پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان اور انٹارکٹیکاکا کروڑوں سال پرانا تعلق، سائنسدانوں کا ناقابل یقین انکشاف‎

datetime 16  دسمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سائنسدانوں نے انکشاف کیاہے کہ کسی زمانے میں پاکستان قطب جنوبی میں تھااورآسٹریلیااورانٹارکٹیکاہمسائے میں تھے ۔انہوں نے اپنے موقف میں کہاہے کہ واقعہ تقریبا30کروڑسال پراناہے اوراس وقت دنیاکے تمام ممالک ایک براعظم میںتھے جسے یہ ماہرین ’’پین جیا‘‘کانام دیتے ہیں ۔تاہم سائنسدانوں کااس بارے میں کہناہے کہ براعظموں کاٹوٹ جانے کا سلسلہ اربوں سال پراناہے اور ’’پین جیا‘‘ اس سلسلے کا وہ تازہ واقعہ ہے جب دنیا کے تمام براعظم ایک ہی جگہ پر، ایک ہی براعظم کی شکل میں موجود تھے جب کہ ان کے گرد ایک وسیع سمندر پھیلا ہوا تھا۔

ان کاکہناہے کہ آج سے 30 کروڑ سال پہلے بھی یہ ٹکڑے مسلسل حرکت کررہے تھے جس کی وجہ سے ’’پین جیا‘‘ بتدریج مختلف براعظموں میں ٹوٹتا چلا گیا اور یہ براعظم آہستہ آہستہ سرکتے ہوئے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے گئے۔ آج سے لگ بھگ 5 کروڑ سال پہلے انڈین پلیٹ نے یورپ اور ایشیا پر مشتمل ٹیکٹونک پلیٹ (یوریشین پلیٹ) سے ٹکرانا شروع کیا جس کی وجہ سے اس کی رفتار کم ہوتے ہوتے موجودہ 65 ملی میٹر سالانہ جتنی رہ گئی لیکن ساتھ ہی ساتھ اس عظیم تصادم کے نتیجے میں ہمالیہ کا پہاڑی سلسلہ بھی وجود میں آیا جوآج دنیاکابلندترین سلسلہ ہے
ماہرین کاکہناہے کہ کئی کروڑ سال پہلے برصغیرکے شمال اوراب پاکستان کے مغرب میں افغانستان اورایران کی سرحد تک ،اس پٹی میں کئی بارزلزلے آئے اوران زلزلوں کی وجہ انڈین پلیٹ کاریویشین پلیٹ کے ساتھ تصادم اب بھی جاری ہے ۔ان کاکہناہے کہ ہمالیہ کی پٹی میں ہرسال بھارتی پلیٹ رفتہ رفتہ یوریشین کے نیچے کھسک رہی ہے اوراس لئے کہاجاتاہے کہ ہمالیہ بھارت کوکھارہاہے ۔ماہرین اراضیات کاکہناہے کہ پہلے ایک براعظم تھاجوبعدمیں پلیٹوں کے کھسکنے کی وجہ کئی ٹکڑے بن گئے ہیں۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…