منگل‬‮ ، 16 جون‬‮ 2026 

میک کمپیوٹرز کے لیے مخصوص وائرس ڈارک ویب پر مفت دستیاب

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپیل کے میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے افراد کو ایسے وائرسز کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے جو خصوصی طور پر ایپل کے کمپیوٹرز کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ‘رینسم ویئر’ ہے جو صارف کے کمپیوٹر کا ڈیٹا انکرپٹ کر دیتا ہے اور فائلوں تک رسائی دینے کے لیے تاوان طلب کرتا ہے۔ ٭ کیا

آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟ ٭ سائبر حملہ دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے: مائیکروسافٹ ٭ 99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں اس کے علاوہ ایک وائرس صارفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اہم معلومات حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اس لیے بھی خطرناک ہیں کیونکہ ان کے خالق انھیں مفت تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ضرر رساں پروگرام فورٹینیٹ اور ایلیئن والٹ نامی سکیورٹی کمپنیوں نے ڈارک ویب یعنی غیرقانونی اشیا کی خریدوفروخت کے لیے بنائے گئے انٹرنیٹ پر دریافت کیے ہیں ایک بلاگ میں فورٹینیٹ نے کہا ہے کہ ان وائرسز کی ویب سائٹ پر انھیں استعمال کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے خالق سے رابطہ کریں اور اپنی مرضی کے مطابق وائرس حاصل کریں۔ رینسم ویئر کے خالق کا کہنا ہے کہ تاوان میں ملنے والی رقم وائرس کے خالق اور اسے استعمال کرنے والے میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ جب فورٹینٹ کے محققین نے اس ویب سائٹ پر خریدار بن کر رابطہ کیا تو جلد ہی انھیں اس وائرس کا نمونہ فراہم کر دیا گیا۔ اس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس میں اتنی بہتر انکرپشن استعمال نہیں کی گئی جیسی کہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کمپیوٹرز کو نشانہ بنانے والے رینسم ویئر میں کی جاتی ہے۔ حال ہی میں دنیا بھر میں ہونے والے رینسم ویئر کے حملے نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کیا اور اس وقت ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ رینسم

ویئر کے اور کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈارک ویب میں موجود اس ویب سائٹ پر میکسپائی نامی سپائی ویئر بھی مفت دستیاب ہے جو ایک’ کی لاگر’ کا کام کرنے کے علاوہ سکرین شاٹس لے سکتا ہے اور مشینوں کے مائیک آن کر سکتا ہے۔ ایلیئن والٹ کے محقق پیٹر ایوین کا کہنا ہے کہ میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے صارفین کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘جیسے جیسے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم کی مارکیٹ بڑھ رہی ہے یہ خدشہ موجود ہے کہ وائرس بنانے والے افراد کی زیادہ توجہ اس پر مرکوز ہوگی۔’ میکیفی کی جانب سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں میک کو ہدف بنانے والے ساڑھے چار لاکھ وائرس موجود ہیں جبکہ ونڈوز کے لیے بنائے گئے وائرسز کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ ہے۔ فورٹینیٹ کے عامر لاکھانی کا کہنا ہے کہ میک صارفین کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی مشینوں میں موجود سافٹ ویئرز کے تازہ ترین اپ ڈیٹس ان کے پاس ہوں اور ای میل کے ذریعے وصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں بھی وہ ہوشیار رہیں۔ ای ویک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘میک رینسم ویئر یقیناً زور پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ وائرس کی مارکیٹ میں ان کا حصہ ابھی بہت کم ہے لیکن ہیکرز جانتے ہیں کہ میک پر اہم ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔’ جب ایپل سے ان وائرسز کی موجودگی اور میک پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بات کی گئی تو کمپنی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Pale Blue Dot


کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…