جمعرات‬‮ ، 30 اپریل‬‮ 2026 

میک کمپیوٹرز کے لیے مخصوص وائرس ڈارک ویب پر مفت دستیاب

datetime 15  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(ویب ڈیسک) اپیل کے میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے افراد کو ایسے وائرسز کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے جو خصوصی طور پر ایپل کے کمپیوٹرز کے لیے ہی بنائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ‘رینسم ویئر’ ہے جو صارف کے کمپیوٹر کا ڈیٹا انکرپٹ کر دیتا ہے اور فائلوں تک رسائی دینے کے لیے تاوان طلب کرتا ہے۔ ٭ کیا

آپ کا کمپیوٹر خطرے میں ہے؟ ٭ سائبر حملہ دنیا کے لیے ایک انتباہ ہے: مائیکروسافٹ ٭ 99 ممالک غیرمعمولی سائبر حملے کی زد میں اس کے علاوہ ایک وائرس صارفین کی سرگرمیوں پر نظر رکھ کر اہم معلومات حاصل کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس اس لیے بھی خطرناک ہیں کیونکہ ان کے خالق انھیں مفت تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ دونوں ضرر رساں پروگرام فورٹینیٹ اور ایلیئن والٹ نامی سکیورٹی کمپنیوں نے ڈارک ویب یعنی غیرقانونی اشیا کی خریدوفروخت کے لیے بنائے گئے انٹرنیٹ پر دریافت کیے ہیں ایک بلاگ میں فورٹینیٹ نے کہا ہے کہ ان وائرسز کی ویب سائٹ پر انھیں استعمال کرنے کے خواہشمند افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ان کے خالق سے رابطہ کریں اور اپنی مرضی کے مطابق وائرس حاصل کریں۔ رینسم ویئر کے خالق کا کہنا ہے کہ تاوان میں ملنے والی رقم وائرس کے خالق اور اسے استعمال کرنے والے میں برابر تقسیم کی جائے گی۔ جب فورٹینٹ کے محققین نے اس ویب سائٹ پر خریدار بن کر رابطہ کیا تو جلد ہی انھیں اس وائرس کا نمونہ فراہم کر دیا گیا۔ اس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ اس میں اتنی بہتر انکرپشن استعمال نہیں کی گئی جیسی کہ ونڈوز آپریٹنگ سسٹم پر چلنے والے کمپیوٹرز کو نشانہ بنانے والے رینسم ویئر میں کی جاتی ہے۔ حال ہی میں دنیا بھر میں ہونے والے رینسم ویئر کے حملے نے 150 ممالک میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کو متاثر کیا اور اس وقت ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ رینسم

ویئر کے اور کیس سامنے آ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈارک ویب میں موجود اس ویب سائٹ پر میکسپائی نامی سپائی ویئر بھی مفت دستیاب ہے جو ایک’ کی لاگر’ کا کام کرنے کے علاوہ سکرین شاٹس لے سکتا ہے اور مشینوں کے مائیک آن کر سکتا ہے۔ ایلیئن والٹ کے محقق پیٹر ایوین کا کہنا ہے کہ میک کمپیوٹرز استعمال کرنے والے صارفین کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ‘جیسے جیسے ایپل کے آپریٹنگ سسٹم کی مارکیٹ بڑھ رہی ہے یہ خدشہ موجود ہے کہ وائرس بنانے والے افراد کی زیادہ توجہ اس پر مرکوز ہوگی۔’ میکیفی کی جانب سے جمع کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق دنیا میں میک کو ہدف بنانے والے ساڑھے چار لاکھ وائرس موجود ہیں جبکہ ونڈوز کے لیے بنائے گئے وائرسز کی تعداد دو کروڑ تیس لاکھ ہے۔ فورٹینیٹ کے عامر لاکھانی کا کہنا ہے کہ میک صارفین کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کی مشینوں میں موجود سافٹ ویئرز کے تازہ ترین اپ ڈیٹس ان کے پاس ہوں اور ای میل کے ذریعے وصول ہونے والے پیغامات کے بارے میں بھی وہ ہوشیار رہیں۔ ای ویک سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘میک رینسم ویئر یقیناً زور پکڑ رہے ہیں۔ اگرچہ وائرس کی مارکیٹ میں ان کا حصہ ابھی بہت کم ہے لیکن ہیکرز جانتے ہیں کہ میک پر اہم ڈیٹا موجود ہوتا ہے۔’ جب ایپل سے ان وائرسز کی موجودگی اور میک پر ان کے ممکنہ اثرات کے بارے میں بات کی گئی تو کمپنی کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی بھی تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص


میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…