جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستانی کمپنیوں کی تیار کردہ بلڈ پریشر کی اس دوائی پر کوئی پابندی نہیں لگائی گئی بلکہ۔۔۔ڈریپ نے واضح اعلان کردیا

datetime 17  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے بلڈپریشر کی دوائی والسٹن مارکیٹ سے واپس لئے جانے یا اس پر پابندی کے حوالہ سے واضح طور پروضاحت کی ہے کہ پاکستانی کمپنیوں کی تیار کردہ والسٹن دوائی پر کوئی پابندی نہیں ہے اور صرف چینی کمپنی میسرز ذہی جیانگ ہووائے

فارما سیوٹیکلز کی طرف سے تیار کردہ اور فراہم کردہ خام مال سے تیار شدہ برانڈ ز مارکیٹ سے واپس لئے گئے ہیں ۔ ڈریپ نے اس ضمن میں مریضوں کے بہترین مفاد میں معلومات جاری کی ہیں جن کے مطابق والسٹن ادویات میں کچھ اجزاء میں آمیزش پائی گئی اور صرف متاثرہ ادویات ہی مارکیٹ سے واپس لی جار ہی ہیں جب کہ تما م مریض اپنے ڈاکٹر یا فارماسسٹ کی طرف سے منع کئے جانے تک اس دوائی کا استعمال نہ چھوڑیں۔جب آئندہ اپنے نسخہ پر دوائی لینے جائیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ کو متبادل علاج کے طور پر والسٹن سے مختلف کوئی دوسری دوائی دے دی جائے ۔ اگر آپ کے اپنے علاج کے بارے میں کوئی ابہام یا شبہ ہو تو اپنے فارماسسٹ سے بات کریں جو آپ کو آپ والی دوائی مارکیٹ سے واپس لئے جانے کے بارے میں بتا سکتا ہے۔ڈریپ کی طرف سے طبی نگہداشت کے پیشہ ورماہرین کو مطلع کیا گیا ہے کہ ذہی جیانگ ہووے فارما سیوٹیکلز کی طرف سے تیار کردہ دوائی والسٹن میں ای نائیٹرو سوڈی میتھا ئی لا مائین (این ڈی ایم اے)کی آمیزش پائی گئی ہے اور اس لئے پاکستان میں صرف ایسی والسٹن ادویات مارکیٹ سے واپس لی جا رہی ہیں جو کہ چینی کمپنی ذہی جیانگ ہوواے کی تیار کردہ اور آمیزش والی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…