جمعہ‬‮ ، 17 جولائی‬‮ 2026 

سائنس دانوں نے کروڑوں سال قبل گم ہوجانے والا براعظم دریافت کرلیا گیا

datetime 14  ستمبر‬‮  2019 |

ایمسٹرڈیم(این این آئی) سائنسدانوں نے اسپین سے ایران تک کے پہاڑی سلسلوں میں اس گمشدہ براعظم کے حصوں کو دریافت کرلیا۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق ہماری زمین کی 24 کروڑ سال پرانی تاریخ کو دوبارہ تیار کیا گیا اور بحیرہ روم کی ٹیکٹونیک یا ارضیاتی تاریخ کو بیان کیا گیا۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق گریٹر ایڈریا نامی یہ براعظم یورپ سے ٹکرانے کے بعد زمین اور سمندر کے اندر دفن گیا ہوگیا۔

جبکہ اس کا ملبہ پہاڑوں کی شکل اختیار کرگیا اور کروڑوں سال بعد بھی یہ باقیات موجود ہیں۔سائنسدانوں نے اسپین سے ایران تک کے پہاڑی سلسلوں میں اس گمشدہ براعظم کے حصوں کو دریافت کیا ہے۔تحقیق سے انکشاف ہوا کہ گریٹر ایڈریا سے ٹکرائو کے بعد ممکنہ طور پر اٹلی، ترکی، یونان اور جنوب مشرقی یورپ میں پہاڑی سلسلے بنے۔تحقیقی ٹیم کے قائد اور نیدرلینڈز کی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈووی وان ہینسبرگن نے بتایا کہ بحیرہ روم کا خطرہ درحقیقت ارضیاتی ملغوبہ ہے، ہر چیز جھکی، ٹوٹی ہوئی اور بکھری ہوئی ہے۔گریٹر ایڈریا کبھی زمانہ قدیم کے سپر براعظم گونڈوانا کا حصہ تھا جو بعد ازاں تقسیم ہوکر افریقہ، انٹارکٹیکا، جنوبی امریکا، آسٹریلیا اور ایشیا و مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔24 کروڑ سال پہلے گریٹر ایڈریا گونڈوانا سے الگ ہوا اور خود براعظم کی شکل اختیار کرلی، مگر اس کا بیشتر حصہ سمندر کے اندر ڈوبا ہوا تھا اور سائنسدانوں کے خیال میں اس براعظم میں مختلف جرائز کا گروپ بن گیا جو کہ برطانیہ یا فلپائن جیسے ہوں گے۔24 کروڑ سال پہلے یہ براعظم شمال کی جانب بڑھنے لگا اور 10 سے 12 کروڑ سال قبل اس کا ٹکرائو یورپ سے ہوا اور وہ نیچے کی جانب دھنسنے لگا، مگر چونکہ اس کی کچھ چٹانیں بہت ہلکی تھیں تو زمین کی پرت میں غائب نہیں ہوئیں۔ان دونوں کے ٹکڑائوں سے پہاڑی سلسلے جیسے الپس کی بنیاد بنی اور یہ ٹکڑائو لاکھوں یا کروڑوں برسوں میں مکمل ہوا کیونکہ ہر براعظم ہر سال محض 4 سینٹی میٹر ہی آگے بڑھتا تھا۔اس سست رفتاری کے باوجود اس ٹکڑا ئونے 60 میل موٹے براعظم کو زمین کے قطر کی گہرائی میں پہنچادیا اور اب اس کی باقیات ایک اسرار ہیں۔یہ حقیقت کہ اس کی باقیات مغربی یورپ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں، نے سائنسدانوں کے لیے حالات بہت مشکل بنادیئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…