منگل‬‮ ، 26 مئی‬‮‬‮ 2026 

روشنیوں کی آلودگی ،کیا راتیں غائب ہو رہی ہیں؟

datetime 7  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)زمین کی رات کے وقت خلا سے لی گئی تصاویر پر کی گئی ایک تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر سال مصنوعی روشنیاں زیادہ پھیل رہی ہیں۔سنہ 2012 سے 2016 کے درمیان اس سیارے پر گھروں سے باہر مصنوعی روشنیاں دو فیصد زیادہ بڑھی ہیں۔سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ بہت سارے میں ممالک میں رات کے ‘رات کے غائب’ ہونے کے

‘حیوانات، نباتات اور انسانوں’ پر منفی اثرات مرتب کررہا ہے۔سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسس میں شائع ہونے والی تحقیق میں ناسا کے سیٹلائٹ ریڈیو میٹر سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے، یہ مخصوص آلہ رات کے وقت روشنی کی پیمائش کرتا ہے۔یہ سے مختلف ممالک میں وقت کے ساتھ ساتھر روشنیوں کی تبدیلیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ دنیا کی سب سے ‘روشن ترین ممالک’ جیسا کہ امریکہ اور سپین میں تبدیلی نہیں دیکھی گئی جبکہ جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے بشتر ممالک میں زیادہ روشن ہوئے ہیں۔صرف چند ممالک میں روشنیوں میں کمی دیکھی گئی جیسا کہ یمن اور شام، جو دونوں جنگ زدہ ممالک ہیں۔رات کے وقت ساحلی علاقوں اور مکڑی کے جالوں کی طرح پھیلی شہروں کی روشنیاں دیکھنے میں خوبصورت دکھائی دیتی ہیں لیکن منصوعی روشنیوں کے انسانی صحت اور ماحول پر غیرارادی طور پر نتائج بھی مرتب ہو رہے ہیں۔جرمن ریسرچ سینٹر فار جیوسائنس ان پوٹسڈم سے وابستہ اس تحقیق کے سربراہ کرسٹوفر کائبا کا کہنا ہے کہ مصنوعی روشنی کا آغاز ‘ہمارے ماحول میں انسانوں کی جانب سے سب سے بڑی ڈرامائی طبعی تبدیلیوں میں سے ایک تھا۔’وہ اور ان کے ساتھیوں کو توقع تھی کہ وہ امیر شہروں اور صنعتی علاقوں میں روشنیوں میں کمی دیکھیں گے کیونکہ وہ سوڈیم لائٹس سے توانائی بچانے والے ایل ای ڈیز پر منتقل ہوگئے ہیں اور سیٹلائٹ کے لائٹ سینسرز ایل ای ڈیز سے خارج ہونے والے

روشنی کے نیلے حصے کی پیمائش نہیں کر سکتا۔انھوں نے بی بی سی نیوز کو بتایا: ‘میں امید کر رہا تھا کہ امیر ممالک جیسا کہ امریکہ، برطانیہ اور جرمنی، ہم مجموعی طور پر روشنیوں میں کمی دیکھیں گے، خاص طور پر بہت زیادہ روشنی والے علاقوں میں۔ اس کے بجائے ہم نے دیکھا کہ امریکہ ویسا ہی رہا اور برطانیہ اور جرمنی تیزی سے روشن ہو رہے ہیں۔

‘برطانیہ کی یونیورسٹی آف ایکزیٹر کے پروفیسر کیون گیسٹن نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ انسان ‘خود پر خلاف معمول روشنیاں طاری کر رہے ہیں۔”اب آپ کو یورپ میں کہیں بھی آسمان کی رات کے وقت قدرتی روشنی ڈھونڈنے میں مشکل پیش آتی ہے۔’وہ کہتے ہیں کہ ‘عام طور پر جب ہم سوچتے ہیں کہ انسانیت نے ماحول کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے، اس کو ٹھیک کرنا ایک مہنگا کام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…