ہفتہ‬‮ ، 10 جنوری‬‮ 2026 

فیس بک سے ہٹائے جانے والے مواد سے متعلق فہرست میں پاکستان کا دوسرا نمبر

datetime 25  مئی‬‮  2019 |

نیویارک (این این آئی)سماجی روابط کی ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے جولائی اور دسمبر 2018 کے دوران ڈیلیٹ کیے جانے والے مواد میں دو گْنا اضافہ ہوا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک کی جانب سے جاری کی گئی ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2018 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان میں 4 ہزار ایک سو 74 پوسٹس کو ڈیلیٹ کیا گیا جبکہ پہلی سہ ماہی کے دوران 2 ہزار 2 سو 3 کو ہٹایا گیا تھا۔

بھارت اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے جہاں 17 ہزار 7 سو 13 پوسٹس کو ہٹایا گیا، پاکستان اس حوالے سے دوسرے نمبر پر ہے اور برازیل 4 ہزار 26 پوسٹ ہٹائے جانے کی وجہ سے تیسرے نمبر پر ہے۔فیس بک نے پاکستان میں 3 ہزار 8 سو 11 پوسٹس، 3 سو 43 پیجز اور گروپس، 10 پروفائلز اور ایک البم کو ڈیلیٹ کیا جبکہ انسٹاگرام پر 7 پوسٹس اور 2 اکاؤنٹس کو ڈیلییٹ کیا گیا۔سماجی روابط کی ویب سائٹ کے مطابق پاکستان میں مذہبی خلاف ورزی، عدلیہ مخالف بیان، ہتک آمیز مواد اور ملک مخالف مواد سے متعلق مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر مواد کو ہٹایا گیا۔اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے فیس بک کا ڈیٹا حاصل کرنے کے لیے دی گئی درخواستوں میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا۔حکومت نے ڈیٹا سے متعلق ایک ہزار 7 سو 52 درخواستیں دی اور 2 ہزار 3 سو 60 صارفین اور اکاؤنٹس کا ڈیٹا طلب کیا جبکہ پہلی سہ ماہی میں حکومت نے ایک ہزار 2 سو 33 درخواستیں دی تھیں۔فیس بک اپنے قوانین اور شرائط کے مطابق حکومت کی جانب سے ڈیٹا کی درخواستوں کا جواب دیتی ہے اور اب تک حکومت کی 51 فیصد درخواستوں کو پورا کرچکی ہے۔سماجی روابط کی معروف ویب سائٹ کی جانب سے لیگل پراسیس کے نام پر اکاؤنٹ محفوظ کرنے کے لیے بھی درخواستیں منظور کی جاتی ہیں۔مقامی قوانین کی بنیاد پر عالمی طور پر ہٹائے جانے والے مواد کے حجم میں 135 فیصد اضافہ ہوا، فیس بک سے ہٹائے گئے مواد کی تعداد 15 ہزار 3 سو 37 سے بڑھ کر 35 ہزار 9 سو 72 ہوگئی۔رپورٹ میں فیس بک کی مصنوعات کی دستیابی پر اثر انداز ہونے والے عارضی انٹرنیٹ مسائل کو بھی بیان کیا گیا۔اس میں مزید کہا گیا کہ 2018کی ششماہی میں ہم نے 9 ممالک میں فیس بک سروسز کی 53 خرابیوں کی شناخت کی جبکہ پہلی سہ ماہی میں 8 ممالک میں 48 مرتبہ انٹرنیٹ کی وجہ سے مسائل ہوئے تھے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس عرصے میں عالمی خرابی کے 85 فیصد واقعات بھارت میں پیش آئے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…