک بابا کے پاس گیا اور بارش کے لیے اللہ سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ لوگوں کی درخواست پر پیر بابا گھر سے باہر نکلا اور اپنے دونوں ہاتھوں میں پہنی گئی چوڑیاں آسمان کی طرف کیں اور کہا یا اللہ بارش برسا نہیں تو اپنی دلہن کو اٹھالے۔ویب سائٹ نے مزید لکھا کہ اسلامک سکالر شیخ معراج ربانی اس طرح کے فرقوں کی تعلیمات کی خوب دھجیاں اڑاتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ پاک ہے اور ان تمام بیہودہ لغویات سے پاک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…